بچپن میں ڈائجسٹ بہت پسند ہوتے تھے۔ان میں جاسوسی کہانیاں ہوتی تھیں اور بڑا تھرل محسوس ہوتا تھا۔اچھے ڈائجسٹوں میں زیادہ تر کہانیاں انگریزی سے ترجمہ ہوتی تھیں لیکن ایک عجیب بات تھی۔ ان کہانیوں میں اکثر میاں بیوی ایک دوسرے کو مارنے کے درپے ہوتے تھے یا مار دیتے تھے۔کچھ کہانیوں میں شاطر ملزم بچ جاتا تھا کچھ میں پکڑا جاتا تھا۔ اُس وقت یہی لگتا تھا کہ انگریز قوم بس بیویوں کو مارنا ہی چاہتی ہے۔ آج اگر آپ سوشل میڈیاپر کرائم کی وڈیوز دیکھیں تو ایسا لگتاہے بس یہی ایک کرائم ہے جو ہر جگہ ہورہاہے۔ اخباروں کی خبریں پڑھیں تو بندہ دنگ رہ جاتاہے کہ ماں کیسے اپنے بچوں کو مار سکتی ہے، شوہر کیسے بیوی کو جان سے مار سکتاہے، بیوی کیسے شوہر کا قتل کروا سکتی ہے۔شائد ایسے واقعات ہر دور میں ہوتے رہے ہوں گے لیکن اب چونکہ بات فوراً پھیل جاتی ہے اس لیے نظر میں آجاتی ہے۔محبت کے رشتوں اور شادیوں میں بھی یہی کچھ ہورہاہے۔لیکن کیوں ہورہاہے۔جو لڑکا لڑکی ایک دوسرے کی محبت میں اندھے ہوجاتے ہیں وہ بعد میں ایک دوسرے کی جان کے دشمن کیوں بن جاتے ہیں؟ اس کا جواب ہے وہم۔80فیصد لوگوں کو محبت نہیں ہوتی صرف محبت کا وہم ہوتاہے۔ چونکہ محبت کی کوئی متعین تعریف نہیں ہے لہٰذا لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرنا شروع کردیں تو یہی محبت کہلاتی ہے حالانکہ یہ ایک تجسس ہوتاہے جو وقت کے ساتھ جب کھلتاہے تو اپنی اہمیت کھو بیٹھتاہے۔جو لوگ اس تجسس کے بعد بھی ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں وہ سچے پریمی ہوتے ہیں اور جنہیں ایک دوسرے کا ساتھ زہر لگنے لگتاہے وہ اصل میں محبت کے وہم سے نکل آتے ہیں۔محبت میں پیارسے زیادہ ساتھ اہم ہوتاہے۔اس ساتھ میں لڑائی جھگڑے بھی ہوتے ہیں، ناراضیاں بھی ہوتی ہیں لیکن ساتھ نہیں چھوڑا جاتا۔ہمیں فلموں میں صرف ہیرو ہیروئین کے عشق کی کہانی دکھائی جاتی ہے، شادی کے بعد کیا ہوایہاں فلم ختم ہوجاتی ہے۔شائد آگے کی کہانی سب جانتے ہیں۔
٭ ٭ ٭
کہاجارہاہے کہ موٹر سائیکلوں، چھوٹی گاڑیوں اور رکشہ والوں کو پٹرول پر ریلیف دیا جارہاہے۔ دوسری طرف پٹرول پمپ پر لائنوں میں لگے لوگ چیختے چلاتے ہوئے اپنی وڈیوز بنا کر سارا منظر دکھا رہے ہیں کہ پٹرول پمپ والے کسی بات پر عمل نہیں کر رہے۔ پتا نہیں کون سچ بول رہاہے۔اب اعلان ہوا ہے کہ حکومت پانچ سو روپے کا ٹوکن دے گی۔ یہ ٹوکن کہاں سے ملے گا، کیسے ملے گا، شائد کسی کے علم میں ہو۔ اتنے آسان پروسیجر کو مشکل ترین بنانا بھی حکومتی مشیروں پر ختم ہے۔ دوسرا عجیب کام یہ ہوا ہے کہ جو موٹر سائیکل مالک کے نام پر رجسٹرڈ نہیں ہوگی اسے سستا پٹرول نہیں ملے گا۔گویا جو بندہ موٹر سائیکل اپنے نام پر رجسٹرڈ نہیں کرواتا وہ اصل میں اُسے چلاتا بھی نہیں۔بے شمار گھروں میں ایک ہی موٹر سائیکل ہوتی ہے جسے بیٹا، بھائی یا باپ استعمال کرتاہے۔باپ اگر چلنے پھرنے سے قاصر ہے تو اسے موٹر سائیکل میں سستا پٹرول نہیں ملے گا کیونکہ موٹر سائیکل اُس کے نام رجسٹرڈ ہے؟ ایسی احمقانہ تجویز دینے والے کو بھی سات سلام۔ حضور جو بھی موٹر سائیکل سستاپٹرول ڈلوانے آئے اُسے دیجئے اور اس کا رجسٹریشن نمبر نوٹ کر کے ڈیٹا میں ڈال دیجئے وہ دوبارہ آئے گا تو پتا چل جائے گا۔رکشے بھی زیادہ تر رینٹ یا ٹھیکے پر چلتے ہیں یعنی مالک کوئی اور ہے اور چلاتا کوئی اور ہے، یہ بیچارہ بھی پھنس گیا، کہاں کہاں مالک کو ساتھ لیے پھرے گا۔اس ساری پریکٹس سے تو بہتر ہے کہ مجموعی طور پر ہی پٹرول کی قیمت میں کچھ واضح کمی کردیں۔
٭ ٭ ٭
پاکستان میں ہر تیسرے نکمے بندے کے منہ سے یہ ضرور سننے کو ملتاہے کہ فلاں سڑک پر ہمارے دادا کی پانچ کنال زمین تھی جو انہوں نے 1950میں صرف پچاس ہزار میں بیچ دی۔اگر آج وہ زمین ہوتی تو ہم امیر ترین ہوتے۔بندہ پوچھے 1950میں پچاس ہزار کی رقم کم تھی؟ آج اُس سڑک پر پانچ کنال زمین اگر دو ارب روپے کی ہے تو اُس وقت بھی دو ارب کی ہی تھی فرق صرف اتنا ہے کہ اُس وقت دو ارب روپے کی مالیت پچاس ہزار تھی۔ یاد کریں جب آٹا ایک روپے من تھا تو لوگ ماہانہ کتنے کمایا کرتے تھے۔ایسے لوگ کبھی نہیں سوچتے کہ دادا کے پاس وہ زمین کیسے آئی تھی۔ تھوڑی سی تحقیق کریں تو پتا چلے گا کہ یا تو دادا جی ڈاکو تھے یا بہت محنتی تھے۔ اگر تو وہ محنتی تھے تو آپ بھی محنت کرکے پانچ کنال زمین بنا لیں۔آپ تو اپنے دادا کی زمین کو یاد کرکے آہیں بھرتے ہیں لیکن آپ کے پوتے کیاکہیں گے؟ ان کیلئے تو آپ نے آدھا مرلہ بھی نہیں چھوڑکے جانا۔ایسے لوگ خزانے ڈھونڈتے ہیں تاکہ اپنی کاہلی کو جواز بخش سکیں۔اِنہیں ہر ایسے کام میں دلچسپی ہوتی ہے جس سے اِنہیں گھر بیٹھے لاکھوں کا پرافٹ ہوجائے۔ان سے کبھی اِن کے دادا مرحوم کے قصے سنیں تو پتا چلتاہے کہ تقسیم کے وقت اِن کے دادا ہندوستان میں ہیرے جواہرات سے بھرے مکان چھوڑ کر مجبوراً چند ٹوٹے پھوٹے برتن ساتھ لے کرپاکستان ہجرت کرگئے تھے۔پتا نہیں داداجی ٹوٹے پھوٹے برتنوں کے ساتھ دو چار ہیرے کیوں نہیں جیب میں ڈال لائے۔ایسی کہانیاں سنانے والوں کے پاس صرف اپنے بزرگوں کے من گھڑت قصے ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر انہیں لگتا ہے کہ قسمت ہی خراب ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی موٹر سائیکل کو سو فیصد حلال اور دوسروں کی گاڑی کو دیکھ کر’حرام کا مال‘ قرار دے دیتے ہیں۔خوشحال بندہ بھلا کس سے برداشت ہوتا ہے۔ ہمیں ہرکوئی اپنی طرح روتا پیٹتا ہی چاہیے پھر وہ چاہے ڈکیتیاں ہی کیوں نہ کرے ہماری ساری ہمدردیاں اُس کے ساتھ ہوتی ہیں۔