• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کو اس وقت ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو صرف ڈگریاں دینے تک محدود نہ ہو بلکہ نوجوانوں کو علم، مہارت، تحقیق، روزگار اور عالمی مسابقت کیلئے تیار کرے۔ اسی سوچ کے تحت گزشتہ چھ ماہ کے دوران ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں متعدد اصلاحات اور نئے اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ ہماری کوشش رہی ہے کہ توجہ محض توسیع سے ہٹ کر معیار، ادارہ جاتی استحکام، جواب دہی، جدید نصاب، مؤثر تحقیق، ڈیجیٹل تبدیلی اور طلبہ کی سہولت پر مرکوز کی جائے۔فروری 2026ءسے ہماری اولین ترجیح HEC کے اندر اجتماعی اور ادارہ جاتی فیصلہ سازی کو مضبوط کرنا رہی ہے۔ اس عرصے میں کمیشن کے چار اجلاس منعقد ہوئے اور اہم پالیسی معاملات کو باقاعدہ کمیشن کے سامنے لایا گیا۔ میرا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ مضبوط ادارے افراد پر نہیں بلکہ مضبوط نظام، مشاورت اور جواب دہی پر قائم ہوتے ہیں۔اسی مقصد کے تحت HEC کی سینئر قیادت کو بھی مستحکم کیا گیا۔ تین ممبران اور نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کی تقرری کی گئی، جبکہ کوالٹی ایشورنس، منصوبہ بندی و مانیٹرنگ، اکیڈمکس اور تحقیق کے شعبوں میں ذمہ داریاں واضح طور پر تقسیم کی گئی ہیں۔ اہم اصلاحاتی شعبوں میں ٹاسک فورسز اور ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں جن کی پیش رفت کو اب واضح اہداف اور نتائج کی بنیاد پر مانیٹر کیا جا رہا ہے۔

اعلیٰ تعلیم میں معیار ہماری سب سے اہم ترجیح ہے۔ جامعات اور ڈگری پروگراموں کی کارکردگی کے مؤثر جائزے کیساتھ ساتھ ایکریڈٹیشن کونسلز کی کارکردگی جانچنے کیلئے بھی نظام وضع کیا گیا ہے۔ نئی جامعات کے قیام کے معیار پر نظرثانی کی گئی ہے اور تحصیل کی سطح پر نئے کیمپس کے قیام پر پابندی کا مقصد بھی یہی ہے کہ غیر ضروری توسیع کے بجائے معیار کو مقدم رکھا جائے۔طلبہ کی سہولت کیلئے بھی نمایاں اقدامات کیے گئے ہیں۔ تقریباً 56ہزار ڈگری سے متعلق دیرینہ کیسز، جن میں بعض گیارہ سال تک زیر التوا تھے، حل کرنے کیلئے اقدامات کیے گئے، جبکہ 156پی ایچ ڈی کے پرانے کیسز بھی نمٹائے گئے۔ ڈگری اٹیسٹیشن کو آن لائن اور پیپرلیس بنایا جا رہا ہے اور غیر ضروری تصدیقی مراحل ختم کیے جا رہے ہیں۔ نوجوانوں کا قیمتی وقت انتظامی رکاوٹوں میں ضائع نہیں ہونا چاہئے۔نصاب کی جدت بھی اصلاحاتی ایجنڈے کا بنیادی حصہ ہے۔ ہم ایسے گریجویٹس تیار کرنا چاہتے ہیں جو صرف کتابی علم نہیں بلکہ عملی مہارتیں بھی رکھتے ہوں۔ اسی لیے نصاب میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، واضح تعلیمی نتائج اور ضروری مہارتیں شامل کی جا رہی ہیں۔ Outcome Based Education کو فروغ دیا جا رہا ہے جبکہ’’AI for All—AI in All‘‘ کے تصور کے تحت مصنوعی ذہانت کی بنیادی تعلیم کو مختلف ڈگری پروگراموں کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ Dual، Double اور Joint Degree پروگراموں کے لیے بھی امکانات کو وسعت دی جا رہی ہے۔تحقیق کے شعبے میں ہماری توجہ تعداد سے زیادہ معیار اور اثر پر ہے۔ HEC سے تسلیم شدہ یا معاونت یافتہ جرائد کی تعداد تقریباََ 450۔500سے کم کرکے قریب 250 کی گئی ہے تاکہ معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسکے برعکس NRPU کے منظور شدہ تحقیقی منصوبے 49سے بڑھکر 149ہوئے ہیں۔ ملک کے چاروں صوبوں کے نمایاں محققین کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی تاکہ نوجوانوں میں تحقیق اور جدت کا رجحان مضبوط ہو۔ باصلاحیت نوجوانوں کی شناخت کیلئے National Talent Hunt Programme کو بھی دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔ اسکے ذریعے O-Level، A-Level اور FSc کے نمایاں طلبہ کو International Science Olympiads اور دیگر عالمی مقابلوں کیلئے تیار کیا جائیگا۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے ذہین نوجوانوں کو ابتدا ہی سے آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ڈیجیٹل تبدیلی میں بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ملک کے 282اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سے 191ادارے ڈیجیٹل نظام سے منسلک ہو چکے ہیں۔ PERN،Wi-Fi، کلاؤڈ انفراسٹرکچر، ڈیٹا سینٹرز اور High-Performance Computing کی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔ HEC-funded graduates کیلئے alumni portal تیار کیا گیا ہے جبکہ BS، MS اور PhD گریجویٹس کیلئے قومی Job-matching portal بھی تکمیل کے قریب ہے تاکہ تعلیم اور روزگار کے درمیان موجود خلا کو کم کیا جا سکے۔پاکستانی جامعات کی عالمی شناخت بھی بہتر ہو رہی ہے۔ تقریباً 45سے 46پاکستانی ادارے Times Higher Education اور 18 ادارے QS rankings میں شامل ہیں۔ Fulbright، Pak–US Knowledge Corridor، DAAD، Stipendium Hungaricum، Cambridge Trust اور دیگر پروگراموں کے ذریعے پاکستانی طلبہ کیلئےعالمی مواقع بڑھائے جا رہے ہیں۔ چین کیساتھ جامعاتی تعاون، مصنوعی ذہانت، smart universities، cloud technology اور مشترکہ تحقیق کے شعبوں میں بھی روابط کو وسعت دی گئی ہے۔

یہ چھ ماہ کسی منزل کا اختتام نہیں بلکہ اصلاحات کے ایک طویل سفر کا آغاز ہیں۔ ہمارا مقصد ایسی جامعات تشکیل دینا ہے جو معیاری تعلیم دیں، تحقیق کو قومی ضروریات سے جوڑیں، نوجوانوں کو جدید مہارتوں اور روزگار کیلئے تیار کریں اور پاکستان کو عالمی علمی معیشت میں ایک مضبوط اور باوقار مقام دلائیں۔

تازہ ترین