آج کی دنیا میں کسی ملک کی بڑائی اور عظمت کا پیمانہ انسانیت کی ترقی و خوشحالی اور امن و انصاف کیلئے اس کی خدمات نہیں بلکہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دینے کی صلاحیت ہے۔ بڑی طاقتوں میں مہلک ہتھیاروں کی عشروں سے جاری دوڑ اسی طرز فکر نتیجہ ہے ۔ کم وسائل رکھنے والے ملک بھی طاقتوروں کی حرص و ہوس سے بچاؤ کیلئے حتی المقدور اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے پر مجبور ہیں۔ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری خصوصاً ایٹمی صلاحیت کو چند بڑے ملکوں نے کرہ ارض پر اپنی بالادستی قائم رکھنے کی خاطر اپنے لیے مخصوص کرکے باقی دنیا کیلئے اسے شجر ممنوعہ قرار دے رکھا ہے۔ تاہم انسانیت کو ایٹمی جنگ کی ناقابل تصور تباہ کاریوں سے بچانے کیلئے دو بڑی طاقتوں امریکہ اور روس نے ایٹمی ہتھیاروں میں عدم پھیلاؤکا معاہدہ کررکھا تھا جس کی بنا پر زمین پر مہلک ہتھیاروں کی دوڑ کسی حد تک کنٹرول میں تھی۔
اس معاہدے کے تحت امریکہ اور روس اس بات کے پابند تھے کہ وہ اپنے ایٹمی وار ہیڈز کی تعداد 1550 سے زیادہ نہیں بڑھائیں گے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ایٹمی مراکز کا معائنہ بھی کر سکتے تھے تاکہ شفافیت برقرار رہے اور کوئی دھوکہ نہ دے سکے۔1991میں جب پہلی بار ایسا معاہدہ ہوا تھا تو ایٹمی ہتھیاروں کی حد چھ ہزار رکھی گئی تھی جسے وقت کے ساتھ کم کیا گیا۔2010 میں نیواسٹارٹ کے نام سے اس معاہدے کی پندرہ سال کیلئے تجدید ہوئی ۔ امید تھی کہ اس مدت کے اختتام پر اس میں مزید توسیع ہوجائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا اوراس سال پانچ فروری کو مہلک ہتھیاروں کی روک تھام کا یہ آخری اہم معاہدہ ختم ہوگیا۔اس کے بعد دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان اس معاہدے میں توسیع یا کسی نئے متبادل منصوبے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ چنانچہ اس کے بعد روسی وزارت خارجہ نے واضح کر دیا تھا کہ اب وہ کسی معاہدے کے پابند نہیں رہے اور اپنے اگلے اقدامات کا فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ اس معاہدے کے ختم ہونے سے اب دونوں ممالک ایک دوسرے کی نیتوں کا درست اندازہ نہیں لگا سکتے جس سے غلط فہمی کی بنیاد پر جنگ چھڑنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے اوردنیا کے سوا آٹھ ارب انسان زمین پرمہلک ہتھیاروں کی دوڑ دوبارہ شروع ہونے کے سنگین خطرے سے دوچار ہوگئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی امن کیلئے ایک سنگین لمحہ قرار دیا تھا اور دونوں طاقتوں سے مطالبہ کیا تھاکہ وہ بلا تاخیر کسی نئے معاہدے پر بات چیت کریں لیکن نہ صرف یہ کہ ایسا ہو نہیں ہوابلکہ تازہ ترین پیش رفت کے مطابق اب امریکہ نے ہتھیاروں کی اس دوڑ کو خلا تک پہنچا دیا ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق رواں ہفتے کے آغاز میںامریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے خلا میں ہتھیار نصب کر دیے ہیں۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس غیر معمولی عوامی اعلان کے نتیجے میں زمین کے مدار میں روس اور چین کے ساتھ انتہائی خطرناک ہتھیاروں کی دوڑ میں تیزی آئے گی۔ امریکی فضائیہ کے سیکرٹری ٹرائے مینک کے مطابق واشنگٹن کے پاس مدار میں فعال ہتھیار موجود ہیں یعنی انہیں نصب کیا جا چکا ہے اور وہ زمین کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ پیر کو ایئر اسپیس سائبر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مینک نے کہا کہ آج ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ جہاں کہیں بھی ابھرتے ہوئے خطرات ہوں، ہم ان کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہی وجہ ہے کہ اب امریکہ کے پاس مدار میں خلا پر کنٹرول رکھنے والے ہتھیار موجود ہیں۔ مینک نے کہا کہ وہ ان ہتھیاروں کی تفصیل میں نہیں جائیں گے۔ تاہم امریکی خلائی فورس کے ترجمان نے کہا کہ اسپیس کنٹرول سے مراد مخالف کی صلاحیتوں کو متاثر کرنے کیلئے براہِ راست ٹکراؤ یا اس سے دوسری نوعیت کے ذرائع کا استعمال ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان صلاحیتوں کو جارحانہ اور دفاعی دونوں مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
امریکی اعلان پر چین کی وزارت خارجہ نے اس موقف کا اظہار کیا کہ واشنگٹن بیرونی خلا میں جنگ کی تیاری کر رہا ہے ، اور خبردار کیا کہ خلا کو جنگ کا میدان بنانے اور وہاں ہتھیاروں کی دوڑ شروع کرنے سے گریز نہ کیا گیا تو نتائج نہایت سنگین ہوسکتے ہیں۔ ماسکو میں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ روس کا موقف ہے کہ خلا کو ہر قسم کے ہتھیاروں سے پاک ہونا چاہیے ۔یہ بات سب پر عیاں ہے کہ روس اور چین بھی خلائی ہتھیاروں پر کام کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں خود ایک امریکی خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’مدار میں ایسی صلاحیتوں کی پہلی بار عوامی سطح پر تصدیق سے ہتھیاروں کی خطرناک دوڑ میں تیزی آ سکتی ہے۔ اس اعلان کے بعد روس اور چین اب اسی طرح کا جواب دیں گے اور اپنے ہتھیار بھی خلا میں نصب کریں گے۔‘‘
ایک ایسی دنیا میں جو پہلے ہی جاری جنگوں کے سبب سنگین معاشی بحران اور انسانی المیوں سے دوچار ہے، جنگی جنون کو زمین سے اٹھا کر خلا تک پہنچا دینا بلاشبہ امریکی حکومت کا انتہائی امن دشمن اور عاقبت نا اندیشانہ اقدام ہے۔انسانیت کو تباہی سے بچانا ہے تو دنیا میں جنگل کے قانون کے بجائے سچائی اور انصاف ، امن اور رواداری کے چلن کو عام کرنا ہوگا۔ امریکی عوام اور دنیا بھر کے انسانیت دوست لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کوکرہ ارض پر مائٹ از رائٹ کے حیوانی قانون کے بجائے رائٹ از مائٹ کے اعلیٰ اخلاقی اصول کی پابندی پر مجبور کریں بصورت دیگر زمین سے خلا تک ہونے والی جنگیں دنیا کی مکمل تباہی کا سبب بن جائیں گی۔