وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے اسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں 14نومولود بچوں کی موت نے حکومت کے زیر انتظام چل رہے اسپتالوں کی کارکردگی کا پول ایک بار پھر کھول دیا ہے۔ تحقیقات کیلئے بنائی گئی کمیٹی کی سفارشات پر پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8افراد کو معطل کیا جاچکا ہے اور ان کیخلاف فوجداری کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے لیکن کیا اس طرح کی تادیبی کارروائیوں سے سب ٹھیک ہو جائیگا؟ ہرگز نہیں۔ میں برسہا برس سے کہتا چلا آرہا ہوں کہ اگر وطن عزیز میں صحت اور تعلیم کا نظام ٹھیک کرنا ہے تو اسکا ایک ہی طریقہ ہے کہ تمام پبلک آفس ہولڈرز کو اس کے رحم وکرم پر چھوڑ دیں۔ یعنی نائب قاصد سے چیف سیکریٹری اور یونین کونسل کے چیئرمین سے وزیراعظم تک جو بھی شخص سرکاری خزانے سے مراعات وصول کرتا ہے یا تنخواہ لیتا ہے اس کے بچے سرکاری اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھیں گے اور ضرورت پڑنے پر وہ نہ صرف اپنا بلکہ اہل خانہ کا علاج بھی سرکاری اسپتال سے کروانے کا پابند ہوگا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اشرافیہ کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں یا پھر اندرون ملک مہنگے تعلیمی اداروں میں داخلہ لیتے ہیں ۔ معمولی نوعیت کے طبی مسائل کیلئے بھی نجی اسپتالوں سے رجوع کیا جاتا ہے اور یہ روایت بہت پرانی ہے۔ جب میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم نواب لیاقت علی خان کے قتل پر تحقیق کررہا تھا تو معلوم ہوا کہ اکتوبر 1951ء میں جب وزیراعظم لیاقت علی خان کو بھرے جلسے میں گولی مار کر قتل کردیا گیا تو بری فوج کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان پیچش جیسے معمولی مرض کے علاج کیلئے لندن گئے ہوئے تھے۔ بعد ازاں فوج نے تو اس رجحان کی حوصلہ شکنی کی اور اب فوجی جوان سے جرنیل تک سب کا علاج سی ایم ایچ میں ہوتا ہے مگر بیوروکریسی اور سیاسی اشرافیہ میں یہ رجحان کسی خوفناک مرض کی طرح سرایت کرچکا ہے۔ شہباز شریف کی کمر میں درد ہو، نوازشریف کے پلیٹ لیٹس گر جائیں، آصف زرداری کی طبیعت ناساز ہو ،مریم نواز نے سرجری کروانی ہو یا پھر اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کے طبی معائنے کی ضرورت ہو، نجی اسپتالوں پر ہی انحصار کیا جاتا ہے۔ جب عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کو سرکاری تعلیمی اداروں اور اسپتالوں کا پابند کرنے کی بات کی جاتی ہے تو کچھ لوگ یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ ان کے پاس مال و دولت کی کوئی کمی نہیں، اپنے خرچ پر بچوں کو پڑھانا ہے یا علاج کروانا ہے تو کسی پر کوئی قدغن کیسے لگائی جاسکتی ہے ۔ایک عام پاکستانی شہری جو اس نظام کا بینیفشری نہیں، وہ کوئی جاگیردار ہویاپھر کاروباری شخصیت، بہت شوق سے نجی تعلیمی اداروں یا اسپتالوں کا رُخ کرے ،کسی کو کوئی اعتراض نہیں لیکن اگر آپ اس نظام کے پتھارے دار ہیں ،سرکار چلاتے ہیں، فیصلے سناتے ہیں ،ان اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو ٹھیک کرنا آپ کی ذمہ داری ہے تو پھر یہ پابندی قبول کرنا ہوگی ۔بھارت کی مشہور ویب سیریز ’’مرزاپور‘‘میں قالین بھیا کے کارخانے میں ’’کٹے‘‘یعنی مقامی طور پر تیار کئے جارہے پستولوں کا دھندہ چوپٹ ہونے لگتا ہے کیونکہ خام لوہے کی کوالٹی بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ٹریگر دباتے ہی یہ ہاتھوں میں پھٹ جاتے ہیں۔ جونہی یہ قانون بنایا جاتا ہے کہ کھیپ تیار ہونے کے بعد کارخانے کا کوالٹی کنٹرول منیجر خود یہ پستول چلا کر ان کے معیار کو چیک کرئیگا ،ملاوٹ ختم ہو جاتی ہے ۔یہاں بھی جب تک بدانتظامی اور نااہلی کے ’’کٹے ‘‘ان کے اپنے ہاتھوں میں نہیں پھٹیں گے، انہیں عام آدمی کی مشکلات کا احساس اور اِدراک نہیں ہوگا۔ یہ وہ سوداگر ہیں جنہوں نے لوگوں کی زندگیاںاجیرن کررکھی ہیں مگر چونکہ انکی اپنی اولاد کو کوئی خطرہ نہیں ،اس لئے یہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ یہ تعلیمی ادارے اور اسپتال جنہیں سرکار چلاتی ہے ،یہ بھی انکی پراڈکٹ ہے اور کوالٹی کنٹرول کیلئے اسےسب سے پہلے خود ان پر آزمایا جائے۔
میرے جیسے لوگ طویل عرصہ سے یہ بات تو کہتے چلے آرہے تھے مگر سوال یہ تھا کہ تمام سرکاری ملازمین، ججوں اور عوام کے منتخب نمائندوں کو پابند کون کرے؟ ظاہر ہے اس حوالے سے پارلیمنٹ ہی قانون سازی کرسکتی ہے اور وہ لوگ خود اپنے پیروں پر کلہاڑی کیوں ماریں گے؟ لیکن سینیٹر پرویز رشید بارش کا پہلا قطرہ بنے اور سانحہ پمز کے بعد انہوں نے سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے باضابطہ طور پر یہ تجویز پیش کی کہ تمام لوگ جو حکومت پاکستان سے تنخواہ لیتے ہیں، انکے کسی غیر سرکاری یا نجی اسپتال سے علاج کروانے پر پابندی عائد کی جائے۔پرویز رشید نے فرمایا، میں دعوے سے کہتا ہوں کہ آپ آج یہ قانون بنائیں، مہینوں میں نہیں ،ہفتوں میں پاکستان کے اسپتالوں کی حالت بین الاقوامی معیار کے اسپتالوں کے برابر ہو جائیگی۔میں پرویز رشید صاحب سے گزارش کرتا ہوں کہ انہوں نے ہمت کرکے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال ہی دیا ہے تو محض تقریر پر انحصار نہ کریں بلکہ ایوان بالا کے رُکن کی حیثیت سے بذات خود یہ قانون پیش کریں اور ہم سب مل کر اس قانون کی منظور ی کی تحریک چلائیں۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان جنہوں نے عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی ہے اور جماعت اسلامی گزشتہ دو ہفتوں سے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے نام پر لئے جارہے حکومتی بھتے کیخلاف دھرنا دیئے بیٹھی ہے ،میری ان سے بھی التماس ہے کہ اس مطالبے کو اپنی تحریک کا حصہ بنائیں کوئی ساتھ دے یا نہ دے ،آپ قدم بڑھائیں اور اپنے حصے کی شمع جلائیں ۔پرویز رشید زمانہ طالب علمی میں گورڈن کالج راولپنڈی سے بائیں بازو کی طلبہ تنظیم سے منسلک رہے اور حافظ نعیم الرحمان دائیں بازو کی نمائندگی کرتے ہیں مگر میری سادگی ملاحظہ فرمائیں ،میں چاہتا ہوں کہ یہ دونوں اصحاب دائیں اور بائیں کی تقسیم سے بالاتر ہوکر اس عوامی مطالبے کی تکمیل کیلئے جدوجہد کریں ۔