ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی آج چین پہنچ رہے ہیں جہاں وہ اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کریں گے۔
عرب میڈیا کی جانب سے شائع کی گئی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ کا رواں سال فروری کے آخر میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ شروع ہونے کے بعد بیجنگ کا یہ دوسرا دورہ ہو گا۔
چینی صدر شی جن پنگ نے نئی دہلی میں برکس سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنوبی ممالک پر زور دیا تھا کہ یہ ممالک مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں امن کے قیام کے لیے کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا تھا کہ چین اس مقصد کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔
اس دوران شی جن پنگ نے کشیدگی کم کرنے کے لیے 4 نکاتی منصوبہ بھی پیش کیا تھا جس میں پرامن بقائے باہمی (peaceful coexistence)، قومی خود مختاری کا احترام، عالمی قوانین کی پاسداری اور ترقی و سلامتی میں توازن شامل ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق چین ایسی جنگوں میں براہِ راست مداخلت سے عموماً گریز کرتا ہے جبکہ ایران کے سابق وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے شی جن پنگ کے بیان کو کشیدگی کم کرنے کا بروقت موقع قرار دیا ہے جبکہ تہران یونیورسٹی کے ماہرِ چین، حامد وفائی نے کہا ہے کہ اسے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پیشکش سمجھنا حقیقت سے زیادہ قیاس آرائی ہے۔
عباس عراقچی اور وانگ یی کی ملاقات میں ایران کے جوہری پروگرام پر بھی بات متوقع ہے۔
گزشتہ ہفتے امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ کے ذریعے ایران کا معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجنے کی حمایت کی تھی۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف ایسی کارروائی آخری بار 20 سال قبل ہوئی تھی جس کے بعد سلامتی کونسل نے ایران کے خلاف 6 قراردادیں منظور کیں اور سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں تاہم موجودہ اقدام کو زیادہ تر علامتی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ چین اور روس اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور یہ ممالک سلامتی کونسل میں نئی پابندیوں کو ویٹو کر سکتے ہیں۔
امریکا ایران پر اقتصادی دباؤ بھی بڑھا رہا ہے اور ایرانی حکومت کو عالمی سطح پر مزید تنہا کرنے کے لیے نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جبکہ ایران کی جنوبی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کی کوشش بھی جاری ہے۔
چین سے منسلک متعدد ریفائنریز، کمپنیوں اور مالیاتی ذرائع کو بھی ایران کے ساتھ مبینہ لین دین کے باعث امریکی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے تاہم چین کے بڑے بینکوں پر اب تک براہِ راست پابندیاں نہیں لگائی گئیں۔
چین ایران کے خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور امریکی پابندیوں کے باوجود اپنے مفادات کے تحفظ کا عزم ظاہر کر چکا ہے۔
دوسری جانب امریکا میں ایران کی فوجی صلاحیتوں سے متعلق چین کے روابط بھی زیرِ بحث آئے ہیں۔
ایک امریکی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے سے قبل چینی اداروں سے حاصل کی گئی انتہائی واضح سیٹلائٹ تصاویر استعمال کی تھیں، اس حملے میں 3 امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ چین بنیادی طور پر وہی کچھ کر رہا ہے جو امریکا کرتا ہے۔
ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے بارے میں کہا کہ ان کا رویہ مجموعی طور پر مناسب رہا ہے اور جس طرح چین امریکا کی جاسوسی کرتا ہے، امریکا بھی چین پر نظر رکھتا ہے۔