• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج کے دوران تشدد، بی جے پی دہشتگرد نے سیاسی پشت پناہی کا بھانڈا پھوڑ دیا

بی جے پی کا دہشتگرد سوَتنتر بھردواج انٹرویو میں لوگوں پر حملے اور سیاسی پشت پناہی کا کھلے عام اعتراف کر رہا ہے(تصویر سوشل میڈیا)۔
بی جے پی کا دہشتگرد سوَتنتر بھردواج انٹرویو میں لوگوں پر حملے اور سیاسی پشت پناہی کا کھلے عام اعتراف کر رہا ہے(تصویر سوشل میڈیا)۔

نئی دہلی میں جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج پر جہاں بھارتی پولیس نے تشدد کیا، وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے دہشت گردوں نے بھی سی جے پی کے نہتے کارکنوں پر ہاتھ صاف کیا۔ 

بی جے پی کے ان دہشت گردوں کو پولیس اور اعلیٰ حکام کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ اس بات کا اعتراف اب خود تشدد کرنے والے کرتے نظر آرہے ہیں۔

بھارت میں تشدد کے اعتراف اور مودی حکومت کی سیاسی پشت پناہی کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ بی جے پی کا حامی ہندوتوا سے وابستہ سوَتنتر بھردواج نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ طلبہ احتجاج کے دوران مظاہرین میں شامل ایک لڑکی کے والد پر حملے میں جن کو 60 ٹانکے لگے اور وہ موت کے قریب پہنچ گئے، مگر بھردواج کے مطابق دفعہ 307 لگنے کے باوجود بھی وہ پوری رات آزاد گھومتا رہا۔

اس کا مزید کہنا تھا کہ کپل مشرا دہلی حکومت میں بی جے پی کے وزیر ہیں انکی ایک فون کال کے بعد اسے ریلیف ملا، اس نے منتری جی کو  اپنا ’’بڑا بھائی‘‘ قرار دیا اور وزیراعظم مودی سے بھی قریبی تعلق کا دعویٰ کیا۔ یہی نہیں، اس گفتگو میں تشدد کا ذکر مسکراتے ہوئے کرنے پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔

اس بیان پر کئی صحافی، سماجی کارکن اور کانگریس کے ارکان نے دہلی پولیس کو آڑے ہاتھوں لیا اور کارروائی نہ ہونے پر سوال اٹھا دیے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنما ابھیجیت دیپکے نے دہلی پولیس کی جانبداری پر کہا انہوں نے خود ڈی سی پی سے ملزموں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا، مگر پولیس نے جواب دیا کہ ’’ہم لوگوں کو رینڈملی گرفتار نہیں کرسکتے۔‘‘

صحافی رویش کمار نے کہا کہ ایسے دعوے شہریوں کی سلامتی کے لیے باعثِ تشویش ہیں، جبکہ نہا بورا، نے دہلی پولیس کی مبینہ نااہلی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس شخص کے بیانات سے پولیس کی نااہلی بے نقاب ہو رہی ہے۔

سوہاسنی حیدر، رویش کمار، پریانکا بھارتی اور نہا سنگھ راٹھور سمیت دیگر صحافیوں نے بھی اس معاملے پر آواز بلند کی اور سوال اٹھایا کہ اگر حملہ اتنا سنگین تھا تو کارروائی کہاں ہے؟ اور کیا سیاسی تعلقات قانون سے زیادہ طاقتور ہوگئے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید