• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اقبال نے سو سال پہلے روس میں سوشلسٹ انقلاب برپا کرنے والے لیڈر کے انتقال پر کہی گئی ’’لینن خدا کے حضور میں ‘‘نامی نظم میں ، انسانی دنیا کے معاملات میں مشینوں یا مصنوعی ذرائع کے بڑھتے ہوئے عمل دخل کے حوالے سے جس خطرے کی نشان دہی لینن کی زبانی ان الفاظ میں کی تھی کہ

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت

احساسِ مروّت کو کچل دیتے ہیں آلات

وہ آج کرہ ارض پر پوری طرح مسلط ہے ۔ مشینیں اپنے بے شمار نہایت مفید پہلوؤں کے باوجود انسانوں کو ایک دوسرے جس طرح لاتعلق کرتی چلی جارہی ہیں اُس کے مظاہر ہر طرف عام ہیں۔ محض موبائل فون ہی نے ایک ہی گھر کے افراد میں فاصلے اس طرح بڑھادیے ہیں کہ سب ایک دوسرے سے بے گانہ اور بے نیاز دکھائی دیتے ہیں۔ چھوٹے بچے جو پہلے راتوں کو سونے سے پہلے نانیوں، دادیوں اور ماں باپ سے کہانیاں سنتے تھے اور ان کے ذریعے تربیت کے مراحل طے کرتے اور معاشرت و تہذیب کے آداب سیکھتے تھے، اب انہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔ خاندان کے بزرگ اور والدین بھی اس چندانچ کے آلے کے توسط سے اپنی من پسند دلچسپیوں میں مگن رہنے کی خاطر کوشش کرتے ہیں کہ بچوں کو حتی الامکان کم سے کم وقت دینا پڑے۔ کئی عشرے پہلے جب گھروں میں ٹی وی نہیں ہوتے تھے تو دور دراز کے رشتے داروں سے بھی ملنے جلنے کا رواج عام تھا کیونکہ لوگوں کے پاس وقت کی قلت نہیں تھی ۔

تاہم ٹی وی کی آمد کے بعد کم از کم گھر کے تمام لوگ ڈرامے ، کرکٹ میچ اور مشترکہ دلچسپی کے دیگر پروگرام ساتھ بیٹھ کر دیکھا کرتے تھے ۔ طویل ڈرامے اور فلمیں دیکھنے کیلئے وی سی آر کا استعمال شروع ہوا تب بھی سارے گھر والے بلکہ پاس پڑوس کے لوگ بھی یکجا ہوجاتے تھے۔ لیکن انٹرنیٹ سے جڑے موبائل فون نے تو ہر شخص کی اپنی الگ ہی دنیا بنادی ہے۔ حتیٰ کہ لوری سننے کی عمر والا بچہ بھی موبائل کی اسکرین پر انگلیاں پھیر کر اپنی دلچسپیاں تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

مصنوعی ذہانت انسانوں میں فاصلے بڑھانے کا کام ہولناک تیز رفتاری سے انجام دے رہی ہے۔ اس کے نتیجے میںباہمی انسانی رابطوں کی ضرورت ختم ہوتی جارہی ہے۔ استاد اور شاگرد کا پیارا اور محترم رشتہ آنے والے دنوں میں ماضی کی یادگار بن جانے کا اندیشہ اب حقیقت کی شکل اختیار کرنے کے قریب ہے۔ انسانی ہاتھوں اور دماغ کی جگہ آئندہ چند برسوں میں مکمل طور پر مشینیں لینے والی ہیں۔ ایلون مسک کے مطابق آئندہ دس سال میں سارے کام روبوٹ انجام دیں گے اور انسانی کارکنوں کی کسی دفتر ، دکان، بازار اور کارخانے میں ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

سوچئے جب انسان کو نہ اپنے دماغ سے کام لینے کی ضرورت ہوگی نہ ہاتھ پاؤں سے تو اس کا نتیجہ انسان کے ایک فضول و بے کار شئے بن جانے کے سوابھلا اور کیا نکلے گا اور دنیا کو اس کی کیا ضرورت رہے گی۔ یہ محض کوئی تصوراتی خدشہ نہیں ۔ ابھی دو دن پہلے ہی عالمی شہرت یافتہ اے آئی کمپنی اینتھراپک کے تحقیق کار جیکب کوکسن نے اسی بنیاد پر ملازمت سے استعفیٰ دیدیا ہے کہ اے آئی نے انسانی زندگی کیلئے سنگین خطرات پیدا کردیے ہیں۔ان کے مطابق اینتھرا پک اور اس کی حریف اوپن اے آئی نامی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کی ترقی کی دوڑ میں انسانی زندگی کے لیے انتہائی سنگین خطرات مول لے رہی ہیں۔جیکسن نے ان دونوں کمپنیوں میں کام کیا ہے اور ان کے بقول اس شعبے میں کام کرنے والے کئی ممتاز ماہرین یقین رکھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مسابقت کی یہ دوڑ رواں دہائی کے اختتام تک پوری انسانیت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے ۔ صورت حال اتنی خوفناک ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور ریڈ کراس کے سربراہ تک پکار اٹھے ہیں کہ مصنوعی ذہا نت سے لیس خود فیصلے کرنے والے قاتل ہتھیار جن کا استعمال آج کی جنگوں میں عام ہورہا ہے، انسانیت کے احترام اور تقدس کو پارہ پارہ کررہے ہیں۔

اگست کی آخری تاریخوں میں اقوام متحدہ کے سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گتیرس اور انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے صدرمرجانا سپولجارک ایگر نے دنیا بھر کی ریاستوں کو متنبہ کیا ہے کہ اس صورت حال کو عالمی سطح پر سختی سے کنٹرول کرنے کیلئے فوری کارروائی ناگزیر ہے بصورت دیگر ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔مشترکہ اپیل میں انہوں نے دنیا کو ان الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ ’’ خود مختار مشینوں سے انسانوں کو نشانہ بنانے کا عمل اخلاقی سرخ لکیر کو عبور کرنے کے خطرناک حد تک قریب ہے۔‘‘ اقوام متحدہ میں تخفیف اسلحہ کے امور کی سربراہ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا دیرینہ موقف ہے کہ ’’ایسے نظام جو خود اہداف کا انتخاب کرتے ہیں اور انسانی جانیں انسانی کنٹرول اور فیصلے کے بغیر لیتے ہیں، سیاسی طور پر ناقابل قبول اور منافی اخلاق ہیںلہٰذا بین الاقوامی قانون کے تحت انہیں ممنوع قرار دیا جانا چاہیے ‘‘

ان حقائق سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انسانی دنیا پر مشینوں کی روز بروز بڑھتی ہوئی حکمرانی رواداری و مروّت کے اعلیٰ اخلاقی اوصاف کو پامال کرتے ہوئے نہ صرف دلوں کی دنیا کو ویران کر رہی ہے بلکہ فی الحقیقت پوری انسانیت ہی کے خاتمے کا سامان کررہی ہے۔انسانیت کی بقا و سلامتی کا تقاضا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے انسانیت کی بھلائی ، ترقی اور خوشحالی کیلئے تو بہتر سے بہتر طور پر زیادہ سے زیادہ کام لیا جائے لیکن اس کا ایسا ہر استعمال روکا جائے جو انسانیت کی بھلائی سے متصادم ہو۔ایسا نہ کیا گیا تو یہ خدشہ بے بنیاد نہیں کہ دورحاضرکی تہذیب جو اقبال کے الفاظ میں شاخ نازک پر بنے آشیانے کی طرح ناپائیدار ہے، اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کربیٹھے گی۔

تازہ ترین