برطانیہ کے شہر پورٹسماؤتھ میں تارکینِ وطن کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہونے والے افراد اس وقت حیران رہ گئے جب معلوم ہوا کہ جس گروپ کو وہ پناہ کے متلاشی سمجھ رہے تھے، وہ دراصل پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی تھے۔
واقعہ پورٹسماؤتھ کے ایک میریٹ ہوٹل کے باہر پیش آیا جہاں پاکستان کی نوجوان کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے دورے کے دوران قیام پذیر ہے۔
رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ تارکینِ وطن کو بس کے ذریعے ہوٹل میں ٹھہرایا جا رہا ہے، جس کے بعد تقریباً 40 سے 50 افراد ہوٹل کے باہر جمع ہوگئے۔ بعض مظاہرین نے چہرے بھی ڈھانپ رکھے تھے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب پورٹسماؤتھ میں چند روز قبل انگلش چینل کے راستے آنے والے پناہ کے متلاشی افراد کے معاملے پر شدید احتجاج اور کشیدگی دیکھنے میں آئی تھی۔
ریفارم یوکے کے کونسلر جارج میڈگوِک موقع پر پہنچے اور ہوٹل انتظامیہ سے صورتحال معلوم کی۔ ہوٹل انتظامیہ نے انہیں بتایا کہ وہاں قیام کرنے والے افراد پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی اور عملہ ہیں۔ ٹیم کے کوچ نے بھی کونسلر سے ملاقات کی اور ٹیم کی شناخت سے متعلق ثبوت پیش کیے۔
کونسلر نے باہر موجود مظاہرین کو حقیقت سے آگاہ کیا تو انہوں نے وضاحت قبول کرلی اور چند ہی منٹ میں وہاں سے چلے گئے۔
جارج میڈگوِک کے مطابق تقریباً پانچ منٹ کے اندر پوری بھیڑ منتشر ہوگئی اور صورتحال مزید کشیدہ ہونے سے بچ گئی۔
پاکستان انڈر 19 ٹیم اس وقت انگلینڈ کے دورے پر ہے اور انگلینڈ انڈر 19 کے خلاف ٹیسٹ اور ایک روزہ میچز کھیل رہی ہے۔
واقعے کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطہ کرکے کھلاڑیوں کی خیریت اور سلامتی کے بارے میں دریافت کیا جبکہ باقی دورے کے دوران ٹیم کی سیکیورٹی کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
