• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں طرزِ حکمرانی بہتر بنانے کیلئے تجاویز کی کوئی کمی نہیں۔نئے صوبوں، بااختیار مقامی حکومتوں، انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، سول سروس اصلاحات، ادارہ جاتی تنظیمِ نواور آئینی تبدیلیوں پر مسلسل بحث ہوتی ہے۔ ان میں سے ہر تجویز کی اپنی اہمیت ہے۔ تاہم ان تمام ساختی سوالات کے نیچے ایک زیادہ بنیادی سوال موجود ہےکہ ان اداروں کو چلائے گا کون، اور اسے منتخب کرنے کا معیار کیا ہوگا؟پاکستان کی سب سے اہم اصلاح شاید کسی نئی آئینی ترمیم، نئی وزارت یا بڑے مالیاتی پروگرام کی محتاج نہ ہو۔ شاید اس کیلئے ایک نسبتاً آسان مگر انتہائی مشکل فیصلے کی ضرورت ہے ، میرٹ کو حکمرانی کا اصول بنانے کی سیاسی قوتِ ارادی۔میرٹ سے مراد محض تعلیمی قابلیت نہیں۔ اس میں اہلیت، دیانت، بصیرت، تجربہ، درست فیصلہ سازی اور نتائج دینے کی ثابت شدہ صلاحیت شامل ہےیعنی جس عہدے کیلئے جو شخص سب سے زیادہ اہل اور موزوں ہو، اسے وہاں مقرر کیا جائے۔اس اصلاح کی مالی لاگت تقریباً صفر ہے، لیکن اسکے ممکنہ فوائد بہت بڑے ہیں۔میرٹ کا مطلب حکومت سے سیاست کو نکال دینا نہیں۔ منتخب حکومتوں کو ترجیحات طے کرنے اور سیاسی فیصلے کرنے کا پورا حق حاصل ہے لیکن سیاسی سمت اور انتظامی اہلیت ایک ہی چیز نہیں۔ وزیر یہ طے کرتا ہے کہ حکومت کیا حاصل کرنا چاہتی ہے، اہل پیشہ ور یہ یقینی بناتا ہے کہ وہ حاصل ہو۔اسلئے سیاسی قیادت کو ہر عہدے پر ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو اہل، دیانت دار اور عوامی مفاد کیلئے پرعزم ہوں۔سیاستدان سمت متعین کرے، پیشہ ور اس سمت میں نتائج پیدا کرے۔ہماری اپنی روایت میں بھی اس اصول کی بنیاد موجود ہے۔ حضرت عمر بن خطابؓ گورنروں اور سرکاری اہلکاروں کی کارکردگی پر نظر رکھتے اور ان سے جواب دہی کرتے تھے۔ بنیادی تصور واضح تھاکہ عہدہ ذاتی ملکیت نہیں بلکہ قومی امانت ہے۔دنیا کی کامیاب ریاستیں اسی بنیادی اصول کی مختلف شکلوں میں پابندی کرتی رہی ہیں۔ پاکستان کو یہ اصول سمجھنے کیلئے بیرونِ ملک دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ 2000ءکی دہائی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی اصلاحات ایک سبق آموز مثال پیش کرتی ہیں۔ کسٹمز اور انکم ٹیکس کے اہم عہدوں کیلئے میرٹ پر انتخاب کیا گیا اور منتخب افسران کو معمول کی تنخواہ سے دوگنا معاوضہ دیا گیا۔ ڈاکٹر عشرت حسین کے مطابق انتہائی قابل افسران کو ریجنل ٹیکس آفیسرز مقرر کیا گیا اور انہوں نے اضافی آمدنی پیدا کرنا شروع کی۔ 2008ءمیں حکومت کی تبدیلی کے بعد غیر منتخب افسران نے سیاسی شخصیات سے رجوع کیا، بعدازاں بہتر معاوضے کا نظام میرٹ اور کارکردگی سے قطع نظر وسیع کر دیا گیا، جس سے پہلے پیدا ہونیوالی ترغیبی ساخت کمزور پڑ گئی۔

سبق واضح ہےکہ میرٹ نتائج پیدا کر سکتا ہے، سرپرستی اور اقربا پروری ان نتائج کو ختم کر سکتی ہے۔پاکستان میں باصلاحیت لوگوں کی کمی نہیں اور میرٹ کوئی مہنگی اصلاح بھی نہیں۔ اصل کمی اکثر اس سیاسی قوتِ ارادی کی ہوتی ہے جو میرٹ کو سیاسی دباؤ سے محفوظ رکھ سکے۔ایسی سرپرستی فوری سیاسی فائدہ دے سکتی ہے، لیکن میرٹ اس سے کہیں زیادہ قیمتی چیز پیدا کرتاہے، ایسی ادارہ جاتی کارکردگی جو حکومت کی ساکھ اور عوامی اعتماد کو مضبوط کرتی ہے۔ یوں کارکردگی خود سیاسی سرمایہ بن جاتی ہے۔میرٹ پر کسی قابل شخص کو مقرر کرنے کی مالی لاگت کسی نااہل شخص کو مقرر کرنے سے زیادہ نہیں لیکن سیاسی طور پر اس کی قیمت ضرور ہے۔ کسی سفارش کو مسترد کرنا پڑ سکتا ہے، یا کسی بااثر رشتہ دار کو ’’نہیں‘‘ کہنا پڑ سکتا ہے۔

اسی لئے میرٹ بنیادی طور پر وسائل کا نہیں، سیاسی قوتِ ارادی کا مسئلہ ہے۔اس سیاسی قوتِ ارادی کو عملی شکل دینے کیلئے حکومت کو ایک واضح اصول اپنانا ہوگا: سیاسی وفاداری سیاسی نمائندگی کا معیار ہو سکتی ہے، لیکن عمل درآمد کی ذمہ داری اہلیت کی بنیاد پر دی جانی چاہیے۔اہم تقرریوںکیلئے واضح پیشہ ورانہ معیار، قابلِ پیمائش کارکردگی کے اہداف اور جواب دہی کا نظام ہونا چاہیے۔ پیشہ ورانہ اداروں کو بلاجواز مداخلت، تبادلوں اور برطرفیوں سے مناسب تحفظ ملنا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو ایک قومی میرٹ میثاق پر بھی غور کرنا چاہیے، تاکہ بڑےعہدوں کو سیاسی غنیمت نہ سمجھا جائے۔میڈیا اور عوام کو بھی سیاسی کامیابی کا پیمانہ تبدیل کرنا ہوگا۔ صرف یہ پوچھنے کے بجائے کہ ’’عہدہ کس کو ملا؟‘‘ ہمیں پوچھنا چاہیے:’’اس شخص نے کیا حاصل کیا؟ کیا بدلا؟ اور عوام کو کیا ملا؟‘‘یہ بحث نئے صوبوں اور مقامی حکومتوں کے تناظر میں بھی نہایت اہم ہے۔ پاکستان کو شاید چھوٹی، بااختیار انتظامی اکائیوں اور حقیقی معنوں میں خودمختار مقامی حکومتوںسے فائدہ ہو۔ لیکن اگر اختیارات نچلی سطح تک منتقل کر دیے جائیں اور حکمرانی کا ماحول اور مزاج وہی رہے تو خطرہ ہے کہ ہم صرف سرپرستی اور اقربا پروری کو نچلی سطح تک منتقل کر دیں۔اختیارات کی تقسیم یہ طے کرتی ہے کہ طاقت کہاں ہوگی۔ میرٹ یہ طے کرتا ہے کہ وہ طاقت نتائج پیدا کرے گی یا نہیں۔چنانچہ پاکستان کو ساختی اصلاحات سے پہلے حکمرانی کا ماحول اور مزاج بدلنا ہوگا۔ریاست اس وقت بدلنا شروع ہوتی ہے جب اختیار رکھنے والا کوئی شخص تعلق رکھنے والے کے بجائے اہل کوترجیح دے۔عوام آخرکار حکومت کو اس چیز سے پرکھتے ہیں جو وہ اپنی زندگی میں محسوس کرتے ہیں، صرف اس سے نہیں جو انہیں دکھایا یا بتایا جاتا ہے۔یہی سیاسی حوصلہ ایک مثبت سلسلہ پیدا کر سکتا ہے: میرٹ اہلیت پیدا کرتا ہے،اہلیت کارکردگی پیدا کرتی ہے،کارکردگی عوامی اعتماد پیدا کرتی ہے،عوامی اعتماد سیاسی سرمایہ پیدا کرتا ہےاور سیاسی سرمایہ ایک مستحکم، خوشحال اور باوقار ریاست کیلئے گنجائش پیدا کرتا ہے۔پاکستان کو میرٹ اور ساختی اصلاحات میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کرنا۔ اسے دونوں کی ضرورت ہے۔ لیکن میرٹ کے بغیر بہترین ادارہ جاتی ڈھانچہ بھی ایک مہنگا دکھاوا بن سکتا ہے۔ اسلئے سب سے سستی اصلاح لازماً سب سے آسان اصلاح نہیں۔ اس کی قیمت روپے میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ اقتدار رکھنے والے اپنے اختیار کو اپنے مفاد کے بجائے ریاست کے مفاد کیلئے استعمال کرنے پر کتنے آمادہ ہیں،یہی سیاسی قیادت کا اصل امتحان ہے۔

تازہ ترین