• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کا صفحہ: ایک، دو اشتہارات کے ساتھ 16صفحات ...

السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

سہل وعمدہ انداز میں، بہترین شخصیات کا تعارف

اُمید کرتی ہوں، میگزین کی انتظامیہ اور قارئین بخیریت ہوں گے، آج کافی عرصے بعد، بہت ہمّت کر کے خط لکھنے بیٹھ ہی گئی ہوں۔ یوں تو ہر میگزین ہی ایک گل دستے کی مانند پُرکشش پھولوں (موضوعات) سے سجا ہوتا ہے، لیکن7 جون کے شمارے میں ’’بایو ٹیکنالوجی، ڈکٹیٹر شپ اور چائے کا رومان‘‘ جیسے موضوعات پر سائنسی اور نفسیاتی مضامین بہت ہی دل چسپ انداز میں پیش کیے گئے۔

سرِورق کی دوشیزہ کی تصویر دیکھ کر، اُس کی آنکھوں کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکی۔ وہ کیا ہے کہ؎ کتنی مخمور ہیں تمہاری آنکھیں… دل کا سرور ہیں تمہاری آنکھیں۔ ویسے میگزین کھولتے ہی دل دھک سے رہ گیا تھا کہ اِس بار ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ کی جگہ مودی کا منہ دیکھنا پڑا۔

خیر، سہہ ہی لیا کہ منیراحمد خلیلی نے بھارت کے مسلمانوں سے متعلق کچھ حقائق سے تفصیلاً آگاہ کیا کہ کیسے مودی حکومت بھرپور پلاننگ کے ساتھ مسلمانوں کے لیے ہر شعبۂ زندگی میں رکاوٹیں کھڑی کر کے، ترقی کے راہیں مسدود کررہی ہے۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے ’’ہیٹ ویو‘‘ کے عنوان سے خاصی آگہی فراہم کی۔ اصل حقیقت یہی ہے کہ احتیاطی تدابیر نظر انداز کرنا بھی ہیٹ ویو کا ایک بڑا سبب ہے۔

حسنین سرور نے ڈکٹیٹر شپ پر خاصی دلیرانہ تحریر لکھی۔ عمومی طور پر دوسروں پہ زبردستی اپنی رائے تھوپنا ہماری سوسائٹی کی دیرینہ روایت بن چکی ہے۔ دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کواچھائی، برائی میں تمیزکی صلاحیت عطا فرمائے۔ شناختی دستاویزات سے متعلق اسرار ایوبی کی نگارش بہت ہی معلوماتی تھی۔

’’تین بڑوں کی ملاقات‘‘ کے موضوع پر لکھے گئے مضمون میں منور مرزا نے تفصیل سے وضاحت کردی کہ اقتصادی ترقی ہی حقیقی طاقت کا سرچشمہ ہے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں ماڈل ڈھیلے ڈھالے ملبوسات کے ساتھ سارے چمن میں گلاب کِھلائے، پیکرِ حیا بنی مسکرا رہی تھی، اُس پر شائستہ اظہر نے تحریرکا حق ادا کردیا۔

رحمان فارس ہمیشہ سے میرے پسندیدہ شاعر ہیں اوراب جس طرح وہ نہایت سہل وعمدہ انداز میں، بہترین شخصیات کا تعارف کروا رہے ہیں، کیا ہی کہنے۔ بلاشبہ، یہ اُن کا ہی خاصّہ ہے۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘، ’’پیاراگھر‘‘ سلسلے تو ہر دل عزیز ہی ہیں اور رہ گیا، ’’آپ کا صفحہ‘‘، تو قارئین اس سلسلے کے سبب ایک دوسرے سے باقاعدہ جُڑے ہوئے ہیں، پھر مدیرہ صاحبہ کے شاہ کار جوابات کا تو کوئی مول ہی نہیں۔

جملوں کی مالا میں الفاظ کے موتی پرونے کا ہنر تو کوئی آپ سے سیکھے۔ انتہائی مدبرانہ جواب دے کر قارئین کو دوبارہ خط لکھنے کا حوصلہ دے بھی دے دیتی ہیں۔ زندگی باقی، تو ملاقات باقی۔ سانسوں نے مہلت دی تو اِن شااللہ اِسی محفل میں پھر ملاقات ہوگی۔ ( شاہدہ ناصر، گلشنِ اقبال، کراچی)

ج: اللہ پاک لمبی حیاتی دے، آتی جاتی رہا کریں۔ آپ لوگوں ہی کو نہیں، ہمیں بھی حوصلہ افزائی کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔

کون سُنتا ہے فغانِ درویش؟

محمود میاں نجمی نے اپنے مضمون میں محرم الحرام کی اہمیت و افادیت اسلامی تاریخی حوالوں سے ثابت کی۔ ثانیہ انور تلخ کلامی کے نقصانات سے آگاہ کررہی تھیں۔ ہمارے آقا محمدصلی اللہ علیہ والہ وسلم تو اخلاق کی تکمیل کے لیے تشریف لائے تھے، تو ہمیں تو دوسروں کی نسبت کہیں زیادہ بااخلاق ہونا چاہیے۔ یوں بھی بداخلاق شخص عزت، شرافت، محبّت تینوں ہی سے محروم ہوجاتا ہےاوریہ دراصل دین سے دُوری اور جہالت کا پیش خیمہ ہے۔ حافظ بلال بشیر، آبادی میں بے تحاشا اضافے کی گمبھیرتا سے آگاہ کررہے تھے۔

انجینئر اقبال مرزا نذر نے کراچی میں قلتِ آب کی وجوہ بیان کیں، ویسے کم و بیش پورے مُلک ہی کویہ مسئلہ درپیش ہے۔ منور مرزا پرائے پھڈوں کو نمٹا کر شہرت حاصل کرنےوالے حُکم رانوں سے کہتے نظر آئے کہ ’’اپنے عوام کی بھی کچھ فکر کریں، عوام کو ثالثی نہیں، روٹی چاہیے۔‘‘ ہماری بھی استدعا ہے، ٹرمپ سے کہیں کہ ہمیں آئی ایم ایف کی جان لیوا شرائط سے نجات دلوائے۔ شیخ صاحب سے بھی عرض کریں، دو چار ارب ڈالرز عنایت فرمادیں۔

رحمان فارس شاہ نواز زیدی کے گُن گارہے تھے۔ ’’سینٹراسپریڈ‘‘ میں شائستہ اظہر کا رائٹ اَپ ہمیشہ کی طرح باکمال تھا، جس میں فیض کے غضب کے اشعار کا تڑکا بھی لگا رکھا تھا۔ ڈاکٹر سکندر اقبال علاج معالجے کے ضمن میں درست طبّی نسخہ نویسی کی اہمیت بیان کررہے تھے، مگر الاماشاءاللہ، ہمارے یہاں کمپنیز سےکمیشن لےکرنسخہ لکھنے والے ڈاکٹروں کی بھی کوئی کمی نہیں۔

ڈاکٹر عارف سکندری نے ایک عجیب و غریب مرض آٹوبریوری سینڈروم سے آگاہ کیا۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ سلسلے میں احتشام ارشد نظامی، ثناء توفیق خان اور فیصل کانپوری نے اپنی پیاری ماؤں اور روبینہ شاہد نے ماموں کو خراجِ تحسین و عقیدت پیش کیا۔ زویا نعیم نیل آرٹ کے بڑھتے رحجان پر شکوہ کُناں تھیں۔

مگر فیشن کی ہنگامہ خیزیوں میں بھلا کون سُنتا ہے، فغانِ درویش۔ ارسلان اللہ خان نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہنرمند ہونے کی تلقین کررہے تھے۔ نائلہ روبی کا افسانہ’’پل صراط‘‘ نصیحت آموز تھا۔ عمران رفیع نے ماحولیاتی تباہی کا المیہ بیان کیاکہ اب تو کراچی کو تتلیاں بھی چھوڑ گئیں۔ بلاشبہ ہم اپنے ہی ہاتھوں اپنی تباہی وبربادی کا سامان کررہے ہیں۔

بابر سلیم خان کے جواہر پارے، مصباح طیب کا صدقہ اور ذکی طارق کی غزل بھی دل کوخُوب بھائی،جب کہ ہمارے صفحے پر رانا محمد شاہد اعزازی چٹھی کے حق دار ٹھہرے۔ باقی لکھاریوں کے خطوط بھی اچھے ہی تھے اور اپنے ڈاکٹر ایم عارف سکندری’’گوشۂ برقی خطوط‘‘ میں بھی آن وارد ہوئے۔ ارے بھئی، اسے تو قرأت نقوی کے لیے ہی مختص رہنے دیں۔ (شہزادہ بشیرمحمّد نقش بندی، میرپور خاص)

ج: بےچاری قرأت تو ناحق بدنام ہے، ای میلز تو ہر ایرے غیرے نتھو خیرے ہی کی شایع ہوجاتی ہیں۔

ایک، دو اشتہارات کے ساتھ 16صفحات

سچ پوچھیں تواب جنگ اخبار سے وابستگی محض سنڈے میگزین ہی کی وجہ سے رہ گئی ہے۔ پہلےادارتی صفحے سے بھی خاصی دل چسپی ہوا کرتی تھی کہ لکھنے والے کمال لکھا کرتے۔ اب تو دوچار کو چھوڑ کر باقی بس صفحات ہی کالے کر رہے ہیں۔

ویسے مالکان کی بھی ہمّت اور قارئین سے محبت ہی ہے کہ ایک ،دو اشتہارات کے ساتھ 16 صفحات کا میگزین مسلسل نکال رہے ہیں۔ ہجری سال کے نقطۂ آغاز ’’محرم الحرام‘‘ کی تاریخ واہمیت پرمحمود میاں نجمی نےسیرحاصل تحریر لکھی۔ ثانیہ انور نے بھی سنگین معاشرتی المیے’’نفرت انگیز گفتگو‘‘ کا بہترین تجزیہ پیش کیا۔

پتا نہیں کیوں، ہم انفرادی واجتماعی طور پر دوسروں کو نیچا دکھا کے، دوسروں کے کانوں میں زہریلے جملے انڈیل کے اپنے کس جذبے کی تسکین کرتے ہیں، خصوصاً سوشل میڈیا کے بعد سے تو اس نفرت انگیز رویے میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ’’جیو اور جینے دو‘‘ ایک بہترین اصول ہے، جو اب صرف کتابی حد تک رہ گیا ہے۔

منور مرزا کے آرٹیکل کے روشنی میں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ ترقی کی خواہش مند قومیں اپنی عادات و اطوار بدل لیتی ہیں، مگر ہمارا چوں کہ ایسا کوئی ارادہ ہی نہیں، تو ہم نے اس ضمن میں کوئی تردّد بھی نہیں فرمایا۔ شاہ نواز زیدی کی خوب صُورت شخصیت پررحمان فارس نے بہت محبّت بھراخاکہ لکھا۔

خاکے کا سب سے پیارا جملہ یہ لگا۔ ’’سچ یہ ہے کہ صاحبِ ہنر کو شور نہیں مچانا پڑتا۔ جو شور مچائے، سمجھ لو یا تو بالکل ہی بےہنر ہے یا ہنر میں کچا ہے۔‘‘ ’’حُسن تو حُسن ہے، ہررنگ میں اِتراتا ہے…‘‘ کے عنوان سے شائستہ اظہر نے ہمیشہ کی طرح ادبی رنگ وآہنگ سے بھرپور رائٹ اَپ لکھا۔

ویسے؎ جیسے ویرانے میں چُپکے سے بہار آجائے…مصرع صرف ماڈل، پس منظر اور کپڑوں کی ڈیزائننگ دیکھ کر ہی نہیں، شائستہ کی تحریر پڑھ کربھی یاد آتا ہے۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ پر نائلہ روبی نے ’’پُل صراط‘‘ کی صُورت عُمدہ پیغام دیا کہ زندگی کی آسودگی اعتدال و توازن میں ہے اور کیا ہی عُمدہ بات کہی کہ ’’لوگ سمجھتے ہیں، تباہی صرف برائی میں ہے، جب کہ حد سے بڑھی اچھائی بھی انسان کو کھا جاتی ہے۔‘‘ اور تتلیاں کراچی ہی نہیں، ہماری دنیاہی چھوڑ کر کہیں جنگلوں میں جابسی ہیں۔

جب درختوں، پودوں، رنگارنگ پھولوں کی جگہ کنکریٹ کی بلند وبالا عمارات لے لیں، تو طیور، حشرات شہر چھوڑ ہی جاتے ہیں۔ اور خط لکھتے ہوئے ہماری کوشش تو پوری ہوتی ہے کہ صاف اور واضح لکھا جائے اور مختصر بھی تاکہ آپ کو پڑھنے اور ایڈیٹنگ کے دوران زیادہ زحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ (رانا محمد شاہد،گلستان کالونی، بورے والا)

ج: مگر سامنا کرنا پڑ جاتا ہے، کیوں کہ آپ سطر چھوڑ کر لکھنے کے عادی نہیں اور رہی بات، مالکان کی ہمّت، قارئین سے محبّت کی، تو سو تو ہے۔

تاخیر کس کی طرف سے…؟؟

منور مراز نے ’’حالات وواقعات‘‘ میں ایران، امریکا مفاہمت پر بہت شان دار تبصرہ کیا، بہت پسند آیا۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ میں صنوبر خان ثانی نے اپنے والد صاحب کی داستانِ حیات بہت خُوب صُورت انداز میں بیان کی، بےحد اچھی لگی۔ ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ کی دوسری اور آخری قسط بھی پڑھ لی گئی، خاص طور پر شمائلہ نیاز کا پیغام پسند آیا۔ ’’گوشۂ برقی خطوط‘‘ میں قرأت نقوی نے سال نامے پر تبصرہ کیا ہے۔

بھئی، اب تو آدھا سال گزر چُکا ہے، تو یہ تاخیر کس کی طرف سے ہوئی۔ تیسرے شمارے کے’’ حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا مشرق وسطیٰ پر اپنے تبصرے کے ساتھ موجود ہیں، پسند آیا۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں روبینہ یوسف کا افسانہ ’’گولڈ ہوم‘‘ اور وقارالحسن کا ’’ابابیل‘‘ پسند آیا، نیز،’’آپ کا صفحہ‘‘ میں مصباح طیب کا ایک خوب صورت خط بھی پڑھنے کو ملا۔ آپ نے بچّوں کے رنگین صفحے کی بابت فرمایا تھاکہ 15 روز میں ایک بار شایع ہوتا ہے، مگر آج بھی یہ صفحہ موجود نہیں تھا اور عرصے سے شائع نہیں ہورہا۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)

ج: سنڈے میگزین کے مستقل قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ ’’گوشۂ برقی خطوط‘‘ کے لیے محض ایک کالم مختص ہے، تو مُلک بھر سے آنے والی ای میلز، اگر ایک ایک سطر میں بھی شایع کی جائیں، تو یہ نوبت تو پھر بھی آئے گی ہی۔ جب کہ قرأت کی میلز نہ صرف تفصیلاً بلکہ مستقلاً آتی اور جمع ہوتی رہتی ہیں، اِسی لیے سب سے درخواست کی جاتی ہے، جب تک ایک تحریر شایع نہ ہوجائے، دوسری مت بھیجیں کہ ہمیں تو بہرحال باری کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔

خُود آپ نےجب یہ خط لکھا، آدھا سال گزرا ہوگا، اب تو بس سال کی دُم ہی رہ گئی ہے۔ رہی بات بچّوں کے صفحے کی، تو اشتہارات کی قلت کے سبب مستقلاً ڈراپ ہورہا ہے۔ مگر ؎ پیوستہ رہ شجر سے، اُمیدِ بہار رکھ۔

                      فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

سات روز بعد جب ‘‘سنڈے میگزین‘‘ کا ہوتا ہے دیدار، اِس کا ٹائٹل ہوتا ہے، اِک حسین شاہ کار۔ کبھی تیرِ نظر دل کے آر، کبھی تیر مِژگاں جگر کے پار، زیرِنظر شمارے کو ہم نے دیکھا، پڑھا، کیسا پایا، لیجیے، صفحۂ ہادی ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ پر سوشل میڈیا کے تعمیری استعمال کا پرچار کیا گیا کہ ’’دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت میں سوشل میڈیا کا استعمال کارگر ثابت ہوا ہے۔‘‘ بے شک! ہمیں آدھ فٹی موبائل اسکرین سے ہراساں نہیں ہونا چاہیے کہ اسے حرزِجاں بنانا عقلِ سلیم کا سوشل ٹیسٹ ہے۔

مردِ حُر منور مرزا کی حق گوئی کا اثر ہے کہ ہم قارئین کو ’’حالات و واقعات‘‘ کے پلیٹ فارم سے بےلاگ، بےکم وکاست تجزیے برائے مطالعہ ملتے ہیں۔ مثلاً ’’ہمارے سیاست دانوں اور کاروباری افراد کے لیے دبئی، سعودی عرب جانا، لاہور اور حیدرآباد جانے سے زیادہ آسان ہے، لیکن اپنی کمیونٹی کے لیے پروگرام ندارد‘‘۔ باالفاظ دیگر، ’’آپنیاں دے گِٹّے بھناں، چُماں پیر پرایاں دے‘‘ ہاہاہا! ’’سنڈے اسپیشل‘‘ کے توسّط سے یہ رُوح افزا و راحتِ جاں خبرِ خوشی ملی کہ ’’پاکستان نے مصنوعی ذہانت سے موثر طور پر استفادے کے لیے پہلا قدم اُٹھالیا ہے۔‘‘

’’انٹرویو‘‘ کے صفحے پر ماہرِ اقبالیات ڈاکٹر عبدالرؤف کے افکارِ عالیہ سے کچھ ایسی روشناسی ہوئی کہ کُوبہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی۔ جناب نے بجا فرمایا۔ ’’علّامہ اقبال کو عالمی سطح پر پہلے ایسے شاعر کا اعزاز ملا، جس کے تصور پر دنیا کی ایک نظریاتی مملکت (پاکستان) وجود میں آئی۔‘‘ اب طبیبی سلسلہ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ نظر کے سامنے، جگر کے پاس ہے، جس کا مطالعہ ہمیں آٹھوں پہر راس ہے۔ اس سے حیران کُن مگر خوش کن بریکنگ نیوز ملی۔ 

’’چین کے ایجاد کردہ اے آئی (AI) طبّی آلے نے آثارِسرطان سے قبل ہی تشخیصِ مرض کردی۔‘‘ کیا کہنے! اگرمسٹر اے آئی سجن بے پروا کے پٹری سے اُترنے سے پیش تر ساجن کو الرٹ کردے تو بنگالی، جگالی، عاملوں کے تھڑے سُنجے ہوجائیں گے۔ ہاہاہا! مدیرہ کا قارئینِ رسالہ پراِک بڑا کرم ہے کہ باغ وبہار رائٹر رحمان فارس کی خوش گواراینٹری کروا دی۔ موصوف فخریہ طور پر پاکستانی لٹریچرو کلچر کے پارس پتھر ہیں۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف پر لکھے اُن کے شخصی خاکے سے ہم طالبانِ ادب نے یہ درسِ عقیدت پایا۔

’’باادب، بانصیب، بےادب، بےنصیب‘‘ ورق گردانی کرتے کرتے صفحۂ روگردانی (اسٹائل) پہنچے تو مقابلِ آئینہ کوئی گنگنا رہا تھا ؎ اب اور مجھ سے کوئی خوش جمال کیا ہوگا…’’پیارا گھر‘‘ کی پیاری چوکھٹ پر موبائل روگیوں کو بڑیاں ریجاں نال لالی پاپ دیاگیا کہ ’’کچھ دیر کے لیے موبائل فون خُود سے دُور رکھ کر اپنے دل کی دھڑکن سُنیں۔(اگر اس اثناء صاحبہ نے صاحب کو آئی، کوئی پیار کی دُھن سن لی تو دل دھڑکنے کا سبب ہی بھول جائے گا۔ ہاہاہا) اگلے صفحے پر گوکہ تین خونی رشتوں پر ہر اِک تحریر مختلف، تاہم آہ مشترک تھی، ’’اب کہاں وہ لوگ، جن سے آباد تھیں محفلیں‘‘۔

’’متفرق‘‘ میں ’’کینسے انیرا‘‘ کی ولایتی مگر حسین رسم کو ہمارے محترم دیسی بابو نے بڑے دل پسند و دل نشیں پیرائےمیں پیش کیا۔ لوجی! شیر، اِک واری فیر ’’ڈائجسٹ‘‘ بنگلے پر سرکاری بنگلے والے ادبی بابو (رحمان فارس) سے ایک بار پھرسامنا ہوگیا۔ ؎ ’’یہ فارس مومنوں کے صبر کا ہی معجزہ ہے… فسادی رو پڑے ہیں، انتشاری رو پڑے ہیں‘‘ پڑھ کر ہم نہ صرف مُسکرائے بلکہ ہنس پڑے۔

سچ آکھیا، برحق آکھیا بیلیا! آخرکار، اسٹڈی ٹور کے لاسٹ اسٹاپ، ورقِ پسند خاطر ’’آپ کا صفحہ‘‘ آپہنچے اور سبھی پسندیدہ خطوط پڑھ ڈالے، جہاں دیدہ برقی، جہاں گیررانا، جہاں بین پرنس اورجہاں گرد مُرلی کے نامہ ہائے جہاں آرا سے بزمِ احباب جگ مگ تھی۔ (محمّد سلیم راجا، لال کوٹھی،فیصل آباد)

گوشہ برقی خطوط

* ڈاکٹرحافظ محمد ثانی کاسوشل میڈیا کے مثبت وتعمیری استعمال پر مبنی مضمون جامع، مدلّل، نہایت فکر انگیز اور بروقت رہنمائی فراہم کرنے والا تھا۔ حضرت نے جس انداز سے سوشل میڈیا کے فوائدو نقصانات دونوں پہلوؤں کو متوازن انداز میں پیش کیا، قابلِ صد تحسین ہے،خصوصاً یہ نکتہ کہ سوشل میڈیا کو دینی و اخلاقی حدود کے اندر رہتے ہوئے علم و تحقیق، دعوتِ دین اور مثبت مکالمے کے لیے استعمال کیا جائے، انتہائی اہم اور قابلِ عمل ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے نہ صرف تعمیری پہلو اجاگر کیے بلکہ منفی اثرات اوران سے بچاؤ کی ضرورت کو بھی واضح کیا، جو موجودہ دور کا ایک بڑا تقاضا ہے۔ مختصراً، یہ تحریر ہر سوشل میڈیا صارف کے لیے ایک رہنما اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرمائے اور ہمارے معاشرے کے لیے نفع بخش بنائے۔ (دلشاد عالم)

* مجھے آج تک روزنامہ جنگ کی وجۂ تسمیہ سمجھ نہیں آتی۔ اگر مناسب سمجھیں، تو اپنے میگزین میں وضاحت فرما دیں، نوازش ہوگی۔ (ڈاکٹر سبطِ شبر زیدی، رابعہ سٹی، کراچی)

ج: آج کے دَور میں یہ جاننا کیا اتنا پیچیدہ مسئلہ تھا کہ اِس کے لیے آپ نے یکے بعد دیگرے میلز کیں۔ ’’گوگل انکل‘‘ اور ’’اے آئی باجی‘‘ کے ہوتے یہ باتیں اب محض ایک کلک کی محتاج ہیں۔ تو سُنیے۔ روزنامہ جنگ کا نام اُس دَور کی سیاسی صورتِ حال، تحریکِ پاکستان کے ہنگامی حالات اور جنگِ عظیم دوم کے پس منظر میں رکھا گیا۔

تحریکِ پاکستان کے نازک دَورمیں اس اخبارکا اجرأ (1940ء، دہلی) عمل میں آیا، تاکہ برِعظیم کے مسلمانوں کے حقوق، مسلم لیگ کی آواز بھرپور انداز میں اجاگر کی جا سکے۔ نیز، چوں کہ یہ اخبار جنگِ عظیم دوم کے آغاز کے وقت شروع ہوا، اس لیے اس نام سے یہ تاثر دیا گیا کہ اخبار، جنگ کے تمام محاذوں کی تازہ ترین خبروں اور حالات سے عوام کو باخبر رکھے گا۔ نیز،یہ نام دراصل انگریزی استعمار اور سیاسی و سماجی حقوق کے حصول کے لیے کی جانے والی فکری و صحافتی جدوجہد (جنگ) کا استعارہ تھا۔

قارئینِ کرام کے نام !

ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk

سنڈے میگزین سے مزید