• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا سفر گزشتہ پانچ دہائیوں میں کئی اہم مراحل سے گزرا ہے۔ ستر کی دہائی میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے قیام کے وقت بنیادی ضرورت جامعات کو مالی معاونت فراہم کرنا اوران کے اخراجات کو ایک منظم نظام سے منسلک کرنا تھی۔ 2002ءمیں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کے بعد اس تصور میں بنیادی وسعت آئی۔ اب مقصد صرف جامعات کو مالی وسائل فراہم کرنا نہیں تھا بلکہ انہیں ایسے علمی اداروں میں تبدیل کرنا تھا جو معیاری تعلیم، تحقیق، اساتذہ کی تربیت، بین الاقوامی روابط اور قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان کی اعلیٰ تعلیم نے اس سمت میں ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ تحقیقی سہولتوں میں اضافہ ہوا، اساتذہ کو اعلیٰ تعلیم اور تربیت کے مواقع ملے، معیارِ تعلیم کو یقینی بنانے کے نظام تشکیل پائے، بین الاقوامی روابط بڑھے اور پاکستانی نوجوانوں کیلئے ملکی اور غیر ملکی جامعات میں تعلیم کے نئے دروازے کھلے۔اس سفر کی سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں نے بار بار ثابت کیا ہے کہ اگر انہیں مناسب ماحول، رہنمائی اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ قومی اور عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکتے ہیں۔ دنیا کی ممتاز جامعات، تحقیقی اداروں اور مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں پاکستانی طلبہ اور گریجویٹس کی موجودگی ہمارے لئے باعثِ اطمینان بھی ہے اور امید کا ذریعہ بھی۔لیکن اعلیٰ تعلیم کبھی ایک مکمل ہو جانے والا منصوبہ نہیں ہوتی۔ دنیا بدلتی ہے تو یونیورسٹی کو بھی بدلنا پڑتا ہے۔آج ہم مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، خودکار نظام، ڈیٹا سائنس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سائبر سکیورٹی کے ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جس نے علم، معیشت اور روزگار کی نوعیت تبدیل کر دی ہے۔ اسی لیے ہماری موجودہ ترجیح بہت واضح ہے: پاکستانی نوجوان کو صرف آج کیلئے نہیں بلکہ مستقبل کیلئے تیار کرنا۔یہ بات ہمارے نوجوانوں کیلئے باعثِ امید ہونی چاہیے کہ پاکستان کی علمی قیادت، جامعات اور ہائر ایجوکیشن کمیشن ان تبدیلیوں سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ انہیں سامنے رکھتے ہوئے اپنی ترجیحات اور پالیسیوں کو بھی مسلسل بہتر بنا رہے ہیں۔ ہمیں مکمل ادراک ہے کہ آنیوالے برسوں میں طالبعلم سے صرف ڈگری نہیں بلکہ جدید علم، عملی مہارت، ٹیکنالوجی کے استعمال، تخلیقی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کا تقاضا ہوگا۔اسی مقصد کے تحت ہائر ایجوکیشن کمیشن نے وائس چانسلرز، اساتذہ، صنعت اور دیگر متعلقہ حلقوں کیساتھ مسلسل مشاورت کی ہے تاکہ ہمارے تعلیمی پروگرام ملکی ضروریات کیساتھ ساتھ عالمی رجحانات سے بھی ہم آہنگ رہیں۔ فال 2026ءسے جامعات میں نئے اور نظرِ ثانی شدہ نصاب کے نفاذ میں اسی سوچ کو بنیاد بنایا جا رہا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ جب کوئی طالب علم کسی ڈگری پروگرام میں داخل ہو تو اسے ابتدا ہی سے معلوم ہو کہ چار سال بعد وہ کن علمی، عملی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ فارغ التحصیل ہوگا۔

پروگرام کے مقاصد، پڑھائے جانے والے مضامین، عملی تربیت اور مطلوبہ مہارتوں کو ایک دوسرے سے مربوط کیا جا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور جدید معلوماتی ٹیکنالوجی کے اوزار بھی ضرورت کے مطابق مختلف شعبوں میں شامل کیے جا رہے ہیں تاکہ ٹیکنالوجی کسی ایک مضمون تک محدود نہ رہے بلکہ ہر طالب علم اپنے شعبے میں اسکے استعمال سے واقف ہو۔لیکن صرف نصاب تبدیل کرنے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ استاد اس پورے نظام کا مرکز ہے۔ اگر ہمیں مستقبل کیلئے تیار طلبہ درکار ہیں تو ہمیں ایسے اساتذہ بھی چاہئیں جو جدید علم اور نئی ٹیکنالوجی سے واقف ہوں۔ اسی لیے اساتذہ کی مسلسل تربیت اور ان کی صلاحیتوں میں اضافہ ہماری اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ اساتذہ کو اپنے شعبوں میں آنے والی نئی ٹیکنالوجیز اور عالمی رجحانات سے باخبر رہنا چاہئے، صنعت اور عملی میدان کے ماہرین کو جامعات میں مدعو کرنا چاہئے اور کلاس روم میں حاصل ہونیوالے علم کو حقیقی دنیا کے مسائل سے جوڑنا چاہئے۔جدید تعلیم کیلئے جدید بنیادی ڈھانچہ بھی ناگزیر ہے۔ ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سیکورٹی، پاکستان ایجوکیشن اینڈ ریسرچ نیٹ ورک، بہتر انٹرنیٹ رابطہ اور اعلیٰ صلاحیت کی کمپیوٹنگ آج تحقیق اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کیلئےبنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ پاکستانی طالب علم کو اپنی جامعہ میں وہ سہولتیں اور وسائل دستیاب ہوں جو اسے عالمی تعلیمی اور پیشہ ورانہ ماحول میں مؤثر مقابلے کے قابل بنائیں۔ہمارے وژن کا ایک نہایت اہم حصہ نوجوانوں اور اساتذہ کو عالمی سطح پر تعلیم اور تحقیق کے مواقع فراہم کرنا بھی ہے۔ علم کی کوئی جغرافیائی سرحد نہیں ہوتی۔ اسی لئے ہائر ایجوکیشن کمیشن بیرونِ ملک وظائف اور عالمی تعلیمی شراکت داریوں کو مسلسل وسعت دے رہا ہے۔ Fulbright Scholarships، Pak-US Knowledge Corridor، Pak-UK Knowledge Gateway اور مختلف عالمی شراکت داروں کیساتھ دستیاب ہزاروں تعلیمی اور تحقیقی مواقع اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ پاکستانی طلبہ دنیا کی ممتاز جامعات میں ماسٹرز، پی ایچ ڈی اور تحقیقی پروگراموں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

تازہ ترین