سرکاری افسری داستانِ الف لیلہ کی سی پُراسرار ہے۔ یار لوگ جو اس دائرۂ تحیّر سے باہر بیٹھے اندر کی سمت کنکر پتھر اُچھالتے رہتے ہیں، اُنہیں شاید اس کے اندرون پر خُلدِ بریں کا احساس ہوتا ہے۔ قطار اندر قطار حُوریں ہوں گی، رواں دواں چشمے ہوں گے، شہدو شِیر کی نہریں، میر و فیض کی بحریں اور سُرور کی لہریں۔ نہ کوئی خواب ادھورا، جو کہا، سو پُورا، یہاں وہاں شرابِ طہورہ۔ مگر صاحبو! ایسا ہرگز نہیں ہے۔
یہ کانٹوں کا تاج، جاں کا خراج، رُوح کا بیاج اور اذیت بھرا کام کاج ہے۔ اسی کارِ سرکار کی چکّی تلے پِسے افسران میں سے معدودے چند وہ بھی ہوتے ہیں کہ جن کی طبیعت طُرفہ تماشا ہوتی ہے۔ چکّی کی مشقت کے ساتھ مشقِ سخن جاری، فکرِ روزگار کے ساتھ فکرِ سخن طاری، دفتری فائلوں سے ہٹ کر تازہ سخن کاری۔
یہ سلسلہ قدرت اللہ شہاب، مُصطفےٰ زیدی، عبدالحمید عدم اور پروین شاکر سے ہوتا ہوا مُرتضٰی برلاس تک آن پہنچا۔ یہ سب نام معتبر بھی ہیں، مستند بھی، موقر بھی ہیں محترم بھی۔ ان سب نے اپنے اپنے حصّے کی دہری اذیت سہی یعنی سول سروس میں رہتے ہوئے کربِ تخلیق۔ لیکن ان سب کی اذیت کو بصورتِ شعر ڈھلنے میں سُخن نے مُرتضٰی برلاس تک کا سفر کیا اور جب اُن تک پہنچا تو وہ شعر ہوا کہ جو لازوال، بے مثال، باکمال ہے اور پُرجمال بھی۔ ؎
دوستوں کے حلقے میں ہم وہ کج مقدر ہیں
افسروں میں شاعر ہیں، شاعروں میں افسر ہیں
برلاس صاحب سے اولین ملاقات کی تاریخ اور مقام تو یاد نہیں، یہ ضرور یاد ہے کہ یہ ملاقات بوسیلۂ عباس تابش و شکیل جاذب ہوئی۔ ذرا سوچیے کہ آج کل کی سول سروس میں کہ جہاں اربوں کھربوں کے فیصلے بیک جنبشِ قلم کیے جاتے ہیں، ایک صاحبِ اختیار شخص کئی دہائیوں تک مسندِ اعلٰی پر تشریف فرما رہنے کے بعد جب ریٹائر ہوتا ہے، تو گارڈن ٹاؤن کے ایک پانچ مرلے کے گھر ہی میں رہائش پذیر ہوتا ہے۔ یاد پڑتا ہے کہ ہم اکثر اُن کے گھر جایا کرتے تھے۔
تب ہماری بڑی بیٹی علینہ رحمان دو تین سال ہی کی ہوں گی۔ برلاس صاحب کے سفید مگر سلیقے سے بنے ہوئے بال دیکھ کر علینہ توتلی زبان میں انہیں دادا کہا کرتی تھی۔ بھابھی یعنی برلاس صاحب کی بیگم بہت سگھڑ، سلیقہ مند اور حلیم الطبع خاتون تھیں۔ اُن کے ہاں آنا جانا ایسا چلا کہ پھر ہم اُن کے گھر کے فرد ہی بن کر رہ گئے۔ مُنّی سی ڈائننگ ٹیبل پر وہ ایسے ایسے پکوان سجاتیں کہ گھر بھر میں خوشبو بھر جاتی۔
برلاس صاحب کےڈرائینگ روم میں جو شعری محافل برپا ہوتیں، اُن میں مسلسل چائے کا دَور چلتا، تازہ غزلیں پیش کی جاتیں اور مصرعوں پر بھرپور گفتگو ہوتی۔اُن محافل سے مجھےجتنا سیکھنے کو ملا، شاید کسی کتاب سے نہیں ملا۔ شعر کی باریکیاں، اظہار کے متنوّع رنگ، لفظ کو حذف کرکے بھی مصرعے میں اس کی کیفیت کا باقی رہنا، اَن کہی کے توسط سے بات کہنا، یہ سب وہیں سے سیکھا۔ اللہ اللہ، کیا کیا محافل تھیں۔ مَیں چُپکا بیٹھا سُنتا اور ذہن نشین کرتا تھا۔ برلاس صاحب بے حد خُود دار اور اپنی وضع کے الگ انسان ہیں۔ اُن کا شعری نظریہ بھی الگ اور جداگانہ ہے۔
اُن کا ذکر آتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے اردو غزل کے کسی قدیمی، نیم روشن دالان میں اچانک چراغ کی لو ذرا تیز ہو جائے۔ وہ اُن لوگوں میں سے ہیں، جنہیں دیکھ کر یہ گمان نہیں ہوتا کہ یہ آدمی اپنے ساتھ ایک پوری ادبی دنیا بھی لیے پھرتا ہے۔ بظاہر ایک خاموش، متین اور وضع دار شخص۔ اُن کی شخصیت میں سرکاری افسر کی متانت بھی ہے، شاعر کی بے قراری بھی۔
مرتضیٰ برلاس جدید اردو غزل کے اُن شاعروں میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے شعر کو محض قافیہ پیمائی نہیں سمجھا۔ ان کی شاعری میں ایک ایسا داخلی آہنگ ہے، جو شور نہیں کرتا مگر دیر تک سنائی دیتا رہتا ہے۔ اُن کا شعری سفر بیسویں صدی کے نصف آخر سے شروع ہوتا ہے، جب اردو ادب میں نئے سوال جنم لے رہے تھے، پرانی قدریں اپنے معنی تلاش کر رہی تھیں، اور شاعر کے سامنے صرف عشق کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ زمانہ بھی ایک سوال بن کر کھڑا رہا۔
مَیں جب بھی اُن سے ملتا اور اُن کے اندرونے میں بسے شاعر کی کھوج کرتا تو احساس ہوتا کہ ان کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے شاید ان کے سرکاری منصب اور ادبی مقام دونوں کو ایک ساتھ دیکھنا پڑے گا۔ وہ ایک ریٹائرڈ سول سرونٹ ہیں، یعنی ایسی دنیا سے آئے، جہاں فائلیں بولتی ہیں، ضابطے راستہ دکھاتے ہیں اور فیصلوں پر دستخط ہوتے ہیں۔
مگر شاعر کی دنیا اس کے برعکس ہے۔ یہاں دل دلیل ، آنکھ گواہ ، یاد ایک مقدمہ ہے اور خاموشی کبھی کبھی سب سے لمبا بیان۔ یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ ایک شخص نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی نظم و ضبط میں گزاری اور اپنی تخلیقی زندگی بے قراری میں۔ شاید اسی لیے ان کے ایک مجموعے کا نام ’’اضطرار‘‘ ہے۔
برلاس صاحب کی شاعری کی ابتدا ان دنوں میں ہوئی، جب اردو کے ادبی رسائل اور جرائد نئے لکھنے والوں کے لیے ایک طرح کے ادبی آنگن ہوا کرتے تھے۔ ساٹھ کی دہائی سے ان کا کلام ادبی رسائل میں شائع ہوتا رہا۔ اس زمانے کی ادبی فضا میں شعر کہنا صرف شعر کہنا نہ تھا، یہ ایک تہذیبی ذمّےداری بھی تھی۔ شاعر کو لفظ کا پاس رکھنا پڑتا تھا۔ قافیہ اگر ذرا ٹیڑھا ہوا تو اہلِ ذوق کی نگاہ پکڑ لیتی تھی اور مضمون اگر کم زورنکلا تو محفل میں ’’واہ واہ‘‘ سے زیادہ خطرناک چیز یعنی خاموشی نصیب ہوتی تھی۔
ہم بھی برلاس صاحب کو شعر سُناتے تو ان کے اشارۂ ابرو سے اپنےشعر کا ہونا نہ ہونا سمجھ لیا کرتے تھے۔ وہ اچھے شعر کی تحسین اور ناشعر کی تردید میں بُخل سے کام نہیں لیتے اور یہی صاف گوئی ان کی پہچان ہے۔ ان کے شعری مجموعوں کے نام بھی ان کے مزاج کی طرح ہیں۔ ’’گرہِ نیم باز‘‘، ’’تیشۂ کرب‘‘، ’’ارتعاش‘‘، ’’اضطرار‘‘ اور ’’چودھویں رات موسمِ گل کی‘‘۔ ذرا ان ناموں کو دیکھیے۔ ایک طرف گرہ ہے، دوسری طرف کرب، کہیں ارتعاش ہے، کہیں اضطرار، اور پھر اچانک چودھویں رات اور موسمِ گل!
اُن کی شخصیت میں ایک اور خُوب صُورت پہلو ان کے بھائی مصطفیٰ راہی سے وابستگی ہے، جو خود غزل کے شاعر تھے۔ بھائی کا شاعر ہونا صرف خاندانی نسبت نہیں، یہ ایک مشترک باطن کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔ دو بھائی اگر شعر کی دنیا میں ایک دوسرے کے ہم سفر ہوں تو گھر کی خاموشیاں بھی شاید مصرعوں میں بدل جاتی ہیں۔
مرتضیٰ برلاس نے 1993ء میں اپنے مرحوم بھائی کا کلام شائع کروا کے جس طرح ان کی ادبی خدمت کو محفوظ کیا، وہ محض ایک بھائی کی محبت نہیں بلکہ ایک ادبی امانت داری بھی ہے۔ یہاں ان کی شخصیت میں سرپرستی کا پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بہت سے لوگ دنیا سے کنارہ کرلیتے ہیں، مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جن کی اصل ملازمت ریٹائرمنٹ کے بعد شروع ہوتی ہے۔ مرتضیٰ برلاس ادبی سرگرمیوں کی سرپرستی کرتے رہے ہیں۔
اس میں بھی ایک خاص تہذیبی رنگ ہے۔ دہلی اور لکھنؤ کے پرانے گھروں میں بزرگ خود چراغ نہیں ہوتے تھے، چراغ جلانے والے ہوتے تھے۔ ان کے پاس بیٹھ کرنوجوان اپنی بات کہنا سیکھتا تھا، شعر پڑھتا، داد پاتا تھا اور کبھی ڈانٹ بھی کھاتا تھا۔ گھرکا بڑا گھر کا چراغ ہوتا ہے اورادبی محفلوں کے ایسے چراغ بجھ جائیں تو اندھیرا صرف ایک کمرے میں نہیں ہوتا۔
راول پنڈی کی بستیِ بحریہ ٹاؤن میں رہتے ہوئے بھی ان کا دل ان ادبی راستوں سےجدا نہیں ہوا، جن پراردو کی کئی نسلیں چلتی آئی ہیں۔ شہر بدل جاتے ہیں، مکان بدل جاتے ہیں، مگر شاعر کا اصل پتا اس کے لفظ ہوتے ہیں۔ آج برلاس کا تعلق جہاں سے بھی ہو، ان کی اصل رہائش اُن کی غزل میں ہے۔ آدمی مکان میں رہتا ہے، شاعر اپنے مصرعوں میں۔
مجھے اُن کی شخصیت کی جو بات سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے، وہ شائستگی ہے۔ آج کے زمانے میں شائستگی بھی کسی نایاب خوشبو کی طرح ہے، مل جائے تو دیر تک یاد رہتی ہے۔ اُن کا ادبی سفر شور سے نہیں، تسلسل سے بنا۔ انہوں نے چار بڑے شعری مجموعے دیے، ان کے کلام کو ادبی حلقوں میں قدرومنزلت ملی، اور بھارت و پاکستان کے نقّادوں نے ان کی غزل کے اسلوب کو توجّہ سے دیکھا۔ مگر اصل شاعر وہی ہے، جو تعریف کے بعد بھی اگلا شعر لکھنے بیٹھ جائے۔
اُن کے بیٹے ارتضٰی بھائی میرے بڑے بھائیوں کی طرح ہیں۔ وہ بیرونِ مُلک ہوتے ہیں۔ اگرچہ ان سے کم کم بات ہوتی ہے، لیکن برلاس صاحب کے توسّط سے یہ ایک ایسا تعلق ہے، جو روز ملاقاتوں کا محتاج نہیں۔ میرے نزدیک مرتضیٰ برلاس کی کہانی دراصل ایک ایسے آدمی کی کہانی ہے، جس نے زندگی کے مختلف موسموں کو الگ الگ خانوں میں بند کرنے کے بجائے سب کو ایک ہی دل میں جگہ دی۔
سرکاری زندگی کی سنجیدگی، شاعر کی بےقراری، بھائی کی محبت، ادبی محافل کی سرپرستی، غزل کی نزاکت، اور یاد کے ان گنت موسم۔ سب اُن کی شخصیت میں ایک دوسرے سے یوں ملتے ہیں، جیسے پرانی دہلی کی کسی گلی میں کئی راستے آ کر ایک ہی چوک میں کُھل جاتے ہوں۔ مرتضیٰ بیگ برلاس کی پیدائش 30 جنوری 1934ء کو ریاستِ رام پور میں ہوئی۔
رام پوریعنی وہی سرزمین، جس کی فضا میں کبھی علم کی خوشبو، شعر و ادب کی چہل پہل اور تہذیب کی ایک خاص نرمی بسی ہوئی تھی۔ ایسے ماحول میں آنکھ کھولنے والا بچّہ اگر آگے چل کر لفظوں کا آدمی بن جائے، تو اسے محض اتفاق کہنا شاید زندگی کے اشاروں کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ برلاس صاحب کی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ کالج مُرادآباد میں ہوئی۔ پھر ریاضی جیسے خشک اور بے رحم مضمون میں ایم۔ایس۔سی کی سند 1955ء میں آگرہ یونی ورسٹی سے حاصل کی۔ ریاضی اور شاعری، بظاہر دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
ایک طرف اعداد ہیں، دوسری طرف جذبات، ایک طرف مساوات ہے، دوسری طرف بے قراری، ایک طرف جواب ایک ہوتا ہے، دوسری طرف ایک شعر کے سو مطلب نکلتے ہیں۔ مگر شاید انسان کی شخصیت کی یہی خُوب صُورتی ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں حساب بھی جانتا ہے اور بے حساب ہونا بھی۔ 1956ء میں وہ پاکستان منتقل ہوگئے۔
یہ محض ایک جغرافیائی ہجرت نہ تھی، یہ زندگی کے ایک نئے باب میں داخل ہونا تھا۔ سرحدیں نقشے پر لکیر سے زیادہ کچھ نہیں ہوتیں، مگر انسان کے لیے کبھی کبھی یہی لکیر پوری زندگی کا رُخ بدل دیتی ہے۔ برلاس نے بھی ایک زمین سے دوسری زمین کا سفر کیا اور پھر پاکستان کو اپنی عملی اور ادبی زندگی کا میدان بنا لیا۔
1960ء میں اُن کا انتخاب پنجاب سول سروسز میں ہوا۔ یوں شاعر کی زندگی میں سرکار داخل ہوئی، اور سرکار کی زندگی میں ایک شاعر۔ یہ امتزاج کم دل چسپ نہیں۔ ایک طرف شاعری کی دنیا جہاں ایک مصرعہ پوری رات جگا سکتا ہے، دوسری طرف سرکاری دنیا، جہاں ایک دستخط سے کسی معاملے کی سمت بدل سکتی ہے۔ ایک طرف ’’دل‘‘ کی حکومت، دوسری طرف ’’حکومت‘‘ کے دلائل! مختلف اضلاع میں مجسٹریٹ اور اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے برلاس صاحب نے زندگی کو قریب سے دیکھا ہوگا۔
افسر کی کرسی آدمی کو لوگوں کے بہت قریب لے آتی ہے، اگرچہ ظاہراً وہ فاصلے پر بیٹھا ہوتا ہے۔ دفتر میں آنے والے لوگ صرف درخواستیں نہیں لاتے، اپنے دُکھ، مجبوریاں، غربت، امید اور کبھی کبھی اپنی پوری زندگی ایک کاغذ کے ساتھ میز پر رکھ جاتے ہیں۔ ایک حسّاس آدمی کے لیے سرکاری فائل بھی کبھی کبھی انسانی المیے کی کتاب بن جاتی ہے۔ یہی وہ جگہ ہے، جہاں شاعر اور بیوروکریٹ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔
بیوروکریٹ مسئلے کو دیکھتا ہے، شاعر مسئلے کے پیچھے چُھپا ہوا انسان دیکھتا ہے۔ بیوروکریٹ قانون پڑھتا ہے، شاعر چہرہ۔ اور اگر دونوں ایک ہی شخص میں جمع ہوجائیں تو شاید فیصلہ بھی کچھ مختلف انداز میں ہونے لگتا ہے۔ آنکھیں ہوں تو جہاں خُوب ہے، ورنہ سب بے کار۔ برلاس صاحب کی پیشہ ورانہ زندگی بھی خاصی رنگارنگ رہی۔ 1976ء میں انہیں لاہور آرٹس کونسل، الحمرا کا ریزیڈنٹ ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔
یہاں آکر گویا ان کی سرکاری زندگی نے ادب کے دروازے پر دستک دی۔ الحمرا صرف ایک عمارت نہیں، پاکستانی تہذیبی اور ادبی زندگی کےان مراکز میں سے ہے، جہاں فن، شعر، موسیقی، تھیٹر اور فکر نے ایک دوسرے سے گفتگو کی۔ شاعر کے لیے اس سے زیادہ مناسب سرکاری منصب اور کیا ہوسکتا تھا کہ دفتر بھی فن کے بیچ ہو اور دل بھی؟
بعدازاں انہوں نے ریاستی خدمات کی طرف رُخ کیا۔ وہاڑی، خانیوال کے ڈپٹی کمشنر اور بہاول پور کے کمشنر کے عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ یہ مناصب معمولی نہ تھے۔ ان عہدوں پر آدمی صرف سرکاری نمائندہ نہیں ہوتا، پورے علاقے کی انتظامی زندگی کا ایک اہم ستون ہوتا ہے۔ فیصلے کرنے پڑتے ہیں، مسائل سننے، اختلافات سلجھانے پڑتے ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ’’آگے کنواں، پیچھے کھائی‘‘۔
مگراس سب کے درمیان ایک شاعر کا دل کس طرح زندہ رہا ہوگا، یہ سوال برلاس صاحب کی شخصیت کو مزید دل چسپ بنا دیتا ہے۔ یہی تو شاعر اور افسر کا فرق ہے۔ افسر کی مدّتِ ملازمت ہوتی ہے، شاعرکی نہیں۔ عہدہ آتا ہے، چلا جاتا ہے، نام سرکاری فہرست سے مٹ جاتا ہے۔ دفتر کی کرسی پر کوئی اور بیٹھ جاتا ہے۔ مگر ایک اچھا شعر اگر دل میں جگہ بنا لے تو پھر اُسے نہ تبادلہ درپیش ہوتا ہے نہ ریٹائرمنٹ۔
مرتضیٰ بیگ کا قلمی نام ’’برلاس‘‘ ہے اور یہ نام بھی عجیب دل کشی رکھتا ہے۔ اصل نام مرتضیٰ بیگ، مگر ادب کی دنیا میں برلاس۔ یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے سرکاری فائلوں میں ایک شخص تھا اور غزل کے دیوان میں دوسرا۔ ایک نام کےساتھ عہدے وابستہ تھے، دوسرے کے ساتھ خواب۔ ایک کے آگے مجسٹریٹ، اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کے عہدے آتے ہیں، دوسرے کے ساتھ ’’تیشۂ کرب‘‘، ’’اضطرار‘‘، ’’گرہِ نیم باز‘‘ اور ’’ارتعاش‘‘۔ اور پھر ان کی خُودنوشت ’’اپنے زخموں کا لہو‘‘۔ عنوان ہی کافی ہے کہ آدمی ٹھہر جائے۔
خُودنوشت اگر صرف واقعات کا بیان ہو تو سوانح بن جاتی ہے، مگر جب آدمی اپنی زندگی اپنے زخموں کے خون سے لکھے، تو وہ خُودنوشت سے بڑھ کر اعتراف بن جاتی ہے۔ ’’اپنے زخموں کا لہو‘‘ میں برلاس نے اپنی زندگی کے سفر کو اپنے ہی خون سے روشن کیا ہے، کم از کم عنوان تو یہی گواہی دیتا ہے۔ مجھے اگر مرتضیٰ بیگ برلاس کی شخصیت کو ایک منظر میں سمیٹنا ہو تو میں انہیں یوں دیکھنا پسند کروں گا۔
ایک باوقار شخص، سرکاری زندگی کی طویل راہ داریوں سے گزرکر کسی خاموش کمرے میں آ بیٹھا ہے۔ میز پر کچھ پرانی فائلیں ہیں، پاس چند کتابیں رکھی ہیں، کھڑکی سے شام کا دھندلا اجالا اندر آرہا ہے۔ باہر شہر اپنی رفتار سے چل رہا ہے، مگر اندر ایک شاعر کاغذ پر جُھکا ہوا ہے۔ دن بھر کا افسر اب رخصت ہوچُکا ہے، باقی رہ گیا ہے صرف برلاس۔ اور شاید یہی ’’برلاس‘‘ اُن کی اصل شناخت ہے۔
ملازمت نےاُنہیں عہدےدیے، زمانے نے ذمّےداریاں، شہروں نے انہیں اپنے انتظامی نقشے میں جگہ دی، مگر شاعری نے ایک نام دیا، جو دفتر کی فائل میں نہیں ملتا۔ وہ نام جو قاری کے دل میں بنتا ہے، اوردل کی فائل کبھی بند نہیں ہوتی۔ مرتضیٰ بیگ برلاس شاید اسی لیے محض ایک شاعر یا محض ایک سابق بیوروکریٹ نہیں، وہ ان دونوں جہانوں کے درمیان قائم ایک پُل ہیں۔ ایک طرف نظم و ضبط کی دنیا، دوسری طرف عشق و اضطراب کی دنیا۔
ایک طرف ریاضی کی مساوات، دوسری طرف غزل کی بے حسابی۔ اور اس پُل پر کھڑا ہوا یہ شخص ہمیں شاید یہی کہتا ہے کہ آدمی کی اصل شناخت اس کے عہدے سے نہیں، اس کے اندر کے چراغ سے ہوتی ہے۔ سرکاری چراغ کا وقت مقرر ہوتا ہے۔ لیکن شاعر کا چراغ اگر ایک بار جل جائے، تو اسے بجھانا آسان نہیں اور مُرتضیٰ بیگ برلاس نامی چراغ، زبانِ اُردو کے دالان میں ہمیشہ روشن رہے گا۔
(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں)