• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زیادہ دیر اسکرین دیکھنے سے گردن پر دباؤ پڑ سکتا ہے، یہ ورزش آزمائیں

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

موبائل فون پر طویل وقت تک گردن جھکا کر دیکھنے یا کمپیوٹر پر دیر تک کام کرنے سے گردن کے پٹھوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے، جس سے درد، اکڑاؤ اور عام طور پر ’ٹیک نیک‘ (Tech Neck) کہلانے والی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔

یہ مسئلہ اکثر سر کو طویل عرصے تک آگے کی جانب جھکا کر رکھنے سے پیدا ہوتا ہے، اسکرین دیکھتے وقت جب سر آگے کی طرف آ جاتا ہے تو اسے سہارا دینے کے لیے گردن کے پٹھوں کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، اس پوزیشن میں زیادہ دیر رہنے سے گردن میں درد یا کھنچاؤ محسوس ہو سکتا ہے۔

صحت کے شعبے سے وابستہ افراد، دفتری ملازمین اور ایسے دیگر افراد جن کے کام میں بار بار نیچے دیکھنا یا کمپیوٹر کے سامنے طویل وقت گزارنا شامل ہو ان علامات کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔

چن ٹک ورزش آزمائیں:

سر اور گردن کو نسبتاً متوازن پوزیشن میں رکھنے میں مدد دینے والی ایک سادہ ورزش چن ٹک (chin tucks) ہے۔

— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

یہ ورزش کرنے کے لیے کرسی پر سیدھے بیٹھیں، کمر سیدھی رکھیں اور سامنے کی جانب دیکھیں۔

سر کو اوپر یا نیچے کیے بغیر، سر اور ٹھوڑی کو آہستگی سے پیچھے کی جانب کھینچیں، جیسے ٹھوڑی کے نیچے ہلکی سی تہہ بن رہی ہو، اس پوزیشن کو چند سیکنڈ برقرار رکھنے کے بعد گردن کو ڈھیلا چھوڑیں اور معمول کی پوزیشن میں واپس آ جائیں۔

گردن کے پچھلے حصے میں ہلکا کھنچاؤ یا معمولی تناؤ محسوس ہونا معمول کی بات ہے، تاہم اس حرکت سے تیز یا بڑھتا ہوا درد نہیں ہونا چاہیے۔

اس ورزش کا مقصد سر اور گردن کی بہتر سیدھ (alignment) برقرار رکھنے میں مدد دینا اور ان پٹھوں کو فعال کرنا ہے جو گردن کو سہارا دیتے ہیں۔

اسکرین کیسے استعمال کریں؟

صرف ورزشیں دن بھر کی غلط نشست اور جسمانی پوزیشن کے اثرات کا ازالہ نہیں کر سکتیں، اسکرین کو آنکھوں کے لیے آرام دہ بلندی پر رکھنا، کمر کو مناسب سہارا دے کر بیٹھنا اور طویل وقت تک ایک ہی پوزیشن میں رہنے سے گریز کرنا گردن پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

اس کے علاوہ باقاعدگی سے وقفہ لینا بھی ضروری ہے، اسکرین سے نظریں ہٹانا، پوزیشن تبدیل کرنا اور وقفے وقفے سے گردن اور کندھوں کو حرکت دینا پٹھوں کو طویل عرصے تک مسلسل تناؤ میں رہنے سے بچا سکتا ہے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید