جولائی اگست شروع ہوتے ہی یار لوگ امریکہ، کینیڈا اور یورپ کی سیر کی تصویریں لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ سب انسٹاگرام کا کیا دھرا ہے۔ تصویریں دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ آدھا پاکستان یورپ میں عیاشی کرنے نکلا ہوا ہے اور باقی آدھا اُن تصویروں پر دل کا نشان لگانے کیلئے پیچھے رہ گیا ہے۔ کوئی ٹریفلگر اسکوائر میں کبوتروں کے جھرمٹ میں کھڑا ہے، کوئی نیاگرا کے سامنے بازو پھیلائے مسکرا رہا ہے اور کوئی محض کافی کے ایک کپ کی تصویر لگا کر بتا رہا ہے کہ اِس وقت وہ کس براعظم میں ہے۔ ’شریکوں‘ کو تو آگ لگتی ہی ہے، عام بندہ بھی جل بھن کر کباب ہو جاتا ہے۔ وہ تو خدا بھلا کرے ہمارے چینی میزبانوں کا جنہوں نے اِس برس بھی بیجنگ آنے کی دعوت بھیج دی ورنہ ہماری ٹائم لائن پر بھی اگست خالی ہی گزر جاتا۔ سو چین وہ واحد ملک ٹھہرا جہاں میرا پانچویں مرتبہ جانا ہو رہا ہے۔ اور بات چونکہ شریکوں تک پہنچ گئی ہے تو بتاتا چلوں کہ اِس فہرست میں تھائی لینڈ بھی شامل ہے۔ رہے نام اللہ کا۔سفر کی پیکنگ سے میری جان جاتی ہے۔ کون سی چیز ضروری ہے اور کون سی غیر ضروری، اِس کا تعین آج تک نہیں ہو سکا۔ سوٹ کیس کھول کر بستر پر رکھ دیا جاتا ہے، اُس کے چاروں طرف کپڑوں کے ڈھیر لگ جاتے ہیں اور پھر مشاورت شروع ہو جاتی ہے۔ کانفرنس میں شرکت کرنی ہے تو سوٹ رکھنا ہے، اُس کے ساتھ آکسفورڈ شوز بھی ہونے چاہئیں اور ظاہر ہے کہ ٹائی بھی۔ مگر یہ چیزیں بہت جگہ گھیرتی ہیں اِس لیے فیصلہ ہوا کہ سوٹ اور جوتے پہن کر ہی جہاز میں سوار ہوا جائے۔ اِس سے رعب بھی پڑتا ہے۔ ایک دوست نے تاکید کی کہ چائے کی پتی اور الائچی ضرور رکھ لینا کیونکہ وہاں چائے کے نام پر جو سبز پانی پلایا جاتا ہے وہ تمہیں زہر لگے گا۔ نمکو اور بسکٹ بھی رکھ لینا، سفر میں کام آئیں گے۔ گویا میں تن تنہا کسی جنگل میں جا رہا ہوں جہاں انسانی خوراک دستیاب نہیں ہوگی اور مجھے خود سے جانوروں کا شکار کرکے یا درختوں سے پھل توڑ کر کھانے پڑیں گے۔ نتیجہ اِس پیکنگ کا یہ نکلتا ہے کہ میرا سوٹ کیس ایک چلتا پھرتا کریانہ اسٹور بن جاتا ہے۔ مگر اِس مرتبہ میں نے جی کڑ ا کرکے ایسی کوئی چیز ساتھ نہیں رکھی۔ دیکھی جائے گی۔پی آئی اے کے چیک اِن کاؤنٹر پر پہنچا تو وہاں ضرورت سے زیادہ خوش اخلاق عملے نے استقبال کیا۔ میں نے سیانا بنتے ہوئے لیگ اسپیس والی نشست کی فرمائش کر دی۔ انہوں سے بتیسی نکال کر کہا، وہ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے، اب نجکاری ہو چکی ہے، اب لیگ اسپیس بھی پیسوں کی ملے گی۔ بہت اچھی بات ہے، دیکھتے ہیں نجکاری کے بعد سروس کیا رنگ لاتی ہے۔ جہاز میں نشست سنبھالتے ہی فضائی میزبان زَرَک سے پوچھا کہ سامنے لگی یہ ٹی وی اسکرینیں چلیں گی یا محض شوشا ہیں۔ زَرَک نے جواب دیا اگر آپ کالم نہیں لکھیں گے تو سچ بول دوں۔ میں نے کہا ضرور۔ جواب ملا، نہیں سر، یہ نہیں چلیں گی۔ تھوڑی دیر بعد وہ پلٹ کر آیا اور خوشخبری سنائی کہ وائی فائی البتہ دستیاب ہے، آپ اپنے موبائل فون پر تفریح فرما سکتے ہیں۔ یہ بھی غنیمت تھی۔ جہاز نے اڑان بھری تو وائی فائی سے موبائل کنکٹ کرکے دیکھا۔ کچھ فلمیں اور کتابیں وغیرہ دستیاب تھیں۔ ایک آدھ فلم چلانے کی کوشش کی، نہیں چلی۔ گھڑی دیکھی، چار گھنٹے کی پرواز باقی تھی۔ جہاں عمر گزری ہے، وہاں یہ گھڑیاں بھی گزر جائینگی، یہ سوچ کر فون بند کر دیا۔سچ پوچھیں تو اِس مرتبہ مجھے بیجنگ جانے کا کوئی خاص شوق نہیں تھا مگر مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے کہ مصداق جانے کا فیصلہ کیا۔ ایک دوست کو بتایا تو اُس نے ماہر امور چین بنتے ہوئے مشورہ دیا کہ اپنا اصل فون ساتھ مت لے جانا، کوئی پرانا سیٹ ڈھونڈو جس میں کچھ نہ ہو۔ لیپ ٹاپ سے حساس فائلیں نکال دو۔ وی پی این یہیں سے ڈاؤن لوڈ کر لو۔ اور ہوٹل کے کمرے میں کوئی ایسی بات نہ کرنا جو تم کسی عوامی جلسے میں نہ کر سکو۔ اور واپس آ کر فون فیکٹری ری سیٹ کر دینا۔ باوجود اِس کے کہ میں چین کا چھوٹا موٹا ایکسپرٹ ہوں، میں نے یہ احکامات پوری سنجیدگی سے سنے اور پھر ایک دوسرے دوست کو سنائے تو اُس نے قہقہہ لگا کر کہا: ”تمہیں کون پوچھتا ہے! خواہ مخواہ خود کو جیمز بانڈ سمجھنا چھوڑ دو، چینی کمیونسٹ پارٹی اتنی بھی ویلی نہیں کہ تم پر وقت ضائع کرے؟“ بات اُس کی بھی سولہ آنے درست تھی۔ آدمی کی سب سے بڑی تسلی یہی ہے کہ وہ اتنا اہم نہیں جتنا وہ خود کو سمجھتا ہے مگر مصنوعی ذہانت نے یہ تصور بدل دیا ہے۔ پہلے نگرانی کا مطلب یہ تھا کہ کوئی آپ کو دیکھ رہا ہے، اب اِس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی آپ کو سمجھ رہا ہے۔ ہم اکثر شکایت کرتے ہیں کہ فون ہماری باتیں سنتا ہے، دوست سے پرفیوم کا ذکر کیا تو اگلے ہی گھنٹے فون پر نت نئی خوشبوؤں کے اشتہارات آنے لگے۔ آپ کہاں گئے، کتنی دیر رکے، رات کو کتنے بجے سوئے، کون سی ویڈیو پر انگلی رُکی، یہ سب ملا کر ’میٹا‘ کا الگورتھم آپ کے بارے میں وہ اندازہ لگا لیتا ہے جو ’شریکے‘ بھی نہیں لگا سکتے۔وہ آپ کے بارے میں آپ سے بھی پہلے جان لیتا ہے کہ آپ بیمار ہیں، پریشان ہیں، مقروض ہیں یا کسی کے عشق میں مبتلا ہیں۔ اور ایسا نہیں کہ یہ جبری طور پر کیا جا رہا ہے۔ ہم نے اپنے فون کو وہ تمام اجازتیں رضاکارانہ طور پر خود دے رکھی ہیں کہ جنکی مدد سے وہ ہمارا کچا چٹھا جانتا ہے۔ سونے پہ سہاگا یہ چیٹ بوٹ ہیں۔ ہم اُنہیں وہ باتیں بتا رہے ہیں جو بیوی، دوست، ڈاکٹر یا وکیل کو بھی نہیں بتاتے۔ کوئی اپنی بیماری کی علامات لکھ رہا ہے، کوئی گھریلو جھگڑے کی تفصیل اور کوئی محبوبہ کے نام پیغام۔ کئی صدیاں پہلے یہ کام کلیسا میں پادری کے سامنے ہوتا تھا، مگر وہاں پادری کم از کم آپ کے اعترافات لکھ کر محفوظ نہیں کرتا تھا اور نہ ہی اگلی صبح آپ کو گناہوں سے متعلقہ اشتہار بھیجتا تھا۔ خیر، بات نہ جانے کہاں سے کہاں نکل گئی۔ قصہ چین کا تھا کہ وہاں پرائیویسی نہیں، حقیقت یہ ہے کہ اے آئی کے بعد اب باقی دنیا میں بھی نہیں۔ اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ مستقبل میں وہ کمپنیاں خوب منافع کمائیں گی جو حقیقی معنوں میں آپ کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کی ضمانت دیں گی۔ فی الحال تو یہ عالم ہے کہ کالم مکمل کرنے کے بعد تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹ سے پوچھا کہ تمہیں میرے بارے میں کیا معلوم ہے۔ جواب میں اُس نے میرا پورا ٹور پروگرام کھول کر سامنے رکھ دیا اور ساتھ ہی تھائی لینڈ کے سفر کیلئے کچھ ’مفید‘ مشورے بھی دیے۔ باقی جو کچھ اُس نے بتایا، وہ لکھنے کے قابل نہیں۔ شریکے نوٹ فرما لیں۔