امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون میں مخبر کی تلاش کیلئے 50 اہل کاروں کے جھوٹ پکڑنے کے ٹیسٹ لیے گئے۔
امریکی حکومت کے تفتیش کاروں نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران حساس معلومات صحافیوں کو لیک ہونے کی تحقیقات کے سلسلے میں امریکی فوج کے جوائنٹ اسٹاف کے تقریباً 50 ارکان کے پولیگراف ٹیسٹ کیے ہیں۔
حکام کے مطابق تفتیش کاروں نے فوجی افسران اور جوائنٹ اسٹاف سے وابستہ سویلین ملازمین سے پوچھا کہ آیا انہوں نے صحافیوں کو خفیہ معلومات فراہم کیں یا نہیں، جبکہ خاص طور پر امریکی ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر میں کمی سے متعلق معلومات کے افشا کی بھی تحقیقات کی گئیں۔
یہ پولیگراف ٹیسٹ اگست میں اس وقت کیے گئے جب متعدد میڈیا رپورٹس میں امریکی فوج کے اہم گولہ بارود کے ذخائر میں کمی کی تفصیلات سامنے آئیں۔ ان میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور پیٹریاٹ میزائل شکن نظام کے انٹرسیپٹرز کے ذخائر بھی شامل تھے۔
باخبر افراد کے مطابق اس اقدام کا مقصد صرف معلومات لیک کرنے والے افراد کا سراغ لگانا نہیں بلکہ دیگر اہلکاروں کو مستقبل میں صحافیوں کو حساس معلومات فراہم کرنے سے روکنے اور خوف زدہ کرنے کی کوشش بھی تھا۔
جوائنٹ اسٹاف میں تقریباً 1,500 سے 2,000 افسران اور دیگر حکام کام کرتے ہیں۔ یہ ادارہ دنیا بھر میں امریکی جنگی کمانڈروں کے ساتھ فوجی آپریشنز، پالیسی اور جنگی منصوبہ بندی میں رابطہ کاری کرتا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ محکمہ دفاع اندرونی اہلکاروں یا تحقیقات سے متعلق معاملات پر تبصرہ نہیں کرتا، تاہم قومی سلامتی سے متعلق خفیہ معلومات کے تمام افشا کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور ان کی تحقیقات کی جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جدید امریکی فوج کی تاریخ میں اعلیٰ سطح کے فوجی اہلکاروں کے اتنے بڑے پیمانے پر پولی گراف ٹیسٹ کیے جانے کی مثال نہیں ملتی۔
امریکی بحریہ کے سابق اعلیٰ قانونی افسر ریئر ایڈمرل ڈونلڈ جے گٹر نے کہا کہ انہوں نے پولیگراف ٹیسٹ کا اس قدر وسیع پیمانے اور اتنے اعلیٰ عہدوں پر استعمال پہلے کبھی نہیں دیکھا، اور ان کے تجربے میں یہ غیر معمولی اور بے مثال اقدام ہے۔
یہ تحقیقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب متعدد میڈیا اداروں نے ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں امریکی اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر پر پڑنے والے دباؤ کی تفصیلات رپورٹ کی ہیں۔ بعض رپورٹس میں جنگ کی حکمتِ عملی اور سمت کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کے اندر موجود تشویش کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔