• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

11ستمبر2001ءکا دن عالمی تاریخ میں ایسے واقعہ کے طور پر محفوظ ہوچکا ہے جس نے اس وقت کی واحد سپر پاور امریکہ ہی کو نہیں، پوری دنیا اور اس کی تاریخ کو دوحصوں میں تقسیم کردیا۔ ایک دنیا اور تاریخ11ستمبر2001ءسے پہلے کی تھی جبکہ، دوسری دنیا اور اس کی تاریخ’’ نائن الیون‘‘ کے بعد کی ہے۔ نیویارک کےورلڈ ٹریڈ سنٹر کے بلند وبالا ٹاورز اور واشنگٹن میں پینٹا گون پر حملوں نے ایسے سلسلے کو جنم دیا جسکے اثرات آج پچیس برس بعد بھی عالمی سیاست، بین الاقوامی تعلقات،مسلم دنیا، افغانستان اور پاکستان کی صورتحال میں نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ ان حملوں میں19افراد نے چار مسافر طیاروں کو اغوا کرکے بطور ہتھیار استعمال کیا۔ دوطیارے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ٹاورز سے ٹکرائے۔ ایک پینٹا گون سے ٹکرایا اور چوتھا پنسلوانیا میں گرکرتباہ ہوا۔ اس سانحے میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے ۔ تاہم نائن الیون کو چند عمارتوں پر حملوں کی تاریخ سمجھنا اس کی پوری اہمیت کو سامنے نہیں لاتا، اسکے پیچھے افغانستان کا وہ ماحول بھی تھا جہاں القاعدہ کو پناہ، تربیت اور کارروائیوں کیلئے جگہ میسر تھی۔

پاکستان کی جانب سےطالبان قیادت کواس صورتحال کے خطرات سے آگاہ کرنے اور اس سے بچنے کے ضمن میں جو مشورے دئیے گئے انہیں طالبان نے نظر انداز کردیا۔ القاعدہ اس سے پہلے بھی امریکی سفارت خانوں پر حملوں سمیت متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہی تھی۔ نائن الیون نے ان تمام واقعات کو ایک نئے عالمی مرحلے تک پہنچا دیا۔اس وقت امریکہ میں صدر جارج واکربش کو اقتدار سنبھالے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ نئے امریکی صدر کے اعلان کردہ ایجنڈے کے مطابق ان کی انتظامیہ مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست میں بعض اصلاحات کے امکانات پر غور کررہی تھی کہ11۔ستمبر کے واقعہ نے دنیا کوایسی کیفیت سے دوچار کردیا، جس نے دہشت گردی کو امریکی خارجہ پالیسی کا مرکزی مسئلہ بنادیا۔ امریکہ کی ایما پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 28ستمبر2001کی قرارداد1373اور چند برس بعد منظور ہونے والی قرارداد1540کے تحت دنیا بھر میں دہشت گرد حملے کرنے والے غیر ریاستی عناصر کے خلاف ایک جامع عالمی نظام وجود میں آگیا مگر دہشت گردی مختلف صورتوں میں تاحال نظر آرہی ہے جس کا بڑانشانہ پاکستان ہے ۔نائن الیون کا واقعہ جس وقت رونما ہوا، اس وقت پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی۔ انہوں نے اکتوبر1999ء میںنواز حکومت برطرف کرکےاقتدار سنبھالا اور جون2001ءمیں خود کو صدرمقرر کردیا۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کو ایک مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکہ نے افغانستان میں القاعدہ کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا اور پاکستان سے تعاون طلب کیا۔ پاکستان اپنے قیام کے بعد سے اپنی بقا کی ضرورتوں کے تحت کئی معاہدوں کے ذریعےامریکہ کا حلیف تھا۔جنرل مشرف نے امریکہ کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کرتے ہوئےبیرونی افواج کو ضروری سہولتیں فراہم کیں۔ یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں تھا۔ افغانستان ہمسایہ ملک تھا اور ہے۔

تاریخی ،مذہبی ،ثقافتی اور قبائلی روابط کی اہمیت بھی مسلم ۔ لاکھوں افغان مہاجرین پہلے ہی سے ملک میں موجود تھے۔ سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ میں پاکستان کا کردار بھی سب کے سامنے تھا۔ نائن الیون کے بعد پورا علاقائی منظر نامہ تبدیل ہوگیا۔ جنرل پرویز مشرف نے ایک تقریر میں فیصلے کی تفصیلات بیان کیں جن کا خلاصہ یہ تھا کہ پاکستان کے پاس اسکے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ تاریخ میں بڑے فیصلوں کا مسئلہ بھی یہ ہے کہ اصل بوجھ وقت گزرنے کے بعد سامنے آتا ہے۔7اکتوبر2001ء کو افغانستان میں طالبان کے فوجی ٹھکانوں اور القاعدہ کے تربیتی مراکز کے خلاف شروع کی گئی کارروائی سے چند ماہ میں طالبان حکومت کابل سے ہٹ گئی لیکن جنگ ختم نہ ہوئی۔ پاکستان سمیت کئی ملکوں تک پھیل گئی۔ پاکستان نے القاعدہ سمیت کئی تنظیموں کی کمر توڑ دی مگر اس کے جواب میں اس پر دشمن نمبرایک کا لیبل لگ گیا۔اسامہ بن لادن بھی بعد ازاں2011ء میں مارا گیا۔جنگ کی طوالت کے باعث امریکہ کی طرف سے کبھی Do more کے مطالبات سامنے آتے رہے کبھی بد اعتمادی کا اظہار کیا گیا۔ معاشروں کی سیاست، معیشت، داخلی سلامتی اور ریاستی ترجیحات کو متاثر کرنے والی دہشت گردی کی جنگ خودکش حملوں، بم دھماکوں،مختلف شعبوں کے لوگوں کے قتل سمیت ہرروپ میں سامنے آتی رہی۔ فوج، پولیس، قانون نافذ کرنیوالے اداروں، سیاسی کارکنوں، صحافیوں، علماء،طلبہ، عام شہریوں سمیت مختلف طبقوں نے ا سکی قیمت ادا کی۔

نائن الیون کے بعد افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی قیادت میں اتحادی افواج کی بھرپور مداخلت کےبعد2003ءمیں عراق پر بھی حملہ اور قبضہ ہوا تو مسلم دنیا میں پہلے سے موجود سوالات اور خدشات مزید نمایاں ہوئے۔ عراق پر حملے کی بنیاد یہ مفروضہ تھا کہ وہاں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں جن سے امریکہ کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ یہ مفروضہ بعد ازاں غلط ثابت ہوا مگر دنیا کے مختلف حصوں میں یہ موضوع بحث کا عنوان بنا کہ دہشت گردی کے مقابلے کیلئے فوجی قوت کہاں تک موثر ہے اور سیاسی، سفارتی، معاشی اقدامات کی کیا اہمیت ہے۔

وقت گزرنے کیساتھ افغانستان کی جنگ پیچیدگی اختیار کرتی گئی۔ طالبان دوبارہ منظم ہوئے۔ امریکی نگرانی میں قائم کابل حکومت اور اتحادی افواج ایک طویل جنگ میں الجھیں ۔بالا ٓخر دودہائیوں کے بعد امریکی افواج کےانخلاکے ساتھ2021ء میں طالبان دوبارہ کابل میں داخل ہوئے مگر افغانستان کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ افغانستان کے معاملے میں امریکہ سے دو تاریخی غلطیاں سرزدہوئیں۔ سوویت یونین کے انخلا اور انہدام کے بعد امریکہ نے ان گروپوں کو، جنہیں وہ مجاہد کہتا تھا، مستحکم سیاسی نظام قائم کرنے میں مدد نہیں دی۔ دوسری بڑی غلطی 2021ء میں ہوئی۔ اس وقت بھی امریکی فوجوں کے انخلا سے قبل ایک مضبوط اور قابل عمل انتظام قائم کرنے کا پاکستانی مشورہ نظر انداز کردیا گیا۔ نتیجہ پہلے بھی انارکی کی صورت میں نکلا تھا اور اب بھی افراتفری کی صورت حال واضح ہے۔

یہ کیفیت پاکستان سمیت پورے خطے کے ملکوں کیلئے سنگین اندیشوں کا سبب بن رہی ہے۔ پاکستان اپنے دفاع کیلئے ہر طرح سے تیار ہے مگر افغانستان سے نمایاں ہونے والا خطرہ غیر معمولی وسعت کا حامل ہے۔ اقوام متحدہ اور خطے کے ممالک کو مل کر ایسا حل تلاش کرنا ہوگا جو حقیقی طور پر پائیدار امن کی ضمانت بن سکے۔

تازہ ترین