• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایسے میں جب دنیا کی معیشت آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پہلے ہی بحران کا شکار تھی، گزشتہ دنوں یمن کے اسٹرٹیجک اہمیت کی حامل موچا بندرگاہ اور آبنائے باب المندب کے وسط میں واقع اہم جزیرے پیریم پر حکومت مخالف حوثیوں کے قبضے اور جواباً سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں پر 60 سے زائد فضائی حملوں سے خطے میں جاری بحران مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔ حالیہ پیشرفت کے بعد توانائی کی ترسیل کا ایک اہم سمندری راستہ حوثیوں کے قبضے میں آگیا ہے اور یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت اور ایران نواز حوثی گروپ کے درمیان جاری لڑائی اب باقاعدہ ایک جنگ کی صورت اختیار کرگئی ہے۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دو مرتبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے حوثیوں کے خلاف موثر اور سخت کارروائی کی درخواست کی مگر امریکی صدر نے حوثیوں کیخلاف کارروائی کی درخواست مسترد کر دی۔ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ حوثی گروپ نے امریکی انتظامیہ سے رابطہ کرکے سعودیہ حوثی تنازع سے دور رہنے کی درخواست کی اور موقف اختیار کیا کہ سعودی عرب کے علاوہ کسی بھی ملک کے بحری جہازوں کی باب المندب سے گزرنے پر کوئی پابندی نہیں۔ امریکی انتظامیہ نے حوثیوں کو یقین دلایا کہ امریکہ اس تنازع سے دور رہے گا۔

موجودہ صورتحال نے یہ حقیقت عیاں کردی ہے کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک جو اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ مشکل وقت میں امریکہ اُن کی مدد کو ضرور آئیگا لیکن امریکہ نے برے وقت میں انہیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔ اس صورتحال نے پاکستان کیلئے بھی نئی مشکلات پیدا کردی ہیں، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 107ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے باعث حکومت کیلئے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 24روپے فی لیٹر سے زائد کا اضافہ ناگزیر ہوگیا۔ پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے جن کی معیشت توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتی ہے، عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست پاکستان کے امپورٹ بل میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب دونوں اہم بحری راستے بیک وقت دبائو کا شکار ہوئے تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہوسکتی ہے جسکے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 120ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں ہر 10ڈالر فی بیرل اضافے سے پاکستان کے خام تیل کے امپورٹ بل میں 1.5ارب ڈالر کا اضافہ ہوتا ہے۔ رواں سال فروری میں امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کے وقت عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل تھی جو آج 107 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی ہے اور اس طرح پاکستان کے خام تیل کے امپورٹ بل میں 5ارب ڈالر کا اضافہ ہوچکا ہے۔ 2025-26ء میں تیل کا امپورٹ بل 17ارب ڈالر تھا جو موجودہ صورتحال میں 2026-27ء میں 22ارب ڈالر تک پہنچتا دکھائی دے رہا ہے جس سے نہ صرف روپے پر دبائو بڑھے گا بلکہ مہنگائی میں بھی اضافہ ہوگا اور ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے کے باعث اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔ اسی طرح بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھے گی جو بالآخر صارفین کو منتقل ہوگی نتیجتاً افراط زر میں اضافے کیساتھ بینکوں کے شرح سود میں بھی اضافہ متوقع ہے جس سے ملکی جی ڈی پی گروتھ متاثر ہوگی۔ پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار ترسیلات زر پر ہے، اس وقت خلیجی ممالک میں 47لاکھ سے زائد پاکستانی روزگار سے وابستہ ہیں جو سالانہ 20ارب ڈالر سے زائد ترسیلات زر اپنے وطن بھیجتے ہیں۔ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو خلیجی ممالک کی معیشتیں بھی متاثر ہونگی جسکے نتیجے میں وہاں مقیم پاکستانیوں کے روزگار کو خطرات لاحق ہونے کے خدشات ہیں جس سے پاکستان کو موصول ہونیوالی ترسیلات زر میں کمی واقع ہوگی اور یہ صورتحال پہلے ہی دبائو کا شکار پاکستانی معیشت کیلئے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگی۔مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال نے سعودی عرب کے اتحادیوں کیلئے بھی مشکل اور فیصلہ کن مرحلہ پیدا کردیا ہے اور پاکستان اس وقت ایک نہایت حساس دوراہے پر کھڑا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، مذہبی، برادرانہ اور گہرے معاشی تعلقات ہیں جبکہ دفاعی تعاون کے تحت پاکستان، سعودی عرب کی سلامتی کیلئے بھی اہم ذمہ داریاں رکھتا ہے۔ اگرچہ پاکستان نے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کیلئے اپنی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے حوثی گروپ کے حملے کی مذمت کی ہے لیکن اگر یمن کا تنازع وسیع جنگ کی شکل اختیار کرتا ہے تو پاکستان کیلئے محض سفارتی بیانات کافی نہیں ہوں گے بلکہ اسے قومی سلامتی، معاشی مفادات، توانائی کے تحفظ، سمندری تجارت اور خطے میں اپنے اسٹرٹیجک مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک متوازن، واضح اور دوراندیش حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ اپنی تاریخی وابستگی اور دفاعی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے یہ یقینی بنانا ہوگا کہ وہ کسی ایسے تنازع کا حصہ نہ بنے جو اس کی معیشت، سلامتی اور داخلی استحکام کو متاثر کرے۔ یہی توازن آنیوالے دنوں میں پاکستان کی سفارتکاری اور خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا امتحان ہوگا۔

تازہ ترین