امریکی وسطِ مدتی انتخابات قریب آنے اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 97 ڈالرز فی بیرل ہونے کے باعث آبنائے ہرمز اور ایران کے ساتھ جاری تنازع میں امریکا کی حکمتِ عملی پر سوالات اُٹھ رہے ہیں۔
اس حوالے سے ایرانی نژاد سویڈش، بین الاقوامی تعلقات کے مصنف اور سیاسی تجزیہ کار تریتا پارسی نے عرب میڈیا کو انٹرویو کے دوران بتایا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت معمول پر لانے میں اپنی کامیابی کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی بحری نگرانی اور حفاظتی دستے مزید تجارتی جہازوں کو آبنائے سے گزرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
تریتا پارسی نے خبردار کیا کہ ایران امریکی وسطِ مدتی انتخابات سے پہلے ایسا تصادم پیدا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جس سے امریکی صدر ٹرمپ کو سیاسی نقصان پہنچے۔
تجزیہ کار کے مطابق اگر انتخابات کے بعد ٹرمپ خود کو سیاسی طور پر ذلت کا شکار محسوس کرتے ہیں تو وہ مزید مایوس اور خطرناک فیصلے کر سکتے ہیں جس سے ایران کے ساتھ تنازع مزید بڑھنے اور کشیدگی میں اضافے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔