وینزویلا کے صدرکے اغوا کے بعد وہاں کی عبوری حکومت نےامریکی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے اپنے تیل کی صنعت کی نجکاری کی منظوری دے دی ہے۔جس میں توانائی کے بجلی گھروں کی نجکاری اور امریکی پیشگی اجازت کے بعد امریکی اور غیر ملکی تیل کی کمپنیوں کو آئل فیلڈز اور وسیع تیل کے ذخائر سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی گئی ہے لیکن ان تمام اقدامات میں چین، روس، ایران یا شمالی کوریا کی کوئی بھی نجی کمپنی شامل نہیں ہے۔یوں امریکی کمپنیوں کو سو برس کیلئے 65 ارب بیرل خام تیل کے ذخائر تک رسائی حاصل ہو گئی ہے جسے صدر ٹرمپ نے دنیا میں تیل کی تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ قرار دیا ہے۔ تیل کے ذخائر پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ نے وینزویلا میں انتخابات کے انعقاد کا سلسلہ شروع کر دیا ہے لیکن امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ امریکہ مستقبل کی کسی بھی سیاسی حکومت کو تیل کے اس معاہدے کی شرائط و ضوابط تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
تاہم وینزویلا کے اپوزیشن رہنماؤں کا خیال ہے کہ ٹرمپ آزادانہ انتخابات کو فروغ دینے کی بجائے موجودہ حکمرانوں کو اقتدار میں برقرار رکھنے کیلئے کوشاں ہےتاکہ اس معاہدے پر مکمل طور پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ یاد رہے کہ وینزویلا کے تیل کے ذخائر سترہ بڑے آئل فیلڈز پر محیط ہیں جو پہلے چینی اور روسی کمپنیوں کو رعایتی داموں کے تحت دیئے گئے تھے لیکن اب ان آئل فیلڈز کو ایک پرائیویٹ امریکی کمپنی نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز(NABEB) اور امریکی محکمہ دفاع کے حوالے کر دیاگیا ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکی دفاعی ادارہ نبیب کے پینتیس فیصد حصص کا بلامعاوضہ مالک بھی ہو گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ اس معاہدے سے اپنے قومی سلامتی کے توانائی کے اہداف حاصل کرے گا اور نبیب نامی کمپنی محض ایک کنٹرول کا کام کرے گی۔ لیکن ماہرین اس بات پر حیرانی کا اظہار کر رہے ہیں کہ دو سال قبل قائم ہونے والی کمپنی نبیب آج دنیا کے تیل کے ذخائر کی دوسری سب سے بڑی کمپنی کیسے بن گئی۔ امریکہ نے دراصل اس معاہدے کے ذریعے وینزویلا کے تیل پر تو قبضہ کر لیا ہے لیکن نبیب کی کمپنی جو قومی تیل کی کمپنی کے طور پر جو کردار ادا کرئیگی وہ وینزویلا کے آئین کی شق 303سے متصادم ہے جسکے ذریعے وینزویلا کی حکومت کسی دوسرے ادارے کو تیل کی صنعت پر کنٹرول کا اختیار دیتی ہے۔
وینزویلا کے صدر کے اغوا کے بعد امریکہ کی طرف سے ان پر لگائے گئے الزامات فی الحال صرف الزامات ہی ہیں۔ امریکی آئین اور شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی عہدنامے (ICCPR) کے آرٹیکل 14میں تسلیم کیا گیا ہے کہ جرم ثابت کرنے کی مکمل ذمہ داری استغاثہ پر عائد ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ وینزویلاکوکین کا کوئی بڑا پیداواری ملک بھی نہیں ہے جبکہ امریکہ نے یہ کارروائی وینزویلا کی رضامندی یا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیرکی ہے ۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے امریکہ نے مارچ 2024ء میں ہنڈرس کے ایک صدر کو امریکہ منگوا کر نیویارک کی اسی عدالت میں اس پر مقدمہ چلایا تھاجہاں مادورو کا مقدمہ چل رہا ہے۔ ان کے خلاف منشیات کے سمگلروں سے لاکھوں ڈالر وصول کرنے، ہنڈرس کی پولیس اور فوج کے ذریعے کوکین کی کھیپوں کو تحفظ فراہم کرنے اور چار سو ٹن سے زیادہ کوکین امریکہ پہنچانے میں مدد فراہم کرنے پر پینتالیس سال کی سزا سنائی گئی۔ لیکن یکم دسمبر2025ء کو انہیں معافی دے کر رہا کر دیاگیا اور کہاگیا کہ سابق صدر کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے جس سے صدر ٹرمپ کی دوہری پالیسی کا واضح اظہار ہوتا ہے جس نے ایک صدر کو تو معاف کر دیا جسکی کوکین کی اسمگلنگ میں شرکت امریکی عدالت میں ثابت ہو چکی تھی جبکہ وینزویلا میں فوجی کارروائی کر کے ایک ایسے صدر کو گرفتار کر لیا گیا جسکے خلاف کوئی عدالتی فیصلہ نہیں آیا تھا۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ لاطینی امریکہ اور دنیا بھر کی حکومتیں اس مقدمے پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں ۔ یاد رہے کہ مادورو کو ایک ایسی ریاست کی عدالتوں کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے جو برسوں سے ان کی حکومت گرانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔اس سے پہلے 1998ء میں بھی وینزویلا کے عوام نے بائیں بازو کے ایک عوامی نمائندے ہوگوشاویز کو اپنا صدر منتخب کیا تھا اور امریکہ نے سی آئی اے کی سرپرستی میں ہونے والی بغاوت کے دوران ہوگوشاویز کو اغوا کر لیا لیکن پھر عوام بہت بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے جس پر اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اندر امریکہ کو دوبارہ اقتدار ہوگو شاویز کے حوالے کرنا پڑا۔ اس اغوا کی اصل وجہ یہ تھی کہ ہوگو شاویز نے تیل کی تمام کمپنیوں کو قومیا لینے کیساتھ ساتھ سامراجی اور سیاسی اشرافیہ کی کرپشن کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے تیل کی دولت کو قومی فلاح کیلئے استعمال کیا اوراسکے ساتھ ساتھ اپنے پڑوسی ممالک کو بھی رعایتی قیمت پر تیل فراہم کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی وینزویلا اور گرین لینڈ کے تیل اور گیس کے حصول کے بارے میں دھمکیاں دینا شروع کر دی تھیں لیکن گرین لینڈ نے خبردار کر دیا تھا کہ 1952ء کے معاہدے کے مطابق کسی بھی بیرونی حملے کی صورت میں ڈنمارک کی فوج فوری جوابی کارروائی کریگی جس سے امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان ایک بڑی دراڑ کا آغاز ہو سکتا تھا اسی لیے صدر ٹرمپ نے وینزویلا کا انتخاب کیا جہاں اسے کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ٹرمپ کے وینزویلا پر تیل کے قبضے نے اس نام نہاد عالمی نظام اور اقوام متحدہ کے ادارے کی توقیر کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔ اسی لئے دوسرے خلیجی ممالک کو بھی وینزویلا سے سبق حاصل کرتے ہوئے ایران کیساتھ علاقائی خلفشار کو ختم کرتے ہوئے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے باہمی سلامتی کے معاہدے میں شامل ہو کر ایک دوسرے کے تحفظ کو یقینی بنانا ہو گا ورنہ جلد یا بدیر امریکہ خلیجی ممالک کے تیل کے اثاثوں پر اپنی اجارہ داری کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کرے گا۔