• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی اور حیدرآباد میں پریم نگر دی لینڈ آف لوَ کے زیراہتمام کامیاب میوزیکل چیئرٹی پروگرامز کے انعقاد کے بعد وفاقی دارالحکومت میں ایک بڑے چیئرٹی ایونٹ کا خواب دیکھنا آسان تھا، اسے حقیقت میں بدلنا مشکل، اور پھر ایک رات قبل اسٹیج زمین بوس ہونے کے بعد دوبارہ کھڑا کرنا ناممکن تھا، لیکن آج جب میں پیچھے مڑ کربارہ ستمبر کے اسپورٹس کمپلکس میں منعقدہ چیئرٹی اسپورٹس اور میوزیکل شو کے ولولہ انگیز سفر کا جائزہ لیتا ہوں تو مجھے ایک طرف اسلام آباد کے وہ مخلص دردمندفرشتہ صفت انسان نظر آتے ہیں جنہوں نے بے سہارا خصوصی بچوں کے چہروں پر مسکان لانے کی خاطرپریم نگر کا انسانی خدمت کے مشن کو آگے بڑھانے میں میرا بھرپور ساتھ دیا تو دوسری طرف بدقسمتی سے میرا واسطہ شہر اقتدار کی ایسی طاقتوربااثر اشرافیہ سے بھی پڑا جنہوں نے مفت انٹری پاس اور پروٹوکول نہ ملنے کی بناء پر خصوصی بچوں کے اس پروگرام کو سبوتاژ کرنے کیلئے ہر موڑ پر روڑے اٹکائے اور پریم نگر کے پیار بھرے سفر کو ناکام بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ میری خواہش تھی کہ اسلام آباد میں ایک ایسا منفرد تاریخی ایونٹ منعقد کیا جائے جس میں کھیل، موسیقی، ثقافت اور انسانیت ایک ساتھ نظر آئیں، اگر شدید طوفان کے باعث تقریب سے ایک رات پہلے ہمارا عظیم الشان بلند وبالا اسٹیج نہ گرتا تو مجھے یقین تھا کہ یہ اسلام آباد کی تاریخ کا ایک نیا ریکارڈ قائم کرتا، لیکن میں نےاوپر والےکے فیصلے کے سامنے سر جھکایا اورمشکل کی اس کٹھن گھڑی میں بھی اپنی ثابت قدمی سے سرخرو رہا۔ میری نظر میں اِس پروگرام کی اصل کامیابی اسٹیج کا سائز، حاضرین کی تعداد یا موسیقی کی محفل نہیں تھی بلکہ میرے لئے یہ لمحات نہایت خوشی کا باعث تھے جب اسلام آباد کے مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والےخصوصی بچے پاکستان اسپورٹس کمپلیکس میں جمع ہوئے،انہوں نے کھیلوں میں حصہ لیا، دوڑے، جیتے، ہارے اور اپنی خوشی کا اظہار کیا،میں وہ لمحہ کبھی نہیں بھول سکتا جب وہ قطار بناکر اختتامی مرحلے کی جانب بڑھے توانکے بہترین نظم و ضبط کے مظاہرے نے ہر ایک کو تالیاں بجانے پر مجبور کردیا، انکی آنکھوں میں چمک اور چہروں پر مسکراہٹ میرے لیے کسی بھی بڑے ریکارڈ سے زیادہ قیمتی تھی،میں اس موقع پر ڈائریکٹوریٹ آف اسپیشل ایجوکیشن اسلام آباد کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں، جس نے اس فلاحی مقصد کو کھلے دل سے سپورٹ کیا اور مختلف اداروں سے خصوصی بچوں کی شرکت کو یقینی بنانے میں میرے ساتھ تعاون کیا۔اسی طرح میں چیئرمین سی ڈی اے کا بھی خصوصی طور پر شکر گزار ہوں، جب میں نے انہیں پریم نگر اور خصوصی بچوں کے عظیم مشن کے بارے میں بریف کیا تو انہوں نے فوری طور پر تعاون کا فیصلہ کیا ،اسی طرح چیئرمین پی ٹی اے، اسلام آباد ڈسٹرکٹ انتظامیہ، پولیس، سیاسی وعسکری لیڈرشپ سمیت دیگر اداروں اور مخیر شخصیات نے بھی مکمل معاونت کی یقین دہانی کرائی، چیئرٹی شو کے سفر سے فقط کچھ دن قبل ایک ایسا نازک مرحلہ بھی آیا جب کچھ افرادفلاحی پروگرام کو سپوتاژ کرنے کیلئے متحرک ہوگئے اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ اب یہ پروگرام کبھی منعقد نہیں ہوسکے گا، ایسے موقع پرانسانیت کا درد رکھنے والے کچھ ایسے لوگ آگے بڑھے جنہوں نے میرے ساتھ قدم سے قدم ملا کر اس پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے پس پردہ اپنا بہترین کردار ادا کیا،ایسی عظیم بلند کردار شخصیات نے اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ آج بھی ہمارے درمیان ایسے لوگ موجود ہیں جنکی وجہ سے اوپر والے کی برکت ہمارے پیارے وطن پر قائم ہے۔ اسلام آباد کو اسٹیٹس اور پروٹوکول کا شہر کہا جاتا ہے، جہاں عہدہ اور گریڈ بعض اوقات انسان کی عزت کا پیمانہ بن جاتے ہیں، یہاں عمومی طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ بڑے تفریخی پروگراموں میں بااثر افراد کیلئے مفت پاسز اور خصوصی پروٹوکول ضروری ہوتے ہیں، میں نے اس روایت کو بدلنے کی کوشش کرتے ہوئے ہر شخص کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ مفت پاس لینے کے بجائے ٹکٹ خریدیں کیونکہ آپ کا خریدا گیا ایک ٹکٹ کسی بے بس ضرورت مند کی زندگی بدلنے میں معاون ثابت ہوگا ۔ پریم نگر کے اس پروگرام میں میری کوشش تھی کہ انسانیت کے سامنے کوئی عہدہ بڑا یا چھوٹا نہ ہو، یہی سوچ کر میں نے اس امر کو یقینی بنایا کہ چاہے کوئی چالیس ہزار روپے کا ٹکٹ خریدے یا تین ہزار کا، وہ ایک ہی دروازے سے اندر داخل ہو، یہی میرے نزدیک حقیقی مساوات ہے، جب خدا کے سامنے سب برابر ہیں تو پھرانسانیت کی خدمت کے میدان میں بھی سب کو برابر ہونا چاہیے۔ پریم نگرکے اس سفر میں مجھے بیوروکریسی کی جانب سے مختلف مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا، بعض بااثر افراد ناراض ہوگئے کہ میں نے انکی فیملی کو مفت پاس دینے کے بجائے ٹکٹ خریدنے کیلئے قائل کرنے کی جسارت کیوں کی؟ انہوں نےاس بات کا غصہ میرے ساتھ تعاون کرنے والے ماتحت عملے پر نکالا، مجھے دباؤ میں لانے کیلئے مختلف ہتھکنڈے آزمائے گئے ،مجھے افسوس ضرور ہوا لیکن میں نے اپنے اصول پر سمجھوتہ نہ کیا۔ اور پھر آخرکاروہ نہ بھولنے والی رات آگئی جب مالک کو میرے عزم کا سب سے بڑا امتحان لینا مطلوب تھا، میں گیارہ ستمبر کی رات اپنی زیرنگرانی اسلام آباد کی تاریخ کا سب سے بڑا بلند و بالا اسٹیج لگوارہا تھا جب آناََ فاناََ موسم نے تیور بدلنا شروع کردیے، ایک دم شدید طوفانی ہوائیں چلنا شروع ہو گئیں اورمیرے دیکھتے ہی دیکھتے اسٹیج خوفناک انداز میں زمین بوس ہوگیا، ہر طرف افراتفری پھیل گئی، خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم چند ہی لمحوں میں سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازار گرم ہوگیا، قیاس آرائیاں ہونے لگیں کہ ایونٹ منسوخ ہوگیا ہے، تاہم میں نےفوری طور پر ویڈیو میسج جاری کیا کہ یہ مالک کی طرف سے ایک امتحان ہے۔میں پوری رات سو نہیں سکا، اپنی ٹیم کے ساتھ موقع پر موجود رہا اور اپنی نگرانی میں دوبارہ اسٹیج کی تعمیر کا کام شروع کروایا، جب صبح سویرے سورج نے اپنی کرنیں بکھیریں تو انتہائی مختصر وقت میں اسٹیج دوبارہ سے کھڑا ہوچکا تھا۔یقیناً اس حادثے نے ہماری تیاریوں اور وقت کے شیڈول کو متاثر کیا، ایونٹ کے دن کچھ انتظامی مشکلات بھی پیش آئیں لیکن میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے صورتحال کو سمجھا، ہماری مشکلات کا احساس کیا اور مجموعی طور پر بھرپور تعاون کیا۔جب پریم نگر کے برانڈ ایمبسڈرز صوفی موسیقی کی ملکہ عابدہ پروین اوراستاد راحت فتح علی خان لائیو پرفارمنس کیلئے اسٹیج پر آئے تو سب خوشی سے جھوم اُٹھے اوربھنگڑا پاپ میوزک کے بادشاہ ابرارالحق نے ہر ایک کو اپنی نشست سے کھڑا ہوکر ناچنے پرمجبور کردیا۔ مجھے اس بات پر بھی خوشی ہے کہ بعض لوگوں کی جانب سے دباؤ اور منفی مہم کی کوششوں کے باوجود جڑواں شہروں کے باسیوں نے خود پریم نگر کے حق میں آواز بلند کی، اگرسوشل میڈیا پر کسی نے منفی تبصرہ کرنے کی کوشش کی بھی تو شرکاء نے کمنٹس میں خود اس کا جواب دیا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود اسپورٹس کمپلیکس میں پریم نگر کا تاریخی چیئرٹی ایونٹ اپنی مثال آپ تھا، وقت نے ثابت کردیا کہ ڈاکٹر رمیش کمار کے ایونٹ کا اسٹیج ضرور گِرا لیکن حوصلہ نہیں گِرا۔

تازہ ترین