جمعہ کا دن تھا، دوپہر کے ایک بج کر بیس منٹ ہونیوالے تھے۔ کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد میں پولیس اہلکار اور شہری کندھے سے کندھا ملائے اپنے رب کے سامنے کھڑے تھے۔ وردیاں موجود تھیں مگر رتبے ختم ہوچکے تھے، سب ایک ہی صف کے نمازی تھے۔ کسی گھر میں دوپہر کا کھانا اپنے مکین کا منتظر ہوگا، کسی بچے نے سوچا ہوگا کہ ابو نماز کے بعد فون کریں گے اور کسی ماں کی نگاہ دروازے پر ہوگی۔ مسجد میں سکون تھا، پیشانیاں سجدے کیلئے جھک رہی تھیں اور لبوں پر اللّٰہ کا نام تھا۔ پھر اچانک زمین کانپی اور ایک قیامت ٹوٹ پڑی۔ بارود سے بھری گاڑی کے دھماکے نے مسجد کی دیواروں کے ساتھ نماز کی صفیں بھی بکھیر دیں۔ جہاں چند لمحے پہلے تکبیر سنائی دے رہی تھی، وہاں زخمیوں کی چیخیں اور ملبے تلے دبے انسانوں کی مدد کیلئے پکار تھی۔ گردوغبار میں زندہ ہاتھ اپنے ساتھیوں کو ٹٹول رہے تھے اور گولیوں کی آوازیں فضا چیر رہی تھیں۔ جو پیشانیاں ابھی سجدے میں جھکی تھیں، ان پر ملبہ پڑا تھا، کئی نمازی ہمیشہ کے لیے بے جان ہوچکے تھے۔
ابتدائی سرکاری رپورٹ نے بتایا کہ 21 انسان اپنے گھروں کو زندہ واپس نہ پہنچ سکے۔ ان میں 15 پولیس اہلکار اور چھ شہری تھے، جبکہ درجنوں زخمی ہسپتالوں میں زندگی سے لڑتے رہے۔ شہداء میں بچوں کے معالج ڈاکٹر اسرائیل خان اورکزئی بھی شامل تھے، جو شخص بیمار بچوں کی سانسیں بچاتا تھا، خود عبادت گاہ میں دہشت گردی کی نذر ہوگیا۔ یہ اکیس شہادتیں محض خبر کی سرخی یا ٹیلی وژن پر چلنے والا ہندسہ نہیں۔ یہ اکیس گھروں میں اچانک چھا جانے والی خاموشی، اکیس دسترخوانوں پر ہمیشہ خالی رہنے والی جگہ، کئی بچوں کے سروں سے اٹھ جانے والا باپ کا سایہ اور ماؤں کے بڑھاپے سے چھن جانے والا سہارا ہے۔ قبرستان میں مٹی ڈالنے کے بعد لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں، مگر شہید کے گھر والوں کیلئے اس دن کا دھماکا کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ ہر دستک پر چونکتے، ہر وردی میں اپنے پیارے کا چہرہ تلاش کرتے اور ہر جمعے کو ایک ایسے زخم کے ساتھ جیتے ہیں جس پر وقت بھی مرہم نہیں رکھ پاتا۔
اس خون آلود منظر کے بعد سوال براہ راست وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے بنتا ہے۔ آپ کے صوبے میں پولیس، فوجی جوان اور شہری مسلسل دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ایک دن ہنگو سے شہادتوں کی خبر آتی ہے اور دوسرے دن کوہاٹ کی مسجد خون میں نہا جاتی ہے۔ ایسے حالات میں آپ کی اولین ترجیح امن، پولیس کی استعداد، انٹیلی جنس اور متاثرہ خاندان ہونے چاہئیں، مگر صوبائی حکومت کی توانائی سیاسی جلوسوں اور اسلام آباد کی طرف مارچ کی منصوبہ بندی پر صرف ہورہی ہے۔
احتجاج آپ کا جمہوری حق ہے، لیکن صوبہ چلانا بڑی آئینی ذمہ داری ہے۔ کبھی لاہور کا دورہ اور کبھی اسلام آباد بند کرنے کی دھمکی، اس سے خیبرپختونخوا کے شہری کو کیا ملا؟ کیا کوہاٹ، بنوں، ہنگو اور وزیرستان محفوظ ہوگئے؟ کیا پولیس کو مکمل وسائل مل گئے؟ کیا ان جلوسوں سے عمران خان کی قانونی مشکلات میں کوئی آسانی پیدا ہوئی؟ اگر جواب نفی میں ہے تو وزیراعلیٰ کو اپنی ترجیحات بدلنی چاہئیں۔صوبے میں بدعنوانی کے معاملات بھی جواب طلب ہیں۔ بالائی کوہستان کے مبینہ 37 سے 40ارب روپے کے اسکینڈل میں نیب نے اربوں روپے کے اثاثے اور رقوم برآمد کیں اور جون 2026ء میں چھ ارب روپے صوبائی حکومت کے حوالے کیے۔ یہ سہیل آفریدی پر ذاتی الزام نہیں، مگر صوبائی نگرانی پر بڑا سوال ہے۔ خیبرپختونخوا کو احتجاجی کیمپ نہیں، سنجیدہ اور جواب دہ حکومت درکار ہے۔
پاکستان کو دہشت گردی کے ساتھ شدید معاشی اور توانائی بحران کا بھی سامنا ہے۔ خلیج کی جنگ اور عالمی قیمتوں نے درآمدی ایندھن پر منحصر ملک کو ہلا دیا ہے۔ پٹرول تقریباً 380اور ڈیزل 400 روپے فی لیٹر سے اوپر ہو تو سبزی، آٹا، دوا اور کرایہ بھی مہنگا ہوتا ہے۔ غریب پٹرول کی قیمت پمپ پر بھی ادا کرتا ہے اور بازار کی ہر دکان پر بھی۔ایسے وقت میں وزیراعظم شہباز شریف کے فیصلے قابلِ تعریف ہیں۔ سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کوٹے میں پچاس فیصد کمی، نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی، غیر ضروری بیرون ملک دوروں اور ضیافتوں کی بندش درست اقدامات ہیں۔ پیغام واضح ہے کہ قربانی صرف عام آدمی نہیں، حکومت اور اشرافیہ بھی دے گی۔وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشا اور چھوٹی گاڑی والوں کو مقررہ ماہانہ مقدار پر 100 روپے فی لیٹر رعایت دی گئی، جبکہ خوش حال طبقہ پوری قیمت دے گا۔ مستحق فرد کو امداد دینا درست اصول ہے۔ غریب کی مشکلات دور کرنا بھی ضروری ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ احساس دلایا ہے کہ حکومت غریب کے دکھ سے بے خبر نہیں۔ امید ہے کہ اب ریلیف کو شفاف طریقے سے منزل تک پہنچایا بھی جائے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے بھی مخلصانہ گزارش ہے۔ ان کے فلاحی منصوبے اپنی جگہ، مگر بحران میں حکمران کا طرزِ عمل بھی پالیسی بن جاتا ہے۔ لندن کے نجی سفر کے تقریباً دو کروڑ 72 لاکھ روپے خزانے میں جمع کرانا اچھی بات ہے، لیکن عوام علامت بھی دیکھتے ہیں۔ مزدور دو لیٹر پٹرول ڈلوانے سے پہلے جیب ٹٹول رہا ہو تو حکمران کا شاہانہ سفر فاصلے کا احساس بڑھاتا ہے۔
مریم نوازصاحبہ کو ایسی سادگی اپنانی چاہیے جو سفر، پروٹوکول اور فیصلوں میں دکھائی دے۔ عوام کو محسوس ہو کہ وزیراعلیٰ دور کھڑی ان کا دکھ نہیں دیکھ رہیں بلکہ مشکل وقت میں ان کے ساتھ ہیں۔ حکمران اپنی سہولت کم کرے اور قربانی میں شریک ہو تو سخت فیصلے بھی قابلِ برداشت ہوجاتے ہیں۔آج پاکستان کو تین چیزوں کی اشد ضرورت ہے: خیبرپختونخوا میں امن، پورے ملک میں معاشی ریلیف اور حکمرانوں کے رویے میں سادگی۔
سہیل آفریدی اپنے صوبے کو وقت دیں، شہباز شریف غریبوں کیلئے شروع کیا گیا ریلیف شفاف طریقے سے منزل تک پہنچائیں اور مریم نواز اپنے طرزِ زندگی سے عوام کے زخموں پر مرہم رکھیں۔کوہاٹ کے ملبے، پٹرول پمپ پر کھڑے مزدور اور خالی دسترخوان کے سامنے حکمرانی کا ایک ہی مطلب ہے: ذمہ داری۔ قوم مزید نعرے نہیں چاہتی، وہ اپنے حکمرانوں کو اپنے درد میں شریک دیکھنا چاہتی ہے۔