(گزشتہ سے پیوستہ)
اس ترتیب میں ایک گہری معنویت ہے۔ قیادت نعروں سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ سچائی، انصاف اور جرأت کے ذریعے کمائی جاتی ہے۔ صداقت ذاتی کردار، عوامی مکالمے اور ریاستی امور میں دیانت کا تقاضا کرتی ہے۔ عدالت مساوی شہریت، قانون کی حکمرانی اور معاشی انصاف کا مطالبہ کرتی ہے۔ شجاعت ناکام اداروں کی اصلاح، مفاد پرست گروہوں کا مقابلہ، آزادی کے دفاع اور وقتی سہولت پر طویل مدتی قومی مفاد کو ترجیح دینے کا حوصلہ پیدا کرتی ہے۔یوں اقبال تینوں بنیادی سوالات کا جواب دیتے ہیں۔ شناخت بتاتی ہے کہ ہم کون ہیں۔ مقصد واضح کرتا ہے کہ ہمیں کیا کردار ادا کرنا ہے۔ اور کردار، علم اور منصفانہ ادارے ہمیں دکھاتے ہیں کہ اس مقصد کو حاصل کیسے کرنا ہے۔تحریکِ پاکستان خود اس ہم آہنگی کی طاقت کی روشن مثال ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے پہلے شناخت کے سوال کا جواب دیا: وہ محض ایک عددی اقلیت نہیں، بلکہ منفرد تاریخ، اخلاقی تصور اور سیاسی شعور رکھنے والی ایک ملت تھے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے مقصد کا تعین کیا: وہ ایسا وطن چاہتے تھے جہاں وقار کے ساتھ زندہ رہ سکیں اور آزادی، انصاف اور سماجی بہبود کے اصولوں کو اجتماعی زندگی میں ڈھال سکیں۔آخرکار قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں انہوں نے طریقۂ کار کے سوال کا جواب دیا۔ انہوں نے سیاسی تنظیم قائم کی، جمہوری انداز میں عوام کو متحرک کیا اور آئینی جدوجہد کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کیا۔ قائداعظم نے ایک خیال کو تحریک، تحریک کو تنظیم اور تنظیم کو ریاست میں تبدیل کر دیا۔ جغرافیے، زبان اور طبقے کے اعتبار سے منقسم آبادی کو شناخت کی وضاحت، مقصد کی وحدت اور منظم قیادت نے یکجا کر دیا۔پاکستان کا قیام تاریخ کا کوئی اتفاق نہیں تھا۔ یہ ایک ایسی قوم کی جدوجہد کا نتیجہ تھا جو جانتی تھی کہ وہ کون ہے، آزادی کیوں چاہتی ہے اور اسے حاصل کیسے کرنا ہے۔ اقبال نے اس کا فکری نقشۂ راہ مرتب کیا اور قائداعظم نے اسے سیاسی حقیقت میں بدل دیا۔آج ہمارا بنیادی چیلنج قومی تعمیرِ نو کیلئے اسی ہم آہنگی کو دوبارہ پیدا کرنا ہے۔ پاکستان اپنی کامیابی کو ایک کے بعد دوسرے بحران کے انتظام تک محدود نہیں رکھ سکتا۔ محض بلند شرحِ نمو بھی ہمارا مکمل قومی مقصد نہیں ہو سکتی۔ معاشی ترقی ناگزیر ضرور ہے، لیکن وہ تہذیبی پیش رفت کا ایک ذریعہ ہے، اس کی مکمل تعریف نہیں۔ کوئی ملک زیادہ خوشحال ہونے کے باوجود انصاف، علم، یکجہتی اور اعتماد میں پیچھے رہ سکتا ہے۔ہمارا مقصد ایک جدید، علم پر مبنی، پیداواری اور منصفانہ اسلامی فلاحی معاشرہ تعمیر کرنا ہونا چاہیے جو ہر شہری کی صلاحیت کو بروئے کار لائے اور انسانیت کی فلاح میں بامعنی حصہ ڈالے۔ ہمارا اسلامی ورثہ ہمیں اخلاقی قطب نما فراہم کرے، پاکستانی شناخت ہمیں ایک اجتماعی رشتے میں جوڑے، جبکہ سائنس، جدت اور کاروباری صلاحیت ترقی کے آلات بنیں۔’’اُڑان پاکستان‘‘ اسی قومی امنگ کو عملی صورت دینے کی کوشش ہے۔ ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کی تعمیر کا ہدف محض ایک بڑا معاشی عدد حاصل کرنے کی خواہش نہیں۔ اس کا مقصد قوم کو ایک مشترک منزل کے گرد متحد کرنا ہے: ایک ایسی برآمدی، علم پر مبنی اور جامع معیشت جو نوجوانوںکیلئے مواقع پیدا کرے، خواتین کو بااختیار بنائے، علاقائی عدم مساوات کم کرے اور پاکستان کو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنائے۔اس کے پانچ ستون برآمدات، کاروبار اور روزگار؛ ڈیجیٹل اور علم پر مبنی پاکستان؛ماحول،موسمیاتی تبدیلی، خوراک اور پانی کا تحفظ؛ توانائی اور بنیادی ڈھانچہ؛ اور مساوات، اخلاقیات اور بااختیاری،قومی تبدیلی کے ’’کیسے‘‘ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بلند عزائم کو پیداواری صلاحیت، معیار، جدت، انسانی ترقی اور ادارہ جاتی اصلاحات کی مضبوط بنیاد درکار ہوتی ہے۔ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کا خواب محض حکومت کا ہدف نہیں بلکہ قومی مشن بننا چاہیے۔ ریاست تنہا اسے حاصل نہیں کر سکتی۔ اس کیلئے ایسے کاروباری ادارے درکار ہیں جو جدت پیدا کریں؛ ایسی جامعات جو قومی مسائل کا حل تلاش کریں؛ ایسے سرکاری ملازمین جو رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے سہولت فراہم کریں؛ ایسے کسان جو جدید طریقے اپنائیں؛ ایسی افرادی قوت جو نئی مہارتوں سے آراستہ ہو؛ اور ایسے نوجوان جو خود کو تماشائی نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کے معمار سمجھیں۔
اقبال تہذیبی تجدید کی ذمہ داری ہر شہری پر عائد کرتے ہیں:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
کوئی فرد غیر اہم نہیں اور نہ ہی کوئی شہری تاریخ کا محض بے اختیار وصول کنندہ ہے۔ کسی تہذیب کی تقدیر اس کے لوگوں کے کردار، فیصلوں اور خدمات سے تشکیل پاتی ہے۔ ہر دیانت دار محنت کش، جرأت مند مصلح، تخلیقی صنعتکار، فرض شناس استاد، ذمہ دار عوامی نمائندہ، باصلاحیت سرکاری افسر اور سماجی شعور رکھنے والا نوجوان قوم کے مستقبل کا مصنف بن جاتا ہے۔
یہی ’’اُڑان پاکستان‘‘ کی روح ہے۔ حکومت کو سمت، باصلاحیت ادارے اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا، لیکن ہر پاکستانی کو ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ 2035ءتک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کی جانب سفر کو اعتماد، علم، پیداواری صلاحیت، تخلیقی قوت اور اجتماعی جدوجہد میں اضافے کی قومی تحریک بھی بننا چاہیے۔تہذیبیں اس وقت زوال پذیر ہوتی ہیں جب مقصد کی جگہ آسائش، شناخت کی جگہ گروہ بندی، تخلیق کی جگہ تقلید، اہلیت کی جگہ مراعات اور ذمہ داری کی جگہ استحقاق لے لے۔ تجدید اس وقت شروع ہوتی ہے جب نئی نسل تین سوالات کا جواب پورے یقین سے دے سکے: ہم کون ہیں؟ ہم کیوں موجود ہیں؟ اور اپنے مقصد کو حقیقت میں کیسے بدلیں گے؟
پاکستان اس وقت وجود میں آیا جب ایک نسل نے ان سوالات کے واضح جواب تلاش کر لیے تھے۔ اس کی تجدید اس وقت شروع ہوگی جب ایک نئی نسل ایک مرتبہ پھر ان کے جواب دے گی۔ جو قوم اپنی شناخت سے واقف ہو، اپنے مقصد کو سمجھتی ہو اور اس مقصد کے حصول کیلئے مضبوط ادارے رکھتی ہو، وہ محض تاریخ میں زندہ نہیں رہتی وہ تاریخ کا رخ متعین کرتی ہے۔
اقبال کے الفاظ میں:
دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر