• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جب کسی چیز کا فیشن آتا ہے تو وہ صرف کپڑوں پر ہی نہیں گفتگو اوردیگر معاملات پر بھی اثر انداز ہوتاہے جیسا کہ آج کل دانشور ہونے کا یہ بھی معیار ہے کہ آپ اقبال پر تنقید کریں اور کچھ اس طرح سے کریں کہ اپنے تئیں پرخچے اڑا دیں۔ایک وڈیو میں دیکھا کہ ایک صاحب علامہ اقبال کی شاعری، نثر اور ذاتی زندگی پر طنز کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ اقبال نے تو خود کہہ دیا تھا کہ ’اقبال بڑااپدیشک ہے من باتوں سے موہ لیتا ہے...گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا‘۔اس سے غالباً انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ اقبال نے خود اپنی کمزوری کا اعترا ف کیا ہے۔ایسی دانشوری کو مدنظر رکھتے ہوئے قتیل شفائی کو بھی نشانے پر رکھنا چاہیے جو فرماتے ہیں ’میں تو مرکر بھی مری جان تجھے چاہوں گا‘۔بھلا کبھی ایسا ہوسکتاہے کہ کوئی انسان مرنے کے بعد بھی کسی سے پیار کر سکے؟۔اورپھرفیض نے کہا تھا’مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں …جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے‘۔ اس میں بھی شاعر بہت بڑا جھوٹ بول رہا ہے کیونکہ شاعر پوری زندگی کبھی سوئے دار یعنی پھانسی گھاٹ کی طرف نہیں جاتا دیکھا گیا۔جون ایلیا پرآجائیے، فرماتے ہیں ’اِس گلی نے یہ سن کے صبر کیا…جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں‘۔ حد ہوگئی ہے۔کبھی کسی گلی نے بھی صبر کیا ہے، گلی تو بے جان چیز ہوتی ہے۔اس طرح کی تنقید کرتے جائیں اور اقبال سمیت شاعروں اور شاعری کو تہس نہس کرتے جائیں۔اکثرروشن خیال دانشور کسی کی تخلیق سے زیادہ اُس کی ذاتی زندگی کو بنیاد بنا کر تنقید کا نکتہ ڈھونڈتے ہیں۔ویسے تو غالب اور اقبال الگ الگ انداز کے شاعر ہیں لیکن تقابلی دانشوروں کے مطابق اقبال نے خوشامد بہت کی ہے البتہ غالب ؔکے قصیدے ایک طرف رکھ دینے چاہئیں۔

٭ ٭ ٭

ایک نئی پنجابی فلم سینما میں ریلیز ہوئی ہے جس میں لگ بھگ 70سال کا ہیرو سامنے آیا ہے۔ ہیرو صاحب نے چونکہ فلم پر پیسہ لگایا تھا لہٰذا ڈائریکٹر صاحب نے انہیں باور کرایا کہ جب پیسہ آپ کا ہے تو ہیرو اور کوئی کیسے ہوسکتاہے۔سوشل میڈیا پر اس فلم کی صبح شام حجامت ہورہی ہے۔یہ ساری فلم غالباً سینما والوں کو پلے سے پیسے دے کر لگوائی گئی ہے۔وہی غنڈے، بدمعاش، لڑائیاں، انتقام اورصدیوں سے چبائے ہوئے مکالمے۔بتایا جارہاہے کہ فلم ساز نے اپنا اینٹوں کا بھٹہ بیچ کر فلم بنائی ہے۔پتا نہیں قبلہ کب سے یہ خواہش دل میں بسائے ہوئے تھے کہ وہ بھی کبھی سلطان راہی بن جائیں۔ ایک انٹرویو میں فلم کی ہیروئین اور ڈائریکٹر نے لوگوں کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سلطان راہی اور امیتابھ بچن بھی تو بڑی عمر کے ہونے کے باوجود ہیرو آتے رہے ہیں۔سبحان اللہ۔کیا جواب ہے۔ڈائریکٹرصاحب سے گزارش ہے کہ ذاتی پیسوں سے فلم بنائیں اور اِسی ہیرو کو اُس میں کاسٹ کریں۔ہماری فلم انڈسٹری کی بربادی اسی لیے ہوئی کہ پرجوش لیکن نااہل لوگوں نے پیسے والوں کا پیسہ لگوایا اور اُنہی کے کردار اور اُنہی کی کہانیوں کو فلم کا نام دے کر سینما پر لگایا۔پنجابی فلموں کا سنسربورڈ ایسی فلموں کو پاس کیسے کر دیتاہے؟فی الحال ضرورت نئی فلمیں بنانے کی نہیں بلکہ ایسی فلموں کو بننے سے روکنے کی ہے۔ایسی فلمیں عوام نہیں دیکھتے بلکہ مفت کے ٹکٹ دے کر اپنے دوستوں رشتے داروں کا ہجوم سینما میں اکٹھا کرلیا جاتاہے اور اس کی وڈیوز بنا کر تاثر دیا جاتاہے کہ فلم بڑا رش لے رہی ہے۔اپنے ایک انٹرویو میں مذکورہ فلم کی ہیروئین فرما رہی ہیں کہ ہم نے تو فلم انڈسٹری کو پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔حالانکہ انہیں کہنا چاہیے تھا کہ ہم نے فلم انڈسٹری کے پاؤں کاٹنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری محض فلمی بونگیاں مارنے سے نہیں کھڑی ہونے والی۔فلم ایک نہایت تخلیقی میڈیم ہے۔گنڈاسے اور لاچے کرتے سے نکل کر فلمیں بنیں گی تو شائد کچھ بہتری آئے گی ورنہ یہی ہوگا کہ لوگ تھرڈکلاس چیز کو فلم کا نام دیں گے اور پھر چیخ چیخ کر بتائیں گے کہ ہم نے فلم انڈسٹری پر احسان کردیا ہے۔ان لوگوں کی ایک پہچان ہے، یہ ہیروئین کو ’ہیر۔ون‘ کہتے ہیں۔

٭ ٭ ٭

ہم سب موت پر یقین رکھتے ہیں۔عموماً میاں بیوی اچھے موڈمیں ہوں تو یہ جملہ ضرور کہتے ہیں ”اگر پہلے مجھے موت آگئی تو؟“ اِس کے بعد دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے منہ پر ہاتھ رکھ کر فلمی انداز میں کہتا ہے”اللہ نہ کرے کیوں ایسی منحوس باتیں منہ سے نکالتے ہیں“۔ حالانکہ یہی منحوس باتیں ڈسکس نہ کرنا بعض اوقات بعد میں منحوس حالات کا باعث بن جاتاہے۔میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے، بہترین زندگی گزارتے ہیں، روپے پیسے کی بھی کمی نہیں ہوتی، بیوی بچوں کو بھی بڑے اچھے ماحول میں رکھا ہوتا ہے، لیکن جونہی کسی حادثے کے نتیجے میں ان کی وفات ہوتی ہے گھر والے برباد ہوجاتے ہیں۔ کسی کو کچھ پتا نہیں ہوتا کہ وفات پانے والے سربراہ کے اے ٹی ایم کا کیا نمبر ہے، کس کس بینک میں اکاؤنٹ ہے،سیونگ سرٹیفکیٹس کہاں پڑے ہیں؟ لاکر کس بینک میں ہے، کس سے پیسے لینے ہیں اور کس کو دینے ہیں۔پرانے وقتوں میں لوگ ڈائریاں لکھا کرتے تھے، ان کی وفات کے بعد ڈائریاں کھولی جاتی تھیں اور بہت سارے معاملات کا پتا چل جایا کرتا تھا آج کل ای میل کادورہے اور اس کا پاس ورڈ صرف سوائے تازہ تازہ محبت میں گرفتار ہوئے پریمی جوڑوں کے علاوہ کوئی آپس میں شیئرنہیں کرتا۔نتیجتاً سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اولاد کو کچھ پتا نہیں چل پاتا کہ اُن کا باپ ان کے بہتر مستقبل کیلئے کیا بچت کرتا رہا ہےیہ ساری بچت بینکوں کے لاکرز یا خفیہ اکاؤنٹس میں پڑی رہ جاتی ہے۔ اورگھر والوں کومجبوراً کسی ایسے عامل کو ڈھونڈنا پڑتا ہے جو”کشف ِ قبور“ کا ماہر ہواور قبر میں مُردے سے بات کرکے اُس سے ای میل کا پاس ورڈ معلوم کرسکے۔

تازہ ترین