چند دن پہلے بیجنگ میں تھا اور اب واشنگٹن میں ہوں۔ شہر بدل گئے ہیں، منظر بدل گئے ہیں، مگر دنیا وہی ہے جسے ہم ہر روز نئے ناموں سے پکارنے کی کوشش کرتےہیں۔ بیجنگ سے واشنگٹن تک کا سفر بظاہر ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر ہے، لیکن کبھی کبھی آدمی کو لگتا ہےکہ وہ ایک زمانے سے دوسرے زمانے میں جا رہاہے۔ بیجنگ میں ایک اور طرح کی دنیا دکھائی دیتی ہے اور واشنگٹن میں دوسری۔ مگر دونوں جگہ ایک سوال آدمی کے ساتھ چلتا ہے کہ دنیا آخر جا کہاں رہی ہے؟امریکہ کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کیلئے اب صرف دشمن ہی مسئلہ نہیں، دوست بھی ایک سوال بن گئے ہیں۔ یورپ کا ذکر آتا ہے تو امریکی لہجے میں شکوہ محسوس ہوتا ہے۔ یورپ نے وہ ساتھ نہیں دیا جسکی امریکہ کو توقع تھی۔ امریکہ عشروں سے یورپ کی سلامتی کا نگہبان بنا رہا۔ اس نے اپنے سپاہی بھیجے، اپنے وسائل لگائے اور اپنے سایے کو یورپ کے اوپر قائم رکھا۔ اب اگر وہ پلٹ کر دیکھتا ہے تو اسے شکایت ہے کہ جس کیلئے اتنا کچھ کیا، وہ مشکل گھڑی میں اتنا ساتھ بھی نہ دے سکا جتنا واشنگٹن چاہتا تھا۔لیکن شاید زمانہ بدل گیا ہے۔ یورپ بھی وہ یورپ نہیں رہا جسے کبھی دنیا کی صنعتی قوت اور تہذیبی مرکز ہونےپر ناز تھا۔ اس کی معیشت کی رفتار دھیمی پڑ گئی ہے۔ پرانی قوتیں آہستہ آہستہ اپنی جگہ چھوڑتی ہیں اور اکثر انہیں اس کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب نئی قوتیں ان کے دروازے پر آ کھڑی ہوتی ہیں۔ یورپ کی اہمیت ختم نہیں ہوئی، مگر اس کی پرانی شان میں کمی ضرور آئی ہے۔ تاریخ میں زوال ہمیشہ شور سے نہیں آتاکبھی وہ خاموشی سے آتا ہے اور آدمی کو بعد میں خبر ہوتی ہے کہ بہت کچھ پہلے ہی بدل چکا تھا۔پھر مشرق وسطیٰ ہے۔ ایران کے خلاف کارروائی میں امریکہ کو عرب دنیا سے وہ ساتھ نہیں ملا جسکی اسے امید تھی۔ عجیب بات یہ ہے کہ ایران کے حملوں کے باوجود اس خطے نے تحمل کا دامن نہیں چھوڑا۔ امریکہ کیلئے یہ بات ،حیرت بھی ہے اور تشویش بھی۔ اسے شاید یہ گمان تھا کہ جس خطے میں اس کی فوجی موجودگی اتنی پرانی ہے، وہاں اس کی آواز پر سب دروازے ایک ساتھ کھل جائیں گے۔ مگر دروازے صرف طاقت سے کبھی نہیں کھلتے بعض دروازوں کے پیچھے تاریخ کھڑی ہوتی ہے۔اب امریکہ نے شاید اس صورتحال کا ایک نیا جواب ڈھونڈ لیا ہے۔
گزشتہ جنگ میں دنیا کے بہت سے حصوں میںامریکی مخالفت کی ایک بڑی وجہ اسرائیل تھا۔ اب اسرائیل کو منظر کے بیچ سے کچھ پیچھے کرتے ہوئے عرب دنیا اور اس سے متعلق مسائل کو سامنے لایا جا رہا ہے۔ باب المندب کی طرف دیکھیں تو ایک اور منظر دکھائی دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے مشرقِ وسطیٰ سے اس کے رویے کا حساب لیا جا رہا ہو۔ جنہوں نے ایران کے خلاف امریکہ کا ساتھ اسکی خواہش کے مطابق نہیں دیا، ان کیلئے شاید اب خطے کے حالات ہی ایک خاموش پیغام بن گئے ہیں۔مگر امریکہ خود بھی اس وقت آسانی کے زمانے میں نہیں۔ مہنگائی یہاں بھی محسوس ہوتی ہے۔ گزشتہ سال انہی دنوں امریکہ آیا تھا۔ ایک برس میں قیمتوں کا فرق آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات معاشی بحران اعداد میں نہیں، دکان کے کاؤنٹر پر کھڑے آدمی کے چہرے پر نظر آتا ہے۔ امریکہ جیسی دولت مند ریاست میں بھی اگر روزمرہ زندگی مہنگی ہوتی جائے تو پھر دنیا کی باقی معیشتوں کیلئے اس کے اثرات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی امریکہ میں پاکستان کو بھی دیکھا جا رہا ہے۔ یہاں یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ پاکستانی ریاست کے مالی حالات میں کچھ استحکام آیا ہے، مگر سوال یہ کھڑا کیا جا رہا ہےکہ اس استحکام کا فائدہ عام پاکستانی تک کیوں نہیں پہنچ رہا؟ ریاست کے خزانے میں سکون آئے اور گھر کے چولہے میں بے چینی رہے تو یہ سکون زیادہ دیر سکون نہیں رہتا۔ پاکستان کا عام آدمی مہنگائی سے پریشان ہے اور اُسے اس دائرے سے نکلنے کا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ یہی بے بسی آگے چل کر بے چینی پیدا کرتی ہے۔پھر دو صوبے ہیں جہاں امن و امان کی صورت حال نے ایک اور سوال کھڑا کر دیا ہے۔ سوال اب صرف یہ نہیں کہ بدامنی کیوں ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اسے قابو میں لا کر زندگی کو پھر معمول پر لا سکتی ہے؟ جب کسی ملک کے بارے میں یہ سوال بیرون ملک بیٹھ کر ہونے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ معاملہ معمولی نہیں رہا۔اور آخر میں دس ارب ڈالر کا سوال ہے۔ پاکستان امریکہ سے دس ارب ڈالر چاہتا ہے، مگر واشنگٹن میں یہ خیال مضبوط ہے کہ پاکستان کو اتنی بڑی رقم دینے کی ضرورت نہیں۔ شاید یہاں بھی مسئلہ صرف رقم کا نہیں۔ رقم کے پیچھے اعتماد ہوتا ہے، ترجیحات ہوتی ہیں اور وہ نظر بھی ہوتی ہے جس سے ایک ملک دوسرے ملک کو دیکھتا ہے۔
بیجنگ سے واشنگٹن تک آتے ہوئے کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ دنیا میں سب کچھ بدل رہا ہے، صرف انسان کی خواہش وہی پرانی ہے: کوئی اسے سہارا دے۔ مگر بڑی طاقتیں سہارا کم دیتی ہیں، حساب زیادہ رکھتی ہیں۔ قومیں بھی اب پرانی دوستیوں کے سہارے زیادہ دیر نہیں چل سکتیں۔ انہیں اپنے قدموں پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ شاید آنے والے زمانے کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کون اس بدلتی ہوئی دنیا میں اپنا راستہ خود بناتا ہے، اور کون دوسروں کے فیصلوں کا انتظار کرتا رہ جاتا ہے۔