• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں میری سربراہی میں ہونیوالے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اکنامک افیئرز کے اجلاس میں سندھ کے چند اہم منصوبوں میں غلط منصوبہ بندی، کرپشن، ڈیزائن میں بار بار تبدیلی اور وفاقی حکومت کی جانب سے منصوبوں کیلئے مطلوبہ فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث غیر معمولی تاخیر کی وجہ سے منصوبوں کی لاگت میں کئی گنا اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

ان منصوبوں میں کراچی میں پینے کے صاف پانی کی سپلائی کا منصوبہ K4، کراچی پورٹ (KPT) سے ہیوی ٹریفک اور کنٹینرز کی آمد و رفت کیلئے ایک بلند ایکسپریس وے لیاری ایلی ویٹڈ فریٹ کوریڈور (LEFC) منصوبہ جس کا مقصد اندرون شہر سے ہیوی ٹریفک کا دبائو کم کرنا اور بندرگاہ تک کارگو کی براہ راست رسائی ممکن بنانا ہے جبکہ تیسرا حیدرآباد سکھر موٹر وے منصوبہ (M6) ہے۔ پہلے دو منصوبوں پر میں اپنے گزشتہ کالم میں تفصیل سے ذکر کرچکا ہوں اور آج تیسرے اہم منصوبے حیدرآباد سکھر موٹر وے کی تعمیر میں9 سال کی تاخیر کے بارے میں حقائق بیان کرنا چاہوں گا۔

306 کلومیٹر طویل 6لائنوں پر مشتمل حیدرآباد سکھر موٹر وے (M6) کراچی پشا ور موٹر وے کے درمیان ایک نامکمل حصہ ہے۔ اس پروجیکٹ کا 2015ء میں اعلان کیا گیا تھا جس کی اس وقت مالیت 175ارب روپے تھی۔ یہ منصوبہ پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کا حصہ تھا اور 2017ء میں اسکا ٹھیکہ چائنیز کمپنی CSCEC کو دیا گیا تھا جسے اس منصوبے کو 2019ء میں مکمل کرنا تھا لیکن مالی مشکلات اور وفاقی حکومت کی ترجیحات میں تبدیلی کے باعث یہ پروجیکٹ روک دیا گیا۔ 2021ء میں یہ پروجیکٹ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ماڈل پر نئی لاگت 191ارب روپے کیساتھ دوبارہ ڈیزائن کیا گیا لیکن 2023ء میں دوبارہ مالی مشکلات کے باعث نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ معاہدہ منسوخ کردیا اور 2025ء میں حکومت نے اس پروجیکٹ کو مختلف سیکشنز میں مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ حیدرآباد سکھر موٹر وے کا پہلا اور دوسرا سیکشن پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ (PPP) تیسرا سیکشن اوپیک فنڈز، چوتھا اور پانچواں سیکشن اسلامک ڈویلپمنٹ بینک کرے گا۔

جس کیلئے اسلامک ڈویلپمنٹ بینک نے گزشتہ سال یکم اکتوبر کو 475 ملین ڈالر جاری کرنے کی منظوری دی تھی جبکہ منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 1.7ارب ڈالر لگایا گیا ہے لیکن 9سال کی تاخیر کی وجہ سے پروجیکٹ کی مالیت 165ارب روپے سے بڑھ کر 364ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ وزارت منصوبہ بندی کے مطابق اس پروجیکٹ کے نادرن سیکشن کو مئی 2029ء تک مکمل کرنے کا ہدف ہے لیکن حیدرآباد سکھر موٹر وے کی تعمیر کیلئے خریدی جانے والی زمین کی مد میں وفاقی حکومت کی جانب سے دیئے گئے 4ارب 9کروڑ روپے میں سے 2ارب 16کروڑ روپے کی خورد برد میں ملوث سندھ بینک کے 3افسران کی گرفتاری کی وجہ سے منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہوگیا جسکے باعث منصوبے کی لاگت میں مزید 200ارب روپے کا اضافہ ہوگیا جو عوام کے ٹیکسوں سے پورا کیا جائے گا۔

رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ میں حیدرآباد سکھر موٹر وے کیلئے وفاقی حکومت نے مطلوبہ 70ارب روپے کے مقابلے میں صرف 30ارب روپے مختص کئے ہیں جو پروجیکٹ کو پھر دوبارہ مالی مشکلات سے دوچار کرسکتا ہے۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کے اجلاس میں اعلان کیا ہے کہ 2ارب ڈالر کی لاگت سے حیدرآباد سکھر موٹر وے (M6) اور کراچی حیدرآباد موٹر وے (M9) کی رواں مالی سال تعمیر شروع ہوجائے گی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے معاشی امور کے علاوہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی نے بھی NHA کو ہدایت کی ہے کہ وہ حیدرآباد سکھر موٹر وے M6 منصوبے کی فوری تعمیر شروع کرے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ پہلی ترجیح حیدرآباد سکھر موٹر وے (M6) منصوبے کو دی جائے لیکن اسکے باوجود منصوبہ سست روی کا شکار ہے۔ حیدرآباد سکھر موٹر وے کی تعمیر سے صرف اس علاقے کی ترقی کا عمل تیز نہیں ہوگا بلکہ کراچی کی بندرگاہ سے پورے ملک میں سامان پہنچانے کے عمل میں بھی تیزی آئے گی اور ساتھ ہی اس شاہراہ پر روزانہ ہونے والے ٹریفک حادثات میں کمی واقع ہو گی۔ حیدرآباد سکھر موٹر وے انتہائی اہم منصوبہ ہے، یہ کراچی اور لاہور کے درمیان موٹروے کا آخری تاحال نامکمل حصہ ہے جس کے کام کا آغاز حال ہی میں کیا گیا ہے تاکہ ملک کے بالائی اور زیریں حصوں کو براہ راست جوڑا جا سکے۔

اس موٹر وے کی تکمیل سے ہم1650کلومیٹر کراچی پشاور (نارتھ سائوتھ) موٹر وے استعمال کرسکتے ہیں جس سے ٹرانسپورٹیشن اور لاجسٹک لاگت میں بھی کمی آئے گی جو قومی رابطے کی بحالی کیساتھ ساتھ ہماری زراعت اور ایکسپورٹس کو مقابلاتی ہونے میں مدد دے گی۔

تازہ ترین