• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگرچہ اسموگ کی تخلیق اور اسکی تباہ کاریوں کے پس پردہ عوامل میں بے ہنگم شہری زندگی، ناقص ایندھن کا حریصانہ استعمال اور ماحولیاتی تقاضوں سے احتراز شامل ہیں۔ لیکن اب بھی وقت ہے ہم لاہور جیسے بڑے شہروں کو اس عفریت سے بچا ئیںجس کیلئے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اربن لاہور کی تعمیر میں ضروری احتیاطیں قبل از تجدید ضرورت تھی۔ ان سے دوبارہ رجوع کر کے ان پر عملدرآمد کر کے ہم مزید تباہ کاریوں سے بچ سکتے ہیں۔ اگرچہ لاہوری اسموگ کی شدت میں نواحی کارخانوں، کھیتوں اور پڑوسی ملک بھارت کی اسموگ کا بھی عمل دخل ہے۔ لیکن شہر لاہور کی پرانی اکالوجی کو بحال کر کے ہم اسموگ کے اثراتِ بد سے کافی حد تک بچائو کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ماضی کا لاہور بھی باغات کا شہر کہلاتا تھا، اس میں درختوں کی مقامی اقسام کی بھرمار تھی جن پر خزاں میں پت جھڑ ہوتی تو بہار میں شگوفے پھوٹتے پھول پھل لگتے، خوش الحان پرندے گھونسلے بناتے، سریلی آوازیں اور بولیاں بولتے۔ تب لاہور مانند فردوس بھی تھا۔ یہ منظر شہر کی حقیقی اور قدرتی اکالوجی اور قدیم ورثہ کا تسلسل تھا، جو اب مفقود ہے۔ درختوں کی جدیدیت کے شوق میں شہری منصوبہ بازوں نے بدیسی لیکن مہنگے اشجار کی بھرمار کر دی، جو کبھی خزاں رسیدہ نہیں ہوتے۔ لیکن پرندوں، انکے گھونسلوں، شہد کی مکھیوں، پھولوں اور نئے شگوفوں سے محروم رہتے ہیں۔ افسوس ان دائمی پودوں و درختوں کی نام نہاد سبز پوشاکیں اور پتے اسموگ کا باعث بن رہے ہیں۔ ماہرین حیران تھے کہ شہر لاہور کے نواح میں تو کسی واٹرباڈی، زندہ دریا اور جھیلوں کا وجود نہیں تو پھر اسموگ کیلئے بخارات کہاں سے نمودار ہوتے ہیں؟ اب تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہی وہ اجنبی، دائمی و سدا بہار سبز پودے ہیں جہاں سے اکتوبر تا جنوری میں بھی آبی بخارات آزاد ہو کر اسموگ کی تنظیم اور تخلیق کا باعث بنتے ہیں۔ کیا خداوند ان شہر ہمت سے کام لیکر ان ’’خطرناک‘‘ اشجار کی جگہ فوری نہ سہی بتدریج ہی پرانے، علاقائی پودوں کی شجرکاری کر سکتے ہیں؟ پرانے علاقائی پودوں ازقسم شہتوت، انجیر، جامن، شیشم، شیرین، پیپل، بکائن وغیرہ کی بحالی ہو گی تو اکتوبر تا جنوری کے مہینوں میں خزاں رسیدہ ٹنڈمنڈ درختوں سے ہوائی کثافتوں کو بخارات کی سپلائی کٹ جائیگی، مقامی اسموگ کی تخلیق نہ ہو سکے گی۔

ماضی کے لاہور میں گاڑیوں کی بھرمار نہ تھی۔ تب گاڑیوں، عمارات میں بے مہار ایئرکنڈیشنڈ نہ چلتے تھےجو اپنی حدت کو باہر پھینک کر شہر کے درجہ حرارت میں اضافہ کا مؤجب نہ بنتے تھے۔ آج لاہور کنکریٹ کا جنگل بن چکا ہے۔ عمارات کی چھتیں، مارکیٹیں، گلیاں، دفاتر کے خالی میدان، سبز گھاس کی بجائے کنکریٹ فرشوں سے ’’آراستہ‘‘ ہیں جن سے شہری تمازت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا ہم بیرونی اسموگ کی دراندازی سے بچنے کیلئے شہر لاہور اور مضافات میں درجہ حرارت کے فرق کو ختم کر سکتے ہیں؟ گاڑیوں کی بے جا مسافتوں کو کم کرنے کیلئے مارکیٹوں، دفاتر اور عدالتی مراکز کو شہر کے نواح میں منتقل کر سکتے ہیں؟ بڑے شہروں کی فضائی آلودگی میں ناقص ایندھن کا استعمال بھی ذمہ دار ہے۔ قدرتی گیس، بجلی کی کمیابی کی وجہ سے اکثر کارخانے رات کے اندھیروں میں زرعی باقیات، ناکارہ پلاسٹک، آلودہ پارچات اور ناقص کوئلہ وغیرہ کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔ چنانچہ ڈائی آکسن، فیوران اور سلفر وغیرہ کا اخراج اسموگ میں شامل ہو کر انسانی صحت کو تباہ کر رہا ہے۔ ایسے کارخانوں کا انرجی آڈٹ کیا جائے اور فرانزک تحقیقات کے ذریعے ایندھن کی نوعیت کا ادراک کیا جائے۔ لاہوری اسموگ میں ڈرامائی کمی کیلئے کیا ہم ساہیوال، شیخوپورہ کے پاور پلانٹس کی عارضی بندش کر سکتے ہیں؟ ۔ بلاشبہ شہری فضائی آلودگی کی روک تھام اور ماحول دوست برقی ٹرانسپورٹ کے رواج کیلئے موجودہ حکومت کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اگلے اقدام کے طور پر برقی ٹرانسپورٹ کے استعمال کیلئے ایسی برقی توانائی کا اہتمام کیا جائے جو آبی، شمسی یا دیگر ماحول دوست ٹیکنالوجی سے ماخوذ ہو، تاکہ ماحولیاتی بہتری میں جامعیت کی جھلک نظر آئے۔ ماہرین کی رائے میں آلات اور مشینوں کے ذریعے موسموں اور قدرتی عوامل کا مقابلہ وقتی بھی ہے اور مہنگا بھی۔ چنانچہ وہ موسمی شدائد کو قدرتی عوامل سے ہی درست کرنے پر متفق ہیں۔ 2500مربع کلومیٹر وسیع رقبہ پر محیط لاہور جسے شہر میں ہوائی جہازوں کے ذریعے مصنوعی بارشوں کا اہتمام تاکہ اسموگ کا خاتمہ ہو، ایک کار ندارد ہے۔ اسی طرح دیوہیکل پنکھوں یا ہوا چوس (Air Sucker) کی تنصیب کے ذریعے اسموگ کا خاتمہ قابل عمل نہیں ہے۔ پرانی اسموگ کی جگہ مضافات سے آنیوالی اسموگ کا سلسلہ پڑوسی ملک بھارت تک پھیلا ہوا ہے، جو بے کنار ہے۔ یہ پنکھے کتنی اسموگ چوس لیں گے۔ گزشتہ سال لاہور کی سڑکوں پر توپ گاڑیوں کی رونمائی سے شہریانِ لاہور میں ’’جہادی‘‘ ولولہ پیدا ہو گیا۔ لیکن افسوس یہ مہنگی ترکیب بھی کارآمد نہیں۔ توپ گاڑیوں کے ذریعے آبی پھوار نہایت محدود وقت کیلئے جزوی طور پر اسموگ کو سمیٹتی ہے، زمین پر پٹختی ہے، لیکن توپ گاڑیوں کے گزرنے پر دائیں بائیں اور بلندی سے اسموگ کا دوبارہ دھاوا ہو جاتا ہے۔ یوں صاف پانی کا بھی بھرپور ضیاع ہو تا ہے۔ گاڑیوں کا Emmission Test ضرور کیا جائے، لیکن غیرمعیاری فیول بیچنے والے پٹرول پمپس کا بھی سراغ لگایا جائے۔ اسموگ کے دنوں میں ماحولیاتی اداروں کا عملہ کیا پٹرول پمپس کے معیارات کو روزانہ کی بنیاد پر چیک کر سکتا ہے؟ بھٹہ خشت میں زگ زیگ ٹیکنالوجی کا استعمال دھوئیں کا محض اُفقی فاصلہ بڑھاتا ہے جس سے محض بھاری ذرات قابو میں آتے ہیں۔ بھٹہ کے کوئلہ یا نقص ایندھن سے خارج ہونیوالی خطرناک گیسوں یا ذرات کو قابو کرنے کیلئے کیا طریق کار استعمال کیا جاتا ہے؟ ہم داعی اصلاح سے جواب طلب ہیں۔

تازہ ترین