• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسی زمانے میں آزاد کشمیر کو پاکستانی سیاست کی لیبارٹری کہا جاتا تھا۔ اس لیبارٹری میں نت نئے سیاسی تجربات کئے جاتے اور پھر وہ تجربات پاکستانی سیاست میں دہرائے جاتے۔ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ یہ لیبارٹری اب ایک سرکس بنتی جا رہی ہے جس میں مختلف مداری بڑے بے ہنگم انداز میں اپنے اپنے کرتب دکھا رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان مداریوں کے کسی بھی کرتب میں ہاتھ کی صفائی نظر نہیں آتی۔ وہ اس لیبارٹری میں کئے جانیوالے کچھ پرانے سیاسی تجربات کو بڑے فخریہ انداز میں ایک نئے کرتب کے طور پر پیش کرتے ہیں اور جب انہیں داد نہیں ملتی تو بہت بُرا مناتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں وزیراعظم کے حالیہ الیکشن کو ہی دیکھ لیں۔ مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر میں اپنی پارٹی کے صدر اور سابق اسپیکر شاہ غلام قادر کو نظر انداز کر کے مسلسل دو دفعہ الیکشن ہارنے والے افتخار گیلانی کو وزیراعظم بنا دیا۔ یہ صاحب 2026ء کا الیکشن ہارنے کے بعد ٹیکنوکریٹ کی نشست پر اسمبلی میں لائے گئے۔ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر رکن اسمبلی بنتے ہی کچھ صاحبان اختیار نے انہیں وزارتِ عظمیٰ کے امیدواروں کی فہرست میں شامل کر لیا۔ افتخار گیلانی کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ لائی گئی کہ وہ بہت پڑھے لکھے ہیں۔ اگر یہ دلیل واقعی مان لی جائے تو پھر انکے اپنے حلقے کے عوام نے اتنے لائق فائق امیدوار کے حق میں فیصلہ کیوں نہ دیا؟ شاہ غلام قادر آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے بانیوں میں شامل ہیں۔ وہ سردار سکندر حیات اور راجہ فاروق حیدر کے ہمراہ 2010ء میں مسلم کانفرنس چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں آئے۔ سردار سکندر حیات واپس مسلم کانفرنس میں چلے گئے لیکن راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر مسلم لیگ (ن) کیساتھ کھڑے رہے۔ آزاد کشمیر کے حالیہ الیکشن میں بھی شاہ غلام قادر نے پارٹی کے صدر کی حیثیت سے بہت محنت کی۔ انکا کمال یہ ہے کہ وہ 1998ء میں پہلی دفعہ ایک مہاجر نشست پر آزاد کشمیر اسمبلی کے رکن بنے۔ ان کے خاندان کے کئی افراد آج بھی مقبوضہ کشمیر میں رہتے ہیں۔ وہ آئندہ بھی مہاجر نشست پر کامیاب ہو سکتے تھے لیکن انہوں نے وادی نیلم میں بڑی محنت سے اپنا انتخابی حلقہ بنایا۔ 2016ء میں وادیٔ نیلم سے جنرل سیٹ پر پہلی دفعہ الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے۔ 2026ء کے الیکشن میں انہیں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا تھا لیکن انہوں نے پارٹی کے صدر کی حیثیت سے پورے آزاد کشمیر میں انتخابی مہم چلائی انہوں نے اپنی نشست بھی جیتی اور مسلم لیگ (ن) کو بھی تاریخی کامیابی دلوائی، لیکن افتخارگیلانی کے کچھ حامی یہ کہتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حالیہ کامیابی کے پیچھے کوئی اور ہے، یہ کوئی اور دراصل مریم نواز صاحبہ ہیں جو خود بھی کہتی ہیں کہ آزاد کشمیر کے عوام نے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی کو ووٹ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) اگر آزاد کشمیر میں اتنی ہی مقبول تھی تو پھر تمام تر ریاستی طاقت کے استعمال کے باوجود پونچھ کی سات نشستوں پر ابھی تک الیکشن کیوں نہ ہو سکا؟ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ افتخار گیلانی کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ پارٹی کے قائد نواز شریف نے کیا ہے کیونکہ وہ آزاد کشمیر میں کوئی نیا چہرہ متعارف کرانا چاہتے تھے۔ اگر نواز شریف کو یہ نیا چہرہ اتنا ہی پسند تھا تو انہوں نے خود افتخار گیلانی کیساتھ بیٹھ کر آزاد کشمیر کیلئے اس نئے چہرے کا اعلان کیوں نہیں کیا؟ نواز شریف صاحب پر اور کسی معاملے میں تو تنقید کی جاسکتی ہے لیکن افتخار گیلانی کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنانے کا فیصلہ انکا نہیں ہے۔ میرے علم کے مطابق جب شاہ غلام قادر کو یہ خبر ملی کہ ٹیکنوکریٹ نشست پر رکن اسمبلی بننے والے افتخار گیلانی کو وزیراعظم بنایا جا رہا ہے تو انہوں نے اپنے قائد نواز شریف کو بڑے مؤدبانہ انداز میں ایک وائس میسج بھیجا۔ اس میسج میں انہوں نے کہا کہ اگر مسلسل دو مرتبہ الیکشن ہارنے والے شخص کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنایا گیا تو یہ فیصلہ انہیں قبول نہ ہو گا اور وہ مسلم لیگ (ن) کا عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے، تاہم وہ ایک کارکن کے طور پر پارٹی کیلئے کام کرتے رہیں گے۔ یہ وائس میسج سن کر نواز شریف نے شاہ غلام قادر کو فون کیا اور پوچھا کہ آپکو کس نے بتایا ہے کہ افتخار گیلانی کو وزیراعظم بنایا جا رہا ہے؟ شاہ غلام قادر نے بڑے احترام سے جواب دیا کہ میں آزاد کشمیر میں آپکی پارٹی کا صدر ہوں، میرے نو منتخب ساتھی مجھے بتا رہے ہیں کہ ایک ٹیکنوکریٹ کو وزیراعظم بنایا جا رہا ہے اور انہیں اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔ اُنکے قائد نواز شریف نے اس خبر کی سختی سے تردید کر دی اور شاہ غلام قادر سے کہا کہ آپ اپنا وائس میسج ڈیلیٹ کریں۔ پھر نواز شریف نے اُن سے پوچھا کہ آزاد کشمیر اسمبلی کیلئے اسپیکر کسے بنایا جائے؟ شاہ غلام قادر نے چوہدری طارق فاروق کا نام دیا۔ ڈپٹی اسپیکر کیلئے بھی انہوں نے دوتین نام دیئے اور اس سلسلے میں آخری فیصلہ نواز شریف پر چھوڑ دیا۔ قائد محترم نے شاہ غلام قادر کو مریم نواز کا سلام بھی پہنچایا جو انکے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔ بات ختم ہو گئی۔ دو دن کے بعد اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا الیکشن ہو گیا۔ اب شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر کو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد بلایا گیا۔ پہلے تو تمام فیصلے نواز شریف کر رہے تھے لیکن اس مرتبہ انہیں شہباز شریف نے بلایا تھا۔ آہ غلام قادر دھڑکتے دل کیساتھ وزیراعظم کے پاس پہنچے۔ وزیراعظم ہاؤس میں ہونیوالے اس اجلاس میں شہباز شریف کے علاوہ رانا ثناء اللہ، خواجہ سعد رفیق اور کچھ دیگر افراد بھی موجود تھے۔ اس اجلاس میں رانا ثنا اللہ کی طرف سے افتخارگیلانی کو آزاد کشمیر کے وزیراعظم بنانے کا فیصلہ سنایا گیا تو شاہ غلام قادر سے قبل راجہ فاروق حیدر نے اس فیصلے کو مسترد کردیا۔ شاہ غلام قادر نے کہا کہ آپ مجھے وزیراعظم نہ بنائیں لیکن ہمارے منتخب ارکان میں بہت سے پڑھے لکھے ساتھی ہیں آپ اُن میں سے کسی کو بھی وزیراعظم بنا دیں میں اسے ووٹ دیدونگا لیکن میں ایک غیر منتخب شخص کو وزیراعظم کا ووٹ نہیں دونگا۔ شہباز شریف نے بڑی کوشش کی کہ شاہ غلام قادر مان جائیں لیکن انہوں نے کسی کے ہاتھ کا دستانہ بننے سے معذرت کر لی۔ آزاد کشمیر میں یہ تجربہ پہلی دفعہ نہیں ہو رہا۔ جنرل ایوب خان نے بھی 1961ء میں کے ایچ خورشید کو سردار ابراہیم اور سردار قیوم کے مقابلے میں ایک نئے چہرے کے طور پرمتعارف کرایا اور صدر آزاد کشمیر بنوایا۔ کے ایچ خورشید نے یونیورسٹی آف لندن سے لا کی ڈگری حاصل کی تھی لیکن کچھ دنوں کے بعد یہ تجربہ ناکام ہونے پر انہیں صدارت سے نکال دیا گیا۔ پھر کئی سال کے بعد بیرسٹر سلطان محمود کو وزیراعظم بنایا گیااور کہا گیا کہ وہ ایک نیا چہرہ ہیں۔ مرحوم نے پارٹیاں تو بہت بدلیں مگر آزاد کشمیر کے حالات نہ بدل سکے۔ ایک بہت بڑا فرق یہ ہے کہ کے ایچ خورشید اور بیرسٹر سلطان محمود الیکشن جیت کر آئے تھے۔ افتخار گیلانی پچھلے دو الیکشن ہار چکے ہیں۔ وہ آزادکشمیر کے وزیراعظم تو بن گئے اور شاہ غلام قادر کو منانے انکے گھر بھی پہنچ گئے لیکن اب وہ پاکستانی سیاست کیلئے خطرے کی گھنٹی بن چکے ہیں۔ انکے وزیراعظم بننے سے عوامی ایکشن کمیٹی کے بیانیے کو مزید تقویت ملے گی جس نے آزاد کشمیر کے الیکشن کو فراڈ قرار دیا تھا۔ اب پاکستان کے سیاستدان بھی شاہ غلام قادر کی طرح اپنے حلقے میں محنت کرنے کی بجائے افتخار گیلانی کی طرح کسی اور کو خوش کرنے کے راستے پر چلیں گے۔ شاہ غلام قادر کو آزاد کشمیر کا صدر بنانے کی پیشکش کی جا چکی ہے۔ تادم تحریر انہوں نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔ انہیں جو عزت و احترام پچھلے چند دنوں سے مل رہا ہے وہ وزیراعظم بننےسے کبھی نہ ملتا۔ آزاد کشمیر کے الیکشن کمیشن میں مسلم لیگ (ن) انکے نام پر رجسٹرڈ ہے ۔ انہیں چاہیے کہ یہ رجسٹریشن بڑے ادب و احترام کیساتھ نواز شریف کے حوالے کردیں کیونکہ اب اس جماعت کا مستقبل آزادکشمیر میں بہت مخدوش ہے۔ شاہ صاحب ہمت کریں اور نوازشریف کو یہ بھی بتا دیں کہ آزادکشمیر میں دو دفعہ الیکشن ہارنے والے ٹیکنوکریٹ کو وزیراعظم بنانے کے بعد اب پاکستان میں بھی کسی ٹیکنوکریٹ کی آمد آمد ہے۔

تازہ ترین