• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

ٹھوس تجاویز، مسئلے کا حل

’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں انجینئر اقبال مرزا نذر نے کراچی کے پانی کے مسئلے پر بہت ہی اچھا مضمون تحریر کیا۔ سب سے اچھی بات یہ رہی کہ مضمون کے آخر میں ٹھوس تجاویز اور مسئلے کا حل بھی پیش کیا گیا، مگر یہاں کوئی مسئلہ حل کرنا چاہے تو بات آگے بڑھے ناں۔

’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا کا مضمون اور ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس کا شاہ نواز زیدی پر خاکہ دونوں ہی لائقِ مطالعہ تھے۔ آج بہت دن بعد ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ کا صفحہ بھی پڑھنے کو ملا۔ ثناء توفیق اپنی پیاری امّی کے لیے مضمون کے ساتھ موجود تھیں، بہت اچھی تحریر لگی۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں مصباح طیّب نے سارے ہی صدقے بتادیئے۔

ذکی طارق بارہ بنکوی کی غزل بھی پسند آئی۔ سات سمندر پار سے قرأت نقوی کی دو عدد میلز ایک ساتھ پڑھنے کو ملیں۔ اگلے جریدے میں محرم الحرام کی مناسبت سےتین چار مضامین شہادتِ حضرت امامِ حسینؓ سے متعلق تھے، نم ناک آنکھوں، بھاری دل سے پڑھے۔ فادرز ڈے کے حوالے سے بھی اچھی تحاریر شاملِ اشاعت رہیں۔ نیز، ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ سلسلے میں بھی اچھے پیغامات پڑھنے کو مل گئے، خصوصاً گل فیملی کا پیغام بہت ہی پسند آیا۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)

ج: کراچی کے مسائل کا حل، ٹھوس تجاویز کے بجائے اگر لُوٹ کھسوٹ کے کچھ نئے طریقے بتائے جاتے تو یقیناً کئی کان کھڑے ہوجاتے۔ اب تو اس بےیار و مدگار شہر کے نام کے ساتھ ہی ایک ٹھنڈی آہ بھَری جاتی ہے۔ بس یہی دُعا ہے، مالکِ کون ومکاں غیب سے مدد، ہمارے حال پر رحم فرما دے۔

عمل کی ضرورت ہے

محمود میاں نجمی نے ماہِ محرم الحرام کے فضائل تفصیل سے بیان کیے اور دیگر اہم واقعات، جو اِس مہینے میں پیش آئے، مختصراً بیان کیے۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں ’’تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے؟‘‘ کے عنوان سے ثانیہ انور نے نفرت انگیز گفتگو کی روک تھام کے عالمی یوم کے موقعے پر اعلیٰ مضمون تحریر کیا۔ بلال بشیر نے زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے کے ضمن میں مضمون تیار کیا اورکچھ تجاویز بھی پیش کیں۔

انجینئر اقبال مرزا نذر کراچی میں پانی کی کمی کا مسئلہ لے کر حاضر ہوئے، ساتھ حل بھی بتایا اور متعدد تجاویز بھی پیش کیں۔ بس عمل کی ضرورت ہے۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا نے سوال اُٹھایا کہ کیا ہم واقعی ترقی کرنا چاہتے ہیں؟ ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس نے شاہ نواز زیدی کا تعارف دل چسپ انداز میں کراویا۔ ڈاکٹر سکندر اقبال کا مضمون تو ہر ڈاکٹر کو پڑھنا چاہیے اور ساتھ ڈاکٹرصاحب کی شاگردی بھی اختیارکرنی چاہیے۔

ڈاکٹر ا یم عارف سکندری نے بھی ایک نئی بیماری کا انکشاف کیا۔ ’’آٹو بریوری سینڈ روم‘‘ ہمارے لیے تو یہ مضمون بہت ہی حیران کُن تھا۔ نائلہ روبی کا افسانہ ’’پُل صراط‘‘ سبق آموز تھا۔ عمران رفیع نے تتلیوں کےکراچی سے غائب ہونے کی وجہ بتائی اور واپسی کے لیے تجاویز بھی دیں۔ مصباح طیّب نے صدقے سے متعلق عمدہ معلومات فراہم کیں۔ اگلے شمارے کا سرِورق بہت ہی پسند آیا کہ شہیدِ کربلا کے روضے کی زیارت ہوگئی۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ بھی ایمان افروز مناظر اور تحریر سے مرصّع تھا۔

محمود میاں نجمی اور ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی نے حضرت امام حسینؓ کی شہادت کے مختصر واقعات عُمدگی سے بیان کیے۔ ڈاکٹر قمر عباس نےامامِ عالی مقامؓ کو شان دار خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ڈاکٹر سکندر اقبال انسدادِ منشیات کےعالمی یوم کے حوالے سے بہت فکر انگیز بلکہ تشویش ناک مضمون لائے، لیکن کیا ایک دن منانے سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا؟ ’’فادرز ڈے اسپیشل‘‘ میں رؤف ظفرنےحماد نیازی سے ملاقات کروائی۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس، ڈاکٹر خورشید رضوی کا تعارف کروا رہے تھے۔

افشاں نوید نے بھی فادرز ڈے کے حوالے سے شان دار مضمون لکھا۔ سیّد ثقلین نقوی نے عزت لکھنوئی کی پیدائش سے وفات تک کے واقعات اچھے انداز سے بیان کیے اور اب آیئے، ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی طرف، شمارے میں ہمارا خط شامل نہیں تھا، ہاں، خادم ملک کا خط ضرور جگمگا رہا تھا، جس سے صفحہ روشن روشن معلوم ہوا۔ (سید زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)

تین خاکوں کی فرمائش

اُمید ہے، خیریت سے ہوں گی۔ تازہ شمارے پر تبصرہ حاضرِ خدمت ہے۔ اس بار ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں حجرِ اسود (جنّت کے پتھر) سے متعلق شان دار معلومات حاصل ہوئیں۔ ہم تو اب تک سمجھتے تھے کہ یہ پتھر شروع دن ہی سے خانہ کعبہ پر نصب ہے، مگر یہ پڑھ کےحبرت ہوئی کہ اِسے تو چُرا لیا گیا تھا، شُکر ہے، اب یہ پتّھر اپنی جگہ قائم و دائم ہے۔ رہی بات حالات و واقعات کی، تو اُمید تو یہی ہے کہ ٹرمپ کے دورۂ چین سے دنیا میں استحکام آئے گا، کیوں کہ چین شروع ہی سے ایک امن پسند مُلک رہا ہے۔ اِس نے ناحق کبھی کسی معاملے میں ٹانگ نہیں اَڑائی۔

ہاں، اگر کوئی چین کو آنکھیں دکھائے تو پھر یہ اُس کی آنکھیں نوچ بھی لیتا ہے۔ فارس صاحب اس بار’’احسنِ تقویم‘‘ میں حُسن وجمال کی کمال گاہ، جمال شاہ کو لائے۔ بلاشبہ جمال شاہ نے جتنے بھی ڈرامے کیے، بہترین اور یادگار کیے، فارس صاحب سے تین خاکے مزید لکھنے کی گزارش ہے۔

اگر وہ وصی شاہ ، ایوب خاور اور نوشی گیلانی کے خاکے بھی لکھیں تواُن کی بڑی مہربانی ہوگی۔ ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ عید الاضحیٰ ایڈیشن کی دوسری قسط میں میرا پیغام شائع فرمانے کا بہت بہت شکریہ اور ہاں، بےکار ملک کسی کام لگے یا ابھی تک بے کار ہی پِھر رہے ہیں۔ (پرنس افضل شاہین، نادر شاہ بازار، بہاول نگر)

ج:بےکار ملک کی فکر میں سب دبلے تو ہوئے جاتے ہیں، لیکن اُن کے کارآمد بننے کے ضمن میں کوئی کچھ نہیں کرتا۔ خاکوں کے لیے تجویز کردہ آپ کے تینوں نام نوٹ کرلیے ہیں۔ رحمان فارس کی اگراِن شخصیات سے باضابطہ ملاقاتیں ہوئیں، تو یقیناً آپ کی فرمائش پوری کرہوجائے گی۔

محبت وچاہت وعقیدت واحترام پر مبنی مضمون

جوانانِ جنّت کے سردار، شہدائے کربلا کے قافلہ سالار، نواسہ رسولﷺ، جگر گوشۂ بتولؓ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے روضۂ مبارک سے مزین شمارہ ہاتھوں میں ہے۔ اندرونی صفحات میں روضۂ حضرت عباس علم دار، روضۂ حضرت بی بی زینبؓ و دخترِحسینؓ بی بی سکینہ کے روضے کی بھی زیارت ہوئی۔ نواسۂ رسولﷺ سے متعلق ڈاکٹرحافظ محمّد ثانی نے انتہائی محبّت و چاہت وعقیدت واحترام پر مبنی مضمون تحریر کیا، جس کی جتنی تعریف کی جائے، کم ہے۔

لیکن سچ یہ ہے کہ حسین ابن علیؓ کی شجاعت، بہادری، صبرورضا، حق وصداقت کو مکمل طور پر بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔ اس بار پیارا صفحہ، ہمارا صفحہ ’’آپ کا صفحہ‘‘خوب چمک دمک رہا تھا، بمع خاک سار کے عاجز نامے (خط) کے۔ دُعا ہے کہ آپ کی سرپرستی میں یہ محفلیں، رونقیں یوں ہی برقرار رہیں۔ ناچیز کے نام و شناخت کو شمارے میں مکمل کردیا گیا، اِس کابھی شکریہ۔ ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی اور سیّدہ تحسین عابدی مسلسل غیرحاضر ہیں، نہ جانے کیا سبب ہے۔

محمد سلیم راجا بھی اچانک ہی غائب ہوگئے۔ ’’فادرزڈے‘‘ کے حوالے سے افشاں نوید کی تحریر، اس ہفتے کی بہترین تحریر تھی، دیگر مندرجات میں محمود میاں نجمی، محمد رضا آرائیں کی تحریریں بےمثال رہیں۔ رانااعجازحسین کی ’’خدمت واطاعت‘‘ بھی اچھی تحریر تھی۔حماد نیازی کا تعارف وکلام خراب پرنٹنگ کے باعث پڑھا نہ جاسکا۔

پچھلے ہفتے بھی نمونے کے طور پر ایک صفحہ بھجوایا تھا، اب کی بار پھر دو، تین صفحات اسی طرح تھے۔ لگتا ہے، پرنٹنگ پریس کی مشینری بھی کافی بوسیدہ ہوچکی ہے یا پھر عملے کی غفلت ولاپروائی ہے۔ والد سے اظہار محبت وعقیدت پر مبنی پیغامات میں بلقیس متین، مصباح طیّب، روزینہ خورشید، عفت ایوب، ثناء واحد، نصرت زین، ماہم عمران، قراۃ العین زہرا، ضیاء الحق قائم خانی اور بلال ناظم کے پیغامات لائقِ تعریف تھے۔ ( محمد صفدر خان ساغر، نزد مکی مسجد، محلہ شریف فارم، راہوالی، گوجرانوالہ)

ج: آپ کی شکایت ایک بار پھر متعلقہ شعبے کے گوش گزار کر دی گئی ہے۔

بلوچستان کی شخصیات پر قلم کشائی

آپ کی کاوشیں ہم بڑی محبت وعقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، خصوصاً ’’آپ کا صفحہ‘‘ پر آپ جو انتہائی کھرے اور دُوبدو جوابات دیتی ہیں۔ تازہ شمارہ پڑھا، خاص طور پر ہمارے ہم نام ڈاکٹر سکندر اقبال نے ویپنگ پر جو شان دار مضمون لکھا، تحریر کا حق ادا کردیا۔ حقیقت یہ ہے کہ عمومی مُلکی مسائل پر تو ہر کوئی بات کرلیتا ہے، مگر سماجی مسائل کا اس قدر عُمدگی سے احاطہ کم ہی لوگ کر پاتے ہیں۔

صائمہ صمیم نے بھی ناسٹیلجیا کو زبردست انداز سے بیان کیا، سچ یہی ہے کہ انسان اپنے حال سےجس قدر بھی مطمئن ہو، ماضی اُسے اچھا ہی لگتا ہے اور خاص طور پر پردیس میں تو اپنا مُلک بہت ہی یاد آتا ہے۔ مضمون نگار نے نہ صرف ناسٹیلجیا کی اقسام خوبی سے بیان کیں، شاعری کے ذریعے کی جانے والی وضاحت کا بھی جواب نہ تھا۔ بلاشبہ، وقت ایک دریا ہے اور ہم سب اس میں بہتے ہوئے اپنے اپنے کنارے ہی تلاشتے رہتے ہیں۔

رحمان فارس کی تقریباً سب ہی تحریریں قابلِ صد تعریف ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک خاکہ پڑھنے کو مل رہا ہے۔ ان سے کہیں، ممکن ہو تو بلوچستان کی کچھ معروف شخصیات پر بھی قلم کشائی کریں کہ مسائل کے بحرِ بےکراں سے نکلنے والے سُچّے موتی، گواہرِ نایاب کچھ زیادہ ستائش و تعظیم کے حق دار معلوم ہوتے ہیں۔

باقی اُمید ہے کہ ہمارے اس پیارے صفحے پر میرے پہلے خط کو ضرور پذیرائی حاصل ہوگی۔ خط کے ساتھ ایک مضمون بھی منسلک ہے، آپ چاہیں تو اُس کا عنوان بھی تبدیل کرسکتی ہیں، میری طرف سے پوری اجازت ہے۔ (ڈاکٹر ایم سکندر جانگھڑا، کراچی)

                فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

مئی کا آخری شمارہ درخت کے ساتھ ٹیک لگائے ماڈل کے ساتھ ملا۔ ساڑی خُوب سج رہی تھی، مگر ماڈل کی عُمر کچھ زیادہ محسوس ہوئی۔ ثانیہ انور نے ’’عالمی یومِ والدین‘‘ پر ایک بہترین اور منفرد نوعیت کی تحریر لکھی۔ سچ ہے کہ بدلتے وقت نے والدین اوراولاد میں دوریاں کم کرنے کی بجائے بڑھادی ہیں۔ تاہم، اگر تحریر میں موجود تجاویز پر عمل کیا جائے تو خُوب صُورت رشتوں کے مابین بڑھتی خلیج کم کی جاسکتی ہے۔

تمباکو نوشی کے عالمی یوم پر ڈاکٹر سکندر اقبال اور رؤف ظفر نے بھرپور معلوماتی تحاریرپیش کیں۔ قدرتی مناظر ہمیشہ ہی متاثر کرتے ہیں۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں ماڈل کے پس منظر میں ٹرین کی پٹری اور باغات آنکھوں کوبہت بھلے لگے اور شائستہ اظہرکی تحریر بھی کمال تھی۔ کیا خُوب صُورت جملے لکھے۔

’’مکمل پُرتعیش زندگی راہ سے بھٹکا دیتی ہے، درد، رُوح کا قطب نُما ہے، سچ یہ ہے کہ زندگی کی خُوب صُورتی تھوڑے سے ادھورے پن، تھوڑی سی فکر اور تھوڑے سے درد کے ساتھ جینے ہی میں ہے۔‘‘ ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس کا جمال شاہ پر لکھا خاکہ بےحد پسند آیا۔ بچپن میں جمال شاہ کا ڈراما ’’بارش کے بعد‘‘ دیکھا تھا، جس میں اُن کا دھیما اور ٹھہر ٹھہر کر بولنے کا انداز اس قدر الگ اور منفرد لگا کہ آج تک دل پر نقش ہے۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ کے دونوں افسانے عیدِ قرباں کی مناسبت سے تھے۔

منیبہ مختارنے’’آخری گائے‘‘میں بہت اچھا پیغام دیا کہ دراصل قربانی اپنےرب پراُس وقت بھروسا کرنےکا نام ہے،جب ہاتھ بالکل خالی ہوں۔ مریم شہزاد کی’’فہرست‘‘بھی ہماری عمومی نفسیات اجاگرکررہی تھی۔’’پیارا گھر‘‘ کی دونوں تحریریں میمونہ ہارون اورافشاں نوید نے محبّت میں گندھے الفاظ کے ساتھ لکھیں۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں ماسٹرصفدرحسین کا مختصر خط پڑھ کربےکار ملک یادآگئے۔ لگتا ہے یہ لوگ محض نمایاں ہونے کے لیےایسی اونگیاں بونگیاں لکھ بھیجتے ہیں۔اگلے شمارے میں منیر احمد خلیلی، مودی حکومت کے متعصبانہ رویے کا پردہ چاک کر رہے تھے۔

ہیٹ ویو پر ڈاکٹرسکندراقبال کی فکر انگیز اور حسنین سرور کی مختصر تحریر نےمتاثر کیا۔ اسرار ایوبی کی شناختی دستاویزات سے متعلق تحریر بھی کافی مفید لگی۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کا پس منظر ایک بار پھر فطری مناظر سےہم آہنگ تھا۔ کیا یہ دونوں شوٹس ایک ہی مقام پر کیے گئے؟ رحمان فارس نے توقیر ناصرکے خاکے کا حق ادا کر دیا اور ’’پیارا گھر‘‘ اور ’’ڈائجسٹ‘‘ کی مختصر مختصر نگارشات نے بھی بہت ہی لطف دیا۔ (رانا محمد شاہد، گلستان کالونی، بورے والا)

ج: پرنٹ میڈیا اپنے محدودوسائل کےساتھ جس طرح سروائیول کی جنگ لڑرہا ہے، اُس میں اگربچت کے خیال سے ایک ہی مقام پرایک ساتھ 10 شوٹ بھی کرلیے جائیں، تو کوئی عجب بات نہیں۔ اور یہ آپ نے ماڈلز پراِس قدرغوروفکر کیا راہوالی والے صفدرخان سے متاثر ہوکر شروع کیا ہے یا خیر سے خودہی اتنے’’ باشعور‘‘ ہوگئے ہیں۔

گوشہ برقی خطوط

* میرے پسندیدہ مصنّف، مستنصر حسین تارڑ کا افسانہ ’’پھولوں بھری پہاڑی‘‘ توقع کے عین مطابق تھا، خصوصاًدوجملے’’موسمِ بہار کےابتدائی ایام میں اِس پر رنگ وبُو کے قافلے اتنے اہتمام سے اُتریں گے کہ مرغانِ چمن کے پاؤں گل زاروں میں الجھ الجھ جائیں گے۔ اگر کوئی پرندہ اِس الجھاوٹ سے آزاد ہوکرمحوِ پرواز ہو بھی جائے، تو اُس کے پنجے گُلوں سے رنگ بھرے ہوں گے۔‘‘ اور’’وہی دھواں آلود پچکی ہوئی دیگچی، جس کے پیندے میں شاید وہی پچھلے برس کی چائےکی پتّی ابھی تک موجود تھی۔‘‘لاجواب تھے۔

ساجد علی شمس نے’’آن لائن ہیکرز‘‘ سے خبردارکیا۔ ہمیں تو ہمیشہ سکھایا گیاکہ کبھی کسی غیرمتعلقہ لنک پر کلک نہ کریں، نہ ہی کسی کواپنی ذاتی معلومات فراہم کریں۔ اگلا شمارہ ’’عیداسپیشل‘‘ تھا۔ بچپن کی عیدیں یاد کر کے آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ یہاں توکبھی عید منائی ہی نہیں، پہلی عید پہ بھی لان میں اکیلی بیٹھی گھاس کی پتیوں سے باتیں کرتی، گیلی مٹّی سے گھونگے چُن چُن خوش ہوتی رہی تھی۔

اسٹائل بزم میں، ماں، بیٹیوں کے ساتھ عید کے پُرمسرت لمحات کی جھلکیاں بہت ہی اچھی لگیں۔ ثمینہ نعمان کا افسانہ گھسے پِٹےموضوع پرتھا اور محمّد کاشف کی ای میل تبصرے سے بالکل ہٹ کے ہی ہوتی ہے، ’’متفرق‘‘ کا چھوٹا سا مضمون معلوم ہوتا ہے۔ کشور ناہید کے خاکے میں پروف کی دواغلاط نوٹ کیں۔’’ڈھل چُکی شام‘‘ کو ’’ڈھل چُکےشام‘‘ لکھا گیا اور ’’لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ‘‘ کی جگہ ’’لڑکھڑانے لگیں‘‘ لکھا تھا۔

بہرحال، خاکہ دل چُھو لینے والا تھا۔ اگلے جریدے میں ایک پیغام کا سلسلہ جگمگا رہا تھا۔ اس صفحے سےاندازہ ہوتا ہے کہ میگزین کےقارئین کی تعداد ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں خطوط لکھنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔ ندیم یعقوب کا ’’تھرمل رسیدوں‘‘ سے متعلق مضمون معلومات افزا تھا، لیکن میرا تو کام ہی ایسا ہے کہ تھرمل پیپر نان اسٹاپ استعمال ہوتا ہے۔ استاد حامد علی کا خاکہ پڑھ کے تو حیران ہی رہ گئی کہ اتنی بڑی شخصیت کومَیں جانتی ہی نہیں۔

پھر یوٹیوب پر اُن کی موسیقی سُنی، تودل جُھوم جُھوم گیا۔ اگلے شمارے کی ماڈل بہت ہی کیوٹ تھی، سارے پہناوے اُس پر خُوب جچے۔ محمّد کاشف کی تحریر کا پہلا جملہ سمجھ نہیں آیا، شاید پروف کی غلطی تھی۔ ڈاکٹر رانجھا کی رحلت کا پڑھ کے انتہائی افسوس ہوا، اللہ پاک مغفرت فرمائے۔ بےشک، وہ ایک کہنہ مشق لکھاری تھے اور جریدے سے محبّت کایہ عالم تھا کہ آخری تحریر بھی سنڈے میگزین ہی کی زینت بنی۔ ڈاکٹر امجد ثاقب پرایک انتہائی خوب صورت تحریر پڑھنی نصیب ہوئی۔

رحمان فارس نے تو جریدے کو ہزار چاند لگا دیئے ہیں۔ اور محمّد صفدر خان کا خط پڑھ کے تو ہنسی ہی چُھوٹ گئی، وہ مجھے جامن ،فالسے بھجوانے کی پیش کش کررہے ہیں۔ بہت شکریہ جناب!جامن، فالسے نہ سہی، لیکن مَیں طرح طرح کے پھل کھاتی رہتی ہوں، جیسے ڈریگن فروٹ، اسٹارفروٹ اور ہر قسم کی بیریز جو پاکستان میں کبھی دیکھی تک نہیں تھیں۔ ثناء توفیق کی میل کےجواب میں آپ نے لکھا کہ اُنھوں نےنام،پتا نہیں لکھا، مگر ای میل کی آخر میں تو نام موجود تھا۔ (قرات نقوی، ٹیکساس، امریکا)

ج: کشور ناہید کے خاکے سے متعلق آپ کی نشان دہی درست نہیں۔ مضمون میں جو لکھا گیا، سو فی صد درست لکھا گیا۔ اِن تحاریر (خاکوں) میں اغلاط کا امکان یوں بھی نہایت کم ہے کہ اِنہیں ایک بارہم خُود، تو دوسری بارخاکہ نگار بھی خاصی عمیق نگاہی سے پڑھتے ہیں اور آج کے دَور میں ایسا خال ہی ہوتا ہے بلکہ سچ کہیں تو ہم نے تو رحمان فارس کے سوا ایسا کوئی لکھاری نہیں دیکھا، جو اپنی تحریر کے زیر زبر پیش سے متعلق بھی اِس قدر حسّاس ہو۔

کرپٹو کرنسی والے مضمون سے متعلق درست نشان دہی کی، واقعتاً پہلی سطر پروف کی غلطی کے باعث سمجھ نہیں آرہی تھی، جب کہ ثناء کا نام ای میل کے ساتھ غلط طور پر شایع ہوا۔ اس پر خود ثناء کی بھی میل وصول ہوئی ہے۔ سو، دونوں اغلاط پر تہہ دل سے معذرت خواہ ہیں۔

قارئینِ کرام کے نام !

ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk