• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مکہ دفاعی معاہدہ خطے کے امن و سلامتی کیلئے ایک مضبوط قدم ہے، صدر اردوان

ترک صدر رجب طیب اردوان(فائل فوٹو)۔
ترک صدر رجب طیب اردوان(فائل فوٹو)۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ خطے کے امن و سلامتی کے لیے درست سمت میں ایک مضبوط قدم ہے، اس اتحاد کے ذریعے علاقائی مسائل کے علاقائی حل کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

نیو یارک میں ترک ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ اتنے حساس اور پیچیدہ خطے میں اس نوعیت کا اہم اقدام سامنے آئے تو مختلف آزمائشوں کا سامنا ہونا فطری ہے۔ نئی سوچ اور نئی سیاسی قوتِ ارادی سے بعض حلقے ضرور پریشان ہوں گے، تاہم ترکیہ ایک تجربہ کار ریاست ہے، جو نہ اشتعال میں آئے گی اور نہ کسی جال میں پھنسے گی۔

انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد کی ادارہ جاتی تشکیل کا عمل مکمل ہونے کے بعد یہ تعاون مزید مضبوط ہوگا۔ بیرونی طاقتوں کی جانب سے خطے کے لیے سیکیورٹی کے فارمولے مسلط کرنے کے نتیجے میں اکثر زیادہ عدم استحکام پیدا ہوا ہے، اس لیے اب خطے کے ممالک کو اپنے مسائل کے حل میں خود آگے آنا ہوگا۔

صدر اردوان نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے ذریعے خطے کے مسائل کا علاقائی حل تلاش کرنے کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس اتحاد کی بنیاد مستقبل میں مزید مضبوط اور مؤثر تعاون کی صورت اختیار کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ کو اپنی قوم اور اپنے برادر ممالک پر مکمل اعتماد ہے۔

اقوام متحدہ میں اصلاحات کے حوالے سے صدر اردوان نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام میں 190 سے زائد ممالک کی رائے صرف پانچ ممالک کے ویٹو اختیار سے محدود ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق ایسے غیر منصفانہ نظام کے ذریعے عالمی امن و استحکام کا مؤثر تحفظ ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سلامتی نظام میں ویٹو کا موجودہ طریقہ کار ختم ہونا چاہیے اور ایسا نظام قائم کیا جانا چاہیے جو تمام رکن ممالک کو زیادہ منصفانہ نمائندگی فراہم کرے۔ جنرل اسمبلی کو بھی زیادہ بااختیار اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

اردوان کے مطابق عالمی فیصلوں میں صرف پانچ ممالک کی اجارہ داری کے بجائے تمام خطوں، خصوصاً افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکا اور اسلامی دنیا کو اپنی آواز اور تجربے کے ساتھ مناسب نمائندگی ملنی چاہیے۔

غزہ کے بارے میں انھوں  نے کہا کہ خونریزی روکنے، جنگ بندی کو مستقل بنانے اور فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر باوقار مستقبل فراہم کیے بغیر مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ صرف جنگ رکوانا کافی نہیں، بلکہ غزہ کی تعمیر نو، جنگ دوبارہ شروع نہ ہونے کی ضمانت اور فلسطینیوں کے سیاسی مستقبل کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔

ایف 35 پروگرام میں ترکیہ کی واپسی کے حوالے سے اردوان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سلسلے میں مثبت ارادے کا اظہار کیا ہے اور ترکیہ اب اس ارادے کو عملی اقدامات میں تبدیل ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ اپنی دفاعی ضروریات کے لیے مقامی صلاحیتوں کو بنیادی اہمیت دیتا ہے اور ان جنگی طیاروں سمیت اپنے جنگی طیارے، فضائی دفاعی نظام اور دفاعی صنعتی صلاحیتیں خود تیار کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ یورو فائٹر کے حوالے سے برطانیہ کے ساتھ بات چیت بھی جاری ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید