• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

26 اگست کی بدقسمت صبح اسلام آباد کے سرکاری اسپتال پمز میں نو مولود بچوں کی نرسری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ 15میں سے 14 ننھی جانیں اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ یہ ایک انتہائی افسوناک واقعہ تھاجو ہمارے اداروں کی کارکردگی اور حقیقت آشکار کر گئی کہ ملک کے تمام ادارے خواہ وہ صحت ،تعلیم ،عدل و انصاف یا امن و عامہ ہوں سب کے سب ناکام اور پستی کی انتہا کو چھو رہے ہیں جہاں سے عوام کو کوئی فلاح کی امید نہیں ۔ اُدھر وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام پمز میں حادثے کے بعد سیکٹری صحت کو معطل کر کے تحقیقات شروع کروا دی گئیں ۔29اگست کو انکوائری کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق معاملہ صرف آگ لگنے تک ہی نہیں بلکہ ہسپتال میں مجموعی اور انتظامی خامیوں کی نشاندہی اور سہولیات عالمی معیار سے کم قرار دی گئیں۔ جبکہ فائر سیفٹی نظام، ایمرجنسی رسپانس اور عملے کی عدم موجودگی کی نشاندہی بھی کی گئی۔ انکوائری رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ آگ محض ایک اتفاقیہ حادثہ نہیں بلکہ سالوں سے جاری پمز انتظامیہ کی نااہلی، ذمہ داریوں سے غفلت، لاپرواہی، وسیع تر خامیوں کے باعث ہے۔ایمرجنسی سہولیات، حفاظتی انتظامات اور حادثات سے نمٹنے کے لیے تیاری کے فقدان کی جانب بھی توجہ دلائی گئی۔ کمیٹی نے حادثے کو فنڈز کی کمی سے منسوب نہیں کیا کیونکہ پمز کا بجٹ ہر سال کی طرح بڑھا کر امسال تقریباً ساڑھے آٹھ ارب روپیہ مختص کیا گیا ہے جو علاج کی معیاری سہولیات دینے کے لئے کم نہیں ۔ وفاقی وزارتِ صحت کی ناک کے نیچے دو میں سے ایک جنرل اسپتال پمز کی کارکردگی پر نومبر 2025 میں وفاقی محتسب کی انسپیکشن ٹیم نے اسپتال کے وارڈوں کی خستہ حالت ،ناکافی صفائی اور غیر معیاری مضر صحت ماحول پر اظہار تشویش کیا تھا۔بعینی 2025 میں وفاقی سروس ٹربیونل نے بھی اسپتال انتظامیہ کو ڈائریکٹر فنانس تعینات نہ کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔ وزارتِ صحت کو بھی اس ادارے کی خراب کارکردگی کا جوابدہ ٹہرایا جانا چاہیے جبکہ مالی معاملات کے حوالے سے کسی غیر جانبدار ادارے سے آڈٹ کروانا بھی ضروری ہے۔درحقیقت پاکستانی معاشرہ پوری طرح سے ایلیٹسٹ( اشرافیہ) طبقہ، متوسط طبقہ اور محروم طبقے میں بٹ چکا ہے۔ اشرافیہ تو مہنگے پرائیویٹ اسپتالوں یا بیرونی ممالک میں اپنا علاج کرواتا ہے جبکہ اعلیٰ سرکاری افسران جو بیرون ملک نہیں جا سکتے وہ سرکاری اسپتالوں میں وی آئی پی وارڈوں اور خصوصی فنڈز سے اعلیٰ سے اعلیٰ اور بہترین علاج کرواتے ہیں۔ پمز میں نسبتاً کم قیمت پر یا مفت علاج ہوتا ہےلیکن زیادہ تر فنڈز حقدار، ضرورت مند اور مستحق افراد تک پہنچ ہی نہیں پاتے بلکہ کرپشن،خورد برد، افسران کےاللّے تلّلوں اور اعلیٰ افسران کے علاج پر استعمال ہوجاتے ہیں۔ 14 نومولود پھولوں کے دکھی والدین کے سماجی اور معاشی پسِ منظر کے متعلق تو زیادہ معلوم نہیں ہو سکا لیکن قوی گمان ہے کہ ان میں کوئی اعلیٰ سرکاری افسر، سیاستدان یا بااثر خاندان سے تعلق نہیں رکھتا تھا وگرنہ معاملات کسی اور نہج و سطح پر ڈیل ہوتے۔ اب لوگ سوال کر رہے ہیں کہ سیکرٹری صحت کو معطل کیا گیا تو پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو کیوں نہیں؟ جبکہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی ملازمت پر موجودگی میں شفاف اور بے لاگ انکوائری ممکن ہی نہیں کیونکہ وہ موقع پر موجود رہ کر ہر قدم پر انکوائری کمیٹی کی تفتیش میں رخنہ ڈال سکتے ہیں۔ ویسے انکوائری کمیٹی جو بھی گذارشات اور سفارشات کرے، نتیجہ وہی "ڈھاک کے تین پات" ہی نکلے گا جیسا کہ ایسے معاملوں میں ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔

پاکستانی قوم کا المیہ یہ ہے کہ روزانہ کوئی نہ کوئی ایسا حادثہ یا واقعہ رونما ہوتا ہے جس میں متاثرین کی شنوائی نہیں ہوتی، ذمہ داروں کو بچا لیا جاتا ہے اور معاملہ ایسے لٹکایا جاتا ہے کہ متاثرہ خاندان در بدر ٹھوکریں کھا کر خاموش ہو جاتا ہے۔ کسی محکمے، ادارے، عہدیدار، ظالم یا جابر کا احتساب نہیں ہوتا۔میڈیا بھی چند روز خبریں لگا کر اپنی ذمہ داری پوری کر دیتا ہے۔ قانون و انصاف یہاں واقعی طاقتور اور مالدار کے گھر کی باندی ہے یعنی انصاف سرے سے ناپید اور مظلوم نامراد ! ملک کے ہر ادارے میں کرپشن عروج پر ہے، نا اہل اعلیٰ سرکاری عہدوں پر میرٹ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے تعینات ہیں جبکہ اہل اور قابل اپنوں سے دور، دیارِ غیر میں معمولی ملازمتوں پر کام کر رہے ہیں۔ رشوت ستانی، نااہلوں کی تگڑی سفارشیں،اثر رسوخ کا ناجائز استعمال آج معاشرے میں اس حد تک پھیل چکا ہے کہ اگر کہیں ایک بھرتی بھی میرٹ پر ہوئے تو معجزے سے کم نہیں۔ نوجوان مستقبل سے مایوس اور ناامید اپنی تمام تر توانائیاں سستے نشوں، آوارہ گردی اور سوشل میڈیا پر ضائع کر رہے ہیں حتیٰ کہ کھیلوں کے میدان میں بھی بری طرح سے مار کھا رہے ہیں۔ پاکستان آج ایک ایسا تالاب بن چکا ہے جس پر 78 سال سے نااہلی کی کائی کی ایسی موٹی تہ جم چکی ہے کہ کوئی چھوٹی مچھلی کائی کی اس مضبوط تہ کو توڑ کر سر باہر نہیں نکال سکتی۔ اس پر قوم کو سیاست دانوں نے اس درجہ غلط فہمی کے جال میں الجھایا ہوا ہے کہ ہم سے بہتر کوئی نہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہمارا کوئی ادارہ یا محکمہ قانون کے مطابق عمل نہیں کر رہا۔شاہانہ عمارتیں،بڑے بڑے بجٹ ،سرکاری ملازمین کی فوج ظفر موج مگر کارکردگی صفراورعوام کے لئے کوئی آسانی یا ریلیف نہیں۔ میرٹ کے دشمن اپنی قانون شکنی پر نازاں ہوتے ہیں لیکن دوسروں سے قانون پر عمل کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ خود غرضی کاشکار ہم اصول پسند، ایماندار، دیانتدار کو جاہل اور کم عقل سمجھتے ہیں جبکہ مکر ، فریب، اس کی ٹوپی اس کے سر رکھنے والا ہمارا ہیرو ہے۔ گرے ہوئے کا ہاتھ پکڑ کر اٹھانے کے بجائے اس پر ہنستے اور ٹھٹھا کرتے ہیں، باکردار کی قدر کرنے کے بجائے بد کردار کو مسند عزت پر بٹھاتے ہیں۔ اساتذہ کا احترام بھول چکے جبکہ تعلیم ذہنی ارتقاء کے لیے نہیں بلکہ محض مال ودولت بنانے کے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دینی اور معاشرتی اقدار کی پاسداری تو کجا ،دین کا مذاق اڑانا بھی آج کا فیشن بن گیا ہے۔ آج ہمارامعاشرہ پستی کی انتہا کو چھو رہا ہے۔

کیا یہی وہ ہمارے اسلاف کا راستہ ہے جس پر چل کر ہم کامیابی کے زینے طے کرسکیں گے؟ کیا ترقی صرف معاشی ترقی کا ہی نام ہے؟ کیا نظریۂ پاکستان ھل من مزید ،مادیت پرستی اور صرف ہماری ذات کے لئے تھا یا اس کے کچھ اور مقاصد تھے؟ کیا ہم اپنی منزلِ مراد سے بھٹک نہیں گئے ؟ بے شک ہم آج ظالموں میں شامل ہو گئے ہیں! صحیح راستہ تلاش کرنے کے لئے سب سے پہلے ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا ،ہمیں خود کو درست کرنا ہوگا وگرنہ سال کے 365 دن یونہی ظلم و جبر کے ہوں گے اور ظلم و ناانصافی ہی راج کریں گے!

نا اہل کو حاصل ہے کبھی قوت و جبروت

ہے خوار زمانے میں کبھی جوہر ذاتی

تازہ ترین