• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قارئین یہاں میں آپ کو بتاتا چلوں کہ ایک مرتبہ پھرچیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے بھارتی بورڈ کی انا کو خاک میں ملاتے ہوئے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جس نے کرکٹ کی دنیا میں کھلبلی مچا دی ہے۔ محسن نقوی نے دونوں ایشیا کپ کی ٹرافیاں ایشین کرکٹ کونسل کے دفتر میں رکھ کر بھاری تالا لگایا، چابی اپنی جیب میں رکھی اور سیدھے پاکستان واپس لوٹ آئے۔ انہوں نے بھارتی بورڈ کو دو ٹوک پیغام دیا کہ اگر اب ٹرافی چاہیے تو دفتر آ کر صرف میرے ہی ہاتھ سے لینی پڑے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا کہ ہفتہ اور اتوار کو چھٹی ہوتی ہے، اس لئے جس دن بھی آنا ہو پہلے سے اطلاع کرنا اور یاد رہے کہ ٹرافی صرف کپتانوں کے حوالے کی جائے گی، کسی اور کو نہیں۔یہ حیران کن اور جرأت مندانہ فیصلہ محض ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ اس بات کا کھلم کھلا اعلان ہے کہ اب کرکٹ میں کسی کی چوہدراہٹ نہیں چلے گی۔ عزت دو گے تو عزت ملے گی، ورنہ تمہاری جیت کی ٹرافیاں بھی ہمارے ہی تالوں میں بند رہیں گی۔کیونکہ بھارتی ویمنز ٹیم نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی اور ایشین کرکٹ کونسل کے صدر سید محسن نقوی سے ایشیا کپ کی ٹرافی لینے سے انکار کر دیاتھا۔یاد رہے کہ محسن نقوی اور دیگر عہدیدار ویمنز ایشیا کرکٹ کی اختتامی تقریب کیلئے اسٹیج پر موجود رہے تاہم بھارتی ٹیم فائنل جیتنے کے بعد ٹرافی لینے کیلئے ڈریسنگ روم سےباہر نہ آئی۔ اس سے قبل بھارتی مینز ٹیم نے بھی ٹرافی لینے سے انکار کیا تھا۔ اس طرح بھارت نے کرکٹ کو پاکستان مخالف بھونڈی سیاست کی نذر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کھیلوں کو سیاست سے الگ رکھنے کا اصول عالمی سطح پر امن، باہمی احترام اور عوامی روابط کے فروغ کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے مگر بھارت نے ایک بار پھر کھیل کے میدان کو اپنی سیاسی اور متعصبانہ سوچ کی بھینٹ چڑھا کر اس اصول کی نفی کر دی ہے۔ ویمنز ایشیا کپ کی ٹرافی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی سے وصول کرنے سے بھارتی ٹیم کا انکار صرف کھیل سے متعلق معاملہ نہیں بلکہ اس بھارتی ذہنیت کی عکاسی ہے جو کھیلوں کو بھی سیاسی مخاصمت کے اظہار کیلئے استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتی۔ پاکستان اور بھارت کے مابین سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر کھلاڑیوں اور کھیل کو ان اختلافات سے محفوظ رکھنا دونوں ملکوں اور کھیلوں کے عالمی اداروں کی ذمہ داری ہے۔دوسری جانب بھارتی میڈیا کا پاکستان کے خلاف مسلسل زہریلا پروپیگنڈا بھی اب عالمی سطح پر بے نقاب ہو رہا ہے۔ ملائیشیا کے وزیراعظم کی جانب سے پاکستان پر دہشتگردی کا الزام تسلیم نہ کرنا اس امر کا اظہار ہے کہ ہر بھارتی دعوے کو محض بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کی بنیاد پر دنیا قبول کرنے کو تیار نہیں۔ گودی میڈیا نے پاکستان کے خلاف جو بیانیہ مسلسل فروغ دیا، اسے ہر فورم پر پذیرائی ملنا ممکن نہیں۔کھیلوں میں بھی سیاست اور دشمنی کو شامل کرکے بھارت دراصل اعتماد سازی کے ان محدود راستوں کو بھی مسدود کر رہا ہے جو کشیدہ تعلقات کےماحول میں عوامی رابطے کاذریعہ بن سکتے ہیں۔عالمی برادری کو بھارت کے اس طرزِ عمل کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔ کھیلوں کو سیاسی انتقام اور تعصب کا میدان بننے سے روکنا کھیلوں کے عالمی اداروں کی ذمہ داری ہے۔

دوسری جانب برکس ممالک نے غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو مستر داور فلسطین کے 2ر یاستی حل کی حمایت کر دی ہے۔ برکس سربراہی اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں غزہ میں کسی بھی قسم کی جغرافیائی یا آبادیاتی تبدیلی کی مخالفت کی گئی ہے۔ برکس ممالک نے مقبوضہ بیت المقدس کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتے ہوئے شہر میں موجود تمام مذہبی اور مقدس مقامات کے احترام پر بھی زور دیا ہے۔11رکنی برکس گروپ نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔ عالمی امن کیلئے یہ یقیناََ ایک مثبت اور اہم موقف ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان قرار دادوں اور اعلامیوں پر عمل درآمد کون کروائے گا؟ دنیا کے مختلف عالمی فورمز ، جن میں دنیا کا سب سے بڑا ادارہ اقوام متحدہ بھی شامل ہے، فلسطین اور کشمیر کے حوالے سے متعدد قراردادیں منظور کر چکے ہیں، مگر افسوس کہ ان قراردادوں کی حیثیت عملی طور پر محض کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں رہ جاتی ۔ بھارت اور اسرائیل جیسے ممالک ان عالمی قرار دادوں اور فیصلوں کو مسلسل نظر انداز کرتے آئے ہیں، جبکہ امریکہ اسرائیل کی کھلی پشت پناہی کرتے ہوئے اسے عالمی دباؤ سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے میں برکس کا جنگ بندی، فلسطینیوں کے حقوق اور2 ریاستی حل کے حق میں موقف یقیناََ اہم ہے، لیکن اس موقف کی اصل اہمیت اسی وقت ثابت ہو گی جب اسے عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا۔ سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جس ملک، بھارت میں برکس کا یہ اجلاس منعقد ہوا، وہ بھی اس اعلامیے پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہے، جبکہ خود بھارت کا طرز عمل خطے میں امن، انسانی حقوق اور عالمی اصولوں کے حوالے سے ہمیشہ سوالات کی زد میں رہا ہے۔ ایسے میں بھارت کا دنیا کو امن ، تحمل اور عالمی قوانین کی پاسداری کا درس دینا ایک بڑی منافقت ہے۔ دنیا کو اب قرار دادوں اور اعلامیوں سے زیادہ ان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ اگر عالمی طاقتیں واقعی امن چاہتی ہیں تو انہیں اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر یکساں اصول اپنانا ہوں گے۔

تازہ ترین