وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے قومی اہمیت کے ایک اہم منصوبے کی منظوری دی ہے جس کے تحت سیلاب اور بارش کے پانی کو روک کر اور ذخیرہ کرکے زرعی مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں پوٹھوہار ریجن میں 8سو چھوٹے ڈیمز بنائے جائینگے۔ یہ منصوبہ پانی کے تحفظ کی مہم کاحصہ ہے۔ ایسے 110؍منی ڈیم پہلے ہی بنائے جاچکے ہیں۔ ناہموار زمین کو قابل کاشت بنانے کیلئے کسانوں کوایک ہزار مشینیں فراہم کی جائیں گی جن کیلئے 50؍ فیصد سبسڈی بھی دی جائے گی اس حوالے سے اٹک، تلہ گنگ، گوجر خان ،راولپنڈی اور دوسرےمناسب مقامات پر چھوٹے ڈیم بنائے جارہے ہیں یا بنادیئےگئے ہیں۔ اعلیٰ استعداد کا آبپاشی نظام اختیار کرنے کے اس منصوبے کے تحت اب تک 18؍ ہزار ایکڑ فٹ پانی ضائع ہونے سے بچایا جاچکا ہے جس سے فصلوں کی پیداوار میں 50؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جدید ڈرپ اورا سپرنکل سسٹم کے تحت مزید 30؍ ہزار ایکڑ اراضی قابل کاشت بنائی جائے گی۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ پاکستان میں 75؍ لاکھ افراد خوراک کی کمی یا ناقص خوراک کے استعمال کے مسئلے سے دوچار ہیں۔ مزید ساڑھے بارہ لاکھ لوگ سیلاب، دہشت گردی اور غیر متوقع قحط سالی سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
پاکستان ایک زرعی ملک تصور کیا جاتا ہے زراعت کے لئے پانی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے ایسی صورتحال میں سیلاب اور بارش کے پانی کومحفوظ کرنا نہ صرف ملک کی معیشت بلکہ قومی سلامتی کے لئے بھی انتہائی ضروری ہے۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے میں آنے والے دریا ئوں کا پانی روک کر صورتحال کو مزید گھمبیر بنادیا ہے۔ پاکستان نے واضح کردیا ہے کہ بھارت کی اس آبی جارحیت کامطلب جنگ کااعلان ہے۔ سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنا بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے پاکستان اپنا حق کسی صورت چھوڑ نہیں سکتا ۔یہ ایک ایسی صورتحال ہے جوایک اور پاک بھارت جنگ پر منتج ہوسکتی ہے۔ پاکستان کواپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لئے نہ صرف تیار رہنا ہوگا بلکہ نئے ڈیم اور آبی ذخائر قائم کرکے اپنی معیشت کوبھی تحفظ دینا ہوگا۔ پوٹھوہار ریجن میںچھوٹے ڈیم بنانے کے منصوبے اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہیں لیکن یہ ملکی معیشت اور سلامتی کے لئے کافی نہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں چھوٹے بڑے ڈیمز بنانے پر توجہ دی جائے اور آبپاشی کے دوسرے جدید طریقوں کواختیار کیا جائے تاکہ 25؍ کروڑ کی آبادی ،جس میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اگلے چند سال میں 40؍ کروڑ کی حد پار کرنے والی ہے ،کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔
قیام پاکستان کے بعد صرف تربیلا اور منگلا کے مقامات پر دو بڑے ڈیم تعمیر کئے جاسکے اس وقت تیسرا بڑا منصوبہ دیامر بھاشا ڈیم کے نام سے زیر تعمیر ہے جس کے 2029ء میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ملک کے چاروں صوبوں میں پانی کے ذخائر کی ضرورت بھی ہے اور گنجائش بھی۔ خیبرپختونخوا میں مہمند، کرم، ٹانک، درابن اور دیگر مقامات پر چھوٹے بڑے ڈیم بنائے جارہے ہیں مگر ان پر کام کی رفتار سست ہے بلوچستان سب سے زیادہ پانی کی قلت کا شکار ہے وہاں کوئی بڑے دریا نہیں ہیں، پہاڑوں سے آنے والے ندی نالے ہیں جن پر کئی چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیم بنائے جاسکتے ہیں۔ سندھ میں دریائے سندھ پانی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اس سے مزید نہریں نکالنے اور موجودہ نہروں کی بروقت مرمت ، بیراجوں کو بہتر بنانے ور سیلابی پانی کومحفوظ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پانی کا ضیاع روکا جاسکے۔
پنجاب میں پوٹھوہار، سلمان کے پہاڑی سلسلے اور مزید کئی مقامات پر چھوٹے ڈیم بنانے کی گنجائش ہے دیگر علاقے بھی ایسے ہیں جہاں سیلابی اور بارشی پانی کو روک کرذخائر قائم کرنا ممکن ہے۔آزاد کشمیر میں چند مقامات پر چھوٹے ڈیمز بنائے گئے ہیں۔ مزید مقامات ایسے ذخائر کے لئے نہایت مناسب ہیں جن پرکام کیا جانا چاہئے۔ گلگت بلتستان اس لحاظ سے گلیشیرز، برفانی پہاڑوں اور چشموں سے مالا مال ہے ان سے استفادہ کیا جانا چاہئے۔ آبی ذخائر نہ صرف زرعی بلکہ کئی دوسرے مقاصد کے لئے بھی ضروری ہیں۔
یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ زیر زمین پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے کیونکہ زمین کے اندر سے بورنگ کے ذریعے بہت بڑی مقدار میں پانی نکالا جارہا ہے اس کے نتیجے میں زیر زمین پانی ختم ہورہا ہے جوانسانوں اور مویشیوں کے پینے کےکام آتا ہے۔ ملک کے بہت سے علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت کی آوازیں آرہی ہیں۔ پانی ہر ذی روح کی زندگی ہے اس کے بے جا استعمال کو روکنا وقت کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں مختلف وجوہات کی بنا پر انتہائی ضروری ڈیم بھی نہیں بنائے جاسکے ان میں کالاباغ ڈیم بھی شامل ہے جس پر سندھ اور خیبرپختونخوا کی بعض سیاسی پارٹیوں کے تحفظات ہیں ان کے اعتراضات کی وجہ سے یہ منصوبہ ہی ترک کردیا گیا حالانکہ ان پارٹیوں سے تجاویز لی جاتیں اور اس کے ڈیزائن میں ایسی تبدیلیاں کی جاتیں جن سے ان کے اعتراضات کا ازالہ بھی ہوجاتا اور قومی مفاد کو بھی زک نہ پہنچتی۔ ڈیم صرف پانی کی ضرورت پوری نہیں کرتے بلکہ بجلی بھی پیدا کرتے ہیں۔جدید دور میں بجلی کی ضرورت وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے صنعتوں کا پہیہ تو چلتا ہی بجلی سے ہے ان میں معیشت کو تقویت دینے کے علاوہ دفاعی صنعتیں بھی شامل ہیں گویا یہ قومی سلامتی کا مسئلہ بھی ہے۔ پانی جہاں زرعی ترقی اورا نسانی و حیوانی استعمال کے لئے ضروری ہے وہاں اس سے بجلی بھی پیدا کی جاتی ہے جو دوسرے وسائل کے مقابلے میں سستی بھی پڑتی ہے۔ سندھ میں ایک فرانسیسی کمپنی سے معاہدے کے تحت تیل اور گیس کی پیداوارمیں اضافہ کیا گیا ہے جن سے پانی کے حصول میں بھی مدد لی جارہی ہے۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے گلیشیر پگھل رہے ہیں اور موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ایسے میں پانی اور بجلی کی اہمیت میں روز بروز اضافہ ہورہاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو اللّٰہ تعالیٰ نے وافر پانی کی جو نعمت عطا کی ہے اس کی حفاظت کی جائے، آبی ذخائر قائم کئے جائیں، غذائی اجناس کی پیداوار بڑھائی جائے اور انسانی و حیوانی زندگی کے لئے اس کا استعمال دیرپا بنایا جائے۔