• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملک جس سیاسی و معاشی بحران سے نبردآزماء ہے، اس پر خاموشی بے حسی ہے۔ پچھلے 75سال سے سیاسی عدم استحکام اور قومی، سماجی، مذہبی مسائل کا GROSS DOMESTIC PROBLEMS ( GDP ) میں آل ٹائم ورلڈ ریکارڈ ہے۔ اخلاقیات، کردار، ذہانت، صداقت، باہمی اعتماد، بحیثیت فرد، قوم، ادارے سر تا پا آلودہ ہو چکے ہیں۔ مذہبی، سیاسی، انصافی و قانونی، معاشی، عسکری آج ہر قسم کے ادارے خوفناک حد تک متزلزل ہیں ۔ محترم وزیرداخلہ نے جب نظام کے COLLAPSE ہونے کا دعویٰ کیا تو شاید سیاسی نظام کی طرف اشارہ تھا۔ بتانا ہے کہ بات بڑھ چکی ہے۔ وطن عزیز کا انگ انگ ٹوٹ چکا ہے، کسی بھی وقت ہلکان ہونے کو۔ ساری زندگی بولنے کا خمیازہ بھگتا ، مگر ضمیر کو مطمئن رکھا ۔ شور مچانا ناممکن تو خاموش رہنا بھی ناممکن کہ وطن عزیز کا انگ انگ ٹوٹے اور دل نہ پسیجے ، کیسے ممکن؟ عمران خان نے ورلڈکپ جیتا تو شہرت ساتویں آسمان پر، پاکستان کے کونے کھدرے ہرگھر میں عمران خان کا نام پہنچ گیا۔ یقین تھا زندگی بھر سیاست کے قریب نہیں پھٹکیں گے ۔ وجوہات دو ہی ، پہلی بات سیاست سے تعارف واجبی ، دوسری طرف سیاست کیلئے اکتاہٹ اور حقارت کوٹ کوٹ کر بھری تھی ۔ دسمبر 1994ءمیں ہسپتال کے افتتاح کے اگلے دن خان صاحب نے بتایا کہ ’’حکومت میں آئے بغیر سوشل ورک آگے بڑھانا ممکن نہیں ہے ‘‘، تومیں ہکا بکا ہو گیا۔ عمران خان نے میری ہر اس دلیل کو رَد کر دیا جو انکو سیاست سے باز رکھنے کیلئے تھی ۔ 1996ءکے آغاز سے ہی عمران خان کا اصرار کہ سیاست کا آغاز کرنا ہے ۔ میری گزارش کہ سال کے آخر میں کریں کہ 1996ءبینظیر صاحبہ کی حکومت کا آخری سال ہے ، وگرنہ الیکشن گلے پڑ جائیں گے یعنی سر منڈاتے ہی اولے پڑنے کا خطرہ ہے ۔ عمران خان چڑ گئے اور کہا کہ کیا آپ نجومی ہو ؟ میری بات خاطر میں نہ لائے اور 25اپریل کو سیاسی پارٹی بنا ڈالی ۔ 5 نومبر 1996ءکو جناب فاروق لغاری نے بینظیربھٹو صاحبہ کی حکومت پر 58 ( 2)B کا ہتھوڑا ایسے چلایا کہ بینظیر بھٹو کو چند گھنٹے پہلے تک کانوں کان خبر نہ تھی ، جبکہ وہ سو برس کے بندوبست میں مگن تھیں ۔ 1997ءنواز شریف کی حکومت قائم ہوئی تو 1999ء کے آغاز سے سیاسی زائچہ بنا کر بتایا کہ میاں صاحب کا یہ آخری سال ہے ۔ دو واقعات درج کروں گا ، چھوٹا بھائی انعام اللہ نیازی مسلم لیگ ن کا MNA تھا ۔ اگست کا مہینہ ، اسکے گوش گزار کیا کہ STOCK TAKING کرلو تمہاری حکومت چند ماہ کی مہمان ہے ۔ اس زمرے میں دوسرا واقعہ ، اگست ہی کے مہینے میں مشاہد حسین سید وزیر اطلاعات ، جناب مجیب الرحمان شامی ، جناب حسن نثار ، خلیل ملک مشیر خاص و وزیراطلاعات کیساتھ گلبرگ کبانہ میں ڈنر کر رہے تھے ۔ وہاں پر میں نے پُراعتماد اپنی پیشین گوئی کی کہ ’’نواز شریف حکومت چند ماہ کی مہمان ہے‘‘ تو مشاہد حسین سید اور خلیل ملک کو میری پیشین گوئی ایک آنکھ نہ بھائی ۔ خلیل ملک صاحب تو فراخدلی سے میرا منہ نوچنے پر تُل چکے تھے ۔ خلیل ملک صاحب کے خیال میں عمران خان کے ہمدرد اور غمگسار ہونے کے ناطے میں بدشگونی پھیلا رہا تھا۔ 12 اکتوبر کو جنرل مشرف صاحب نے جب شب خون مارا تو میرے لئےاچانک نہ تھا ۔ معرکہ کارگل کے بعد اسکے آثار نمایاں تھے ۔ انکا نواز شریف کیساتھ چلنا ممکن نہ رہا تھا ۔ 2008 کے بعد جمہوریت نئے نویلے روپ میں سامنے آئی ، پیپلز پارٹی کے دور حکومت سے صرف نظر رکھیں ، توجہ نواز شریف کی حکومت پر ۔ 2014 کا ’’سیاست نہیں ریاست بچاؤ ‘‘ کا پروجیکٹ جنرل راحیل کی ناک کے نیچے طے ہوا ، مگر اسکو کامیابی سے ہمکنار نواز شریف کے اپنے ہاتھ سے چُنے چیف جنرل باجوہ نے کیا ۔ جنرل باجوہ ہی کے سر پر سہرا کہ’’ سیاست کو ذبح کیا اور اپنی تئیں ریاست کو بچا لیا ‘‘۔

پروجیکٹ عمران خان 2014 ءمیں لانچ ہو چکا تھا ، اور نواز شریف کا میڈیا ٹرائل شروع تھا ۔ باوجودیکہ 2018 ءمیں نواز شریف کی مقبولیت کا ایسا طوطی بولتا تھا کہ نمبر 1,2,3نواز شریف دیوار پر کندہ تھا جبکہ نواز شریف کی سیاست بند گلی میں تھی ۔ تو 22مارچ 2018ءکو کالم لکھا کہ ’’عمران خان کو اقتدار ضرور ملے گا ، وقتی طور پر نواز شریف کیلئے سب اچھا نہیں ہے مگر نواز شریف کو گارنٹی دیتا ہوں کہ2023ءیااس سے بھی ایک آدھ سال پہلے اقتدار خود بخود انکے قدموں میں آنا ہے کہ قومی افق پر ایک ہی سیاسی رہنما، جناب ہی نے توبچنا ہے۔ایسے ہی جیسے1971ءمیں عبرتناک شکست کے بعد صدر یحییٰ نے ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار گھر جا کر تفویض کیا تھا۔اگلے دو تین سال بعد مقتدرہ پارٹی ( PTI )کا مقدر ذلت، خواری،رسوائی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ ن لیگ کو جب دوبارہ 2023ءمیں اقتدار ملے گا، تو سول ملٹری تنازع کی وجہ نزاع کا تدارک ہوچکا ہوگا۔، حالات کا تقاضا بھی یہی رہنا ہے۔ شرط کڑی،اس کھینچا تانی میں، پاکستان کا سلامت رہنا ضروری ہے کہ آنیوالے دن وطن عزیز پر بہت کڑے ہیں ‘‘۔ مجھے جس بات کا ڈر کہ پاکستان کھینچا تانی سے نڈھال ہو چکا ہے۔ ٹھیک ایک سال بعد مارچ 2019ءکو نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات ہوئی تو درجنوں مسلم لیگی رہنماؤں اور کارکنوں کیساتھ جناب مجیب الرحمان شامی ، حبیب اکرم ، اجمل جامی اور دیگر اکابرین کی موجودگی میں میاں نواز شریف کے گوش گزار کیا کہ’’ ٹھیک 2سال بعد عمران خان اسی جیل میں اسی کرسی پربراجمان ہوگا ‘‘۔

دو سال تو نہیں 3سال بعد عمران خان اقتدار سے باہر اور ساڑھے 4سال بعد جیل میں جبکہ من و عن میرے مطابق نواز شریف کو منت ترلے کرکے بیرون ملک سے بلوایا گیا۔ایک وزیرکی گھن گرج سے یہ تو طے ہے کہ اتحادی حکومت پر گھنگھور گھٹائیں تُلی کھڑی ہیں ، اگرچہ بوند ابھی نہیںہوئی ہے ۔اس نظام کے مالکوں کو یہ بات سمجھانا مشکل ہے کہ وہ اس وقت سیاسی طورپر تن تنہاکھڑے ہیں ۔

ملکی تاریخ میں یہ پہلا ایسا واقعہ ہے کہ چھوٹی بڑی سیاسی و مذہبی کوئی ایک جماعت بھی ساتھ جڑی نہیں ۔ وزیرموصوف کے بیان کا یہ حصہ حرف بحرف سچ کہ ساری سیاسی جماعتوں کا خاتمہ بالخیر ہو چکا ہے ۔ مالکوں کو شاید یہ معلوم نہ تھا کہ سیاسی جماعتوں کے خرچ ہونے پر بہت کچھ خرچ ہونے کا امکان بڑھ جائیگا ۔ سیاسی بحران اس قدر شدید ہے کہ ایک آدھ نٹ بولٹ کھولنے سے وطنی عمارت دھڑام سے نیچے سب فریقوں نے ملبے تلے دب جانا ہے ۔ اب جبکہ پیپلز پارٹی ، ن لیگ ، فضل الرحمان نامساعد حالات سے نبردآزما ،نبٹنے کیلئے ہیں ، اپنی سیاسی مشکیں کس رہے ہیں ۔ کیا وزیر موصوف اپنے مالکوں کو سمجھا پائیں گے کہ صفر بٹہ صفر پبلک سپورٹ میں ان پر بھی خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ خدشہ ہے کہ مالکوں کی ساری سیاست کا دارو مدار عمران خان کے رحم وکرم پر نہ ہوجائے۔ حالات کی سنگینی کہ سیاسی عدم استحکام کینسر کی طرح سرایت کر چکا ہے اور عمران خان وقتی طور پر ڈسپرین کا کام دیں گے ۔ مگرکہیں عمران خان سے غیرمشروط رجوع کرنا مجبوری نہ بن جائے۔

تازہ ترین