• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج کل پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہے، اور اس بحث کا سب سے زیادہ مرکز سندھ کو بنایا جا رہا ہے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز، سیاسی پروگراموں اور تجزیوں میں اس موضوع پر مسلسل بحث جاری ہے۔ ان مباحثوں میں سیاستدانوں کیساتھ ساتھ ملک کے معروف سیاسی، سماجی، معاشی اور انتظامی ماہرین بھی اپنی اپنی آرا پیش کر رہے ہیں۔ متعدد معروف ماہرین اور دانشوروں نے نئے صوبوں کے قیام کی تجویز پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ،ڈاکٹر عشرت حسین، سینیٹر رضا ربانی، ڈاکٹر قیصر بنگالی، مشاہد حسین سید،خرم حسین، ڈاکٹر ملیحہ لودھی، سہیل وڑائچ، حامد میر اور دیگر اہلِ فکر و دانش کی گفتگو سے بھی یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا محض صوبوں کی تعداد بڑھا دینا ملک کے انتظامی، معاشی اور سیاسی مسائل کا حل ہے؟ یہ بھی ایک اہم حقیقت ہے کہ سندھ اسمبلی اور خیبرپختونخوا اسمبلی نئے صوبوں کے قیام کے خلاف قراردادیں منظور کر چکی ہیں۔ خاص طور پر سندھ میں اس معاملے پر عوامی ردِعمل انتہائی شدید رہا ہے۔ سندھ کے عوام بارہا یہ واضح کر چکے ہیں کہ صوبے کی وحدت اور اس کی تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی شناخت کو نظرانداز نہ کیا جائے۔

سندھ کے معاملے کو سمجھنے کیلئے اس کی تاریخ کو سامنے رکھنا بھی ضروری ہے۔ سندھ محض ایک انتظامی اکائی نہیں بلکہ ہزاروں سال پر محیط ایک تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی شناخت کا حامل خطہ ہے۔ موہن جو دڑو سے لے کر بھنبھور، ٹھٹھہ اور سندھ کی تہذیبی تاریخ اس خطے کی منفرد شناخت کی گواہی دیتی ہے۔ پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں بھی سندھ کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ 23مارچ 1940ء کو لاہور میں قراردادِ پاکستان منظور ہوئی، جبکہ سندھ اسمبلی نے 3مارچ 1943ء کو ایک تاریخی قرارداد منظور کرکے مسلمانوں کیلئے الگ وطن کے قیام کے مطالبے کی باقاعدہ حمایت کی۔ یہ اعزاز سندھ کو حاصل ہے کہ وہ برصغیر کی پہلی صوبائی اسمبلی تھی جس نے پاکستان کے قیام کے مطالبے کی حمایت میں قرارداد منظور کی۔ اس تاریخی پس منظر میں سندھ کی وحدت محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ یہ سندھ کے عوام کے تاریخی شعور، سیاسی جدوجہد اور اجتماعی شناخت سے بھی جڑ جاتی ہے۔

ون یونٹ کا تجربہ ہمیں کیا سکھاتا ہے؟

اگر ہم ماضی کی طرف دیکھیں تو پاکستان کی تاریخ ہمیں اس حوالے سے بہت کچھ سکھاتی ہے۔ ون یونٹ کے قیام کے وقت بھی یہ دلیل دی گئی تھی کہ ملک کو انتظامی طور پر ایک مضبوط وحدت میں تبدیل کرنے سے ترقی، استحکام اور وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہوگا۔ 1955ء میں ون یونٹ قائم کیا گیا، لیکن اس تجربے نے نہ تو وہ ترقی فراہم کی جس کے دعوے کیے گئے تھے اور نہ ہی صوبائی اور علاقائی احساسِ محرومی کو ختم کیا۔ اسکے برعکس، چھوٹے صوبوں اور مختلف علاقوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ انکی سیاسی، معاشی اور انتظامی شناخت اور حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ نتیجتاً سیاسی بے چینی میں اضافہ ہوا اور بالآخر 1970ء میں ون یونٹ کا خاتمہ کرنا پڑا۔ آج ایک بار پھر تقریباً اسی نوعیت کی دلیل سنائی دے رہی ہے کہ صوبوں کی تعداد بڑھانے سے انتظام بہتر ہوگا، ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے۔

پاکستان میں مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنائے بغیر صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے عام آدمی کی زندگی میں کتنی تبدیلی آئے گی؟ اگر ایک ضلع، تحصیل یا یونین کونسل میں بنیادی سہولیات، تعلیم، صحت، پانی، روزگار اور انفراسٹرکچر کے مسائل موجود ہیں تو نیا صوبہ بننے کے بعد وہ مسائل خود بخود کیسے ختم ہو جائیں گے؟ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کئے جائیں۔ مضبوط اور بااختیار بلدیاتی ادارے قائم کیے جائیں، وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو، اضلاع اور تحصیلوں کو ترقیاتی منصوبہ بندی میں حقیقی اختیار دیا جائے اور انتظامی اداروں کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرکے مؤثر بنایا جائے۔ اگر ایک عام شہری کو اپنے محلے، یونین کونسل، تحصیل یا ضلع کی سطح پر بنیادی سہولیات حاصل نہیں تو اس کیلئے صوبے کی سرحد چند سو کلومیٹر آگے یا پیچھے ہونے سے زیادہ اہم ایک ایسا نظام ہے جو اس کے مسائل اس کی دہلیز پر حل کرے۔

یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کے مسائل حقیقی ہیں اور ان سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص، ٹھٹھہ، سجاول اور سندھ کے دیگر علاقوں میں عوام کو تعلیم، صحت، روزگار، پانی، سڑکوں، نکاسیٔ آب اور دیگر بنیادی سہولیات کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔ لیکن ان مسائل کا حل کسی علاقے کو دوسرے سے جدا کرنا نہیں بلکہ پورے سندھ میں مساوی ترقی، بہتر حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا ہے۔ کراچی کے مسائل اپنی جگہ انتہائی اہم ہیں۔ اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اس شہر کی، پورے ملک سے آنیوالے افراد اور افغان مہاجرین سمیت دوسرے غیر ملکیوں کی غیر قانونی طریقے سے آنے کی وجہ سے، آبادی میں بہت اضافہ ہوا ہے۔دنیا کے بڑے شہروں میں شمار ہونیوالے کراچی کو بہتر ماس ٹرانزٹ، پانی، سیوریج، کچرے کے انتظام، سڑکوں، روزگار اور شہری منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ان مسائل کا حل محض نئے صوبے کے قیام میں نہیں بلکہ ایک بااختیار، جواب دہ اور مؤثر شہری حکومت، صوبائی و وفاقی اداروں کے درمیان واضح اختیارات اور طویل المدتی منصوبہ بندی میں ہے۔ اگر مقصد عوام کے مسائل کو واقعی حل کرنا ہے تو اس کیلئے سب سے پہلے مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط کرنا ہوگا۔ پاکستان میں ایک ایسا بلدیاتی نظام ہونا چاہیے جسے آئینی تحفظ حاصل ہو، جسکے پاس اپنے وسائل ہوں، جسکے نمائندے بااختیار ہوںجوپانی، صفائی، سڑکوں اور مقامی ترقی کے معاملات میں حقیقی فیصلہ سازی کر سکے۔ پاکستان کو آج نئے نقشوں سے زیادہ بہتر حکمرانی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جو صوبے پہلے سے موجود ہیں، کیا ان کے اندر اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوئے ہیں؟ کیا مقامی حکومتیں واقعی بااختیار ہیں؟ کیا وسائل کی تقسیم منصفانہ ہے؟ کیا ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر صرف نئے صوبے بنا دینا مسائل کا مستقل حل نہیں ہوگا۔

ہمیں تاریخ سے سبق لینا چاہئے۔ ون یونٹ کا تجربہ ہمارے سامنے ہے۔ اس نے یہ واضح کیا کہ محض انتظامی نقشہ تبدیل کرنے سے ترقی، سیاسی استحکام اور عوامی خوشحالی کی ضمانت نہیں ملتی۔ اسی طرح آج بھی اگر ہم سمجھتے ہیں کہ نئے صوبے بناتے ہی تمام مسائل حل ہو جائیں گے تو یہ ایک خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ممکن ہے جب جمہوریت صرف انتخابات تک محدود نہ رہے بلکہ عوام کو حقیقی معنوں میں حقوق، وسائل، نمائندگی اور فیصلہ سازی میں اختیار حاصل ہو۔

تازہ ترین