16 ستمبر کو یمن کی اتحادی فورسز کے سرکاری ترجمان نے بتایا کہ مکہ مکر مہ کے جانب بڑھتے ہوئے ایک حوثی ڈرون کو سعودی دفاعی نظام نے کامیابی سے مار گرایا۔ ان کے مطابق مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور زائرین کا تحفظ ان کی سرخ لکیر ہے جس کی حفاظت کے لیے وہ کسی بھی اقدام سے گریز نہ کریں گے۔ سعودی رائل ایئر فورس کے کردار کو سراہتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ ڈرون مکہ کی ممنوعہ حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا تھا تاہم یہ دشمنانہ اور دہشت گردانہ واردات مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش ہے، اس سے قبل 27 جولائی 2017 کو بھی ایک بیلسٹک میزائل مکہ مکرمہ پر داغا گیا تھا۔ حالیہ حملے کو ایک قبیح فعل کے علاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہ حملہ بیت الحرام کے مہمانوں، شہریوں اور مقیمین کو خوفزدہ کرنے اور نقصان پہنچانے کی ایک مضموم کوشش ہے۔ اس افسوناک واقعے پر پوری دنیا کے مسلمانوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔احتجاجی اور جذباتی بیانات کے علاوہ بہت سے حلقوں نے حتمی تحقیق کروانے اور نتیجہ آنے پر مجرموں کے خلاف بھرپور کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔
27 جولائی 2017 کو مکہ پر داغے جانے والا میزائل برکان- 1 تھا جو سکڈ میزائل کے خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اسے چلانے کا حوثیوں نے اعتراف کیا تھا جو شمالی یمن کے علاقے سے داغا گیا تھا ۔ اس میزائل کو مکہ مکر مہ کی حدود سے پہلے تقریباً 100 کلومیٹر دور" الوسیلہ" طائف صوبے میں روک کر سعودی دفاعی نظام نے تباہ کیا تھا۔ تاہم حوثیوں کے مطابق ان کا ہدف مکہ مکرمہ نہیں بلکہ طائف میں موجود "کنگ فہد ایئر بیس" تھا۔ بعد ازاں مختلف بین الاقوامی اداروں کی تحقیق سے بھی کسی صورت ثابت نہ ہوسکا کہ میزائل کا ہدف مکہ ہی تھا ۔ مکہ مکرمہ طائف سے تقریباً 70 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے جبکہ مزائل کی سمت طائف کی طرف تھی۔ حالیہ ڈرون حملے کے حوالے سے بین الاقوامی اداروں کی تحقیقات سے حقیقت جلد ہی معلوم ہو جائے گی۔آجکل کے جدید ٹیکنالوجی دور میں اوپن سورس سے باآسانی معلوم ہو سکتا ہے کہ ڈرون کا اصل لانچ پوائنٹ کہاں واقع تھا؟ اس کا مقررہ ہدف مکہ مکرمہ تھا یا وہ کسی اور تزویراتی یا فوجی ہدف کی جانب بڑھ رہا تھا؟ اور اس کی پرواز کی سمت/ ٹریجیکٹری کیا تھی؟ خصوصاً ایسے میں جبکہ حوثیوں نے مکہ مکرمہ یا کسی بھی مقدس مقام کو نشانہ بنانے کی واضح تردید کی ہے۔ موجودہ سعودی حوثی چپقلش کے حوالے سے مختلف آزاد ذرائع پہلے ہی سے دعوے کر رہے ہیں کہ سعودی عرب پر دیگر ڈرون حملے عراق سے خفیہ طور پر لانچ کیے گئے ہیں۔ اسی لئے آج تک بہت سے حملوں کی ذمہ داری کسی گروہ نے تسلیم نہیں کی۔ 17مئی 2026 کو سعودی وزارتِ دفاع نے ایسے تین ڈرون حملوں کی نشاندہی کی جو عراق سے داخل ہوئے اور سعودی دفاعی نظام نے انہیں تباہ کر دیا۔ ادھر عراقی حکام کے مطابق ان کے دفاعی نظام سے کسی ڈرون کو سعودیہ بھیجنے کا سراغ نہیں ملا۔ مئی ہی میں وال سٹریٹ جنرل نے غیر مصدقہ ذرائع سے اسرائیل کی عراق کے مغربی صحرا میں ایک خفیہ چوکی کا انکشاف کیا جسے ایران کے خلاف فضائی کارروائیوں کے لیے لاجسٹک مرکز اور خصوصی فوجی دستوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ چند روز بعد نیویارک ٹائمز نے مزید بتایا کہ عراقی حکام نے دراصل دو ایسے خفیہ اسرائیلی مقامات کی نشاندہی کی تھی۔ البتہ جلد ہی ہر جانب سے ان دعووں یا خبروں کی تردید اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے عراق میں خفیہ اڈوں کی موجودگی کی خبریں پھیلائی جانی شروع ہو گئیں۔ درحقیقت اسرائیل کا شروع دن سے یہی مطمعٔ نظر رہا ہے کہ خطے میں بدامنی، عدم استحکام اور بدگمانی سے ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ مشرق وسطیٰ پر اس کی بلا شرکتِ غیرے اجارہ داری قائم ہو۔ خلیجی ممالک کو تو امریکہ نے پیٹرو ڈالر،اپنے فوجی اڈوں اور دیگر حربوں سے قابو کر لیا تھالیکن ایران واحد ایسا ملک ہے جو کھل کر اسرائیلی عزائم کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ انقلابِ ایران سے پہلے مغرب ایران اور اس کے تیل پر اپنا حق سمجھتا تھا۔ادھر ایران اسرائیل کے باہمی تعلقات بھی خصوصی نوعیت کے تھے جو صرف سیاسی و دفاعی نقطہء نظر سے نہیں بلکہ ریاستِ اسرائیل کے اسٹریٹجک ، دفاعی،معاشی اور سیکیورٹی کے لیے انتہائی اہم تھے۔ عرب اتحاد بنانے کی مصر کی کاوشوں میں اسرائیل کا ایران سے مل کر رکاوٹیں ڈالنا، ایران کو اسرائیلی برآمدات کی مرکزی حیثیت، نجی اور سرکاری اسرائیلی کمپنیوں کا ایرانی زراعت ،تعمیرات، جہاز سازی، کیمیائی کھاد، جہاز رانی، گیس، ٹائروں، الیکٹرانک آلات جیسے دیگر شعبوں پر مکمل قبضہ، حتیٰ کہ تعلیم کے شعبے میں بھی وسیع تر اسرائیلی تعاون تھالیکن انقلابِ ایران کے بعد یہ صورت ِحال یکسر بدل گئی ۔حالیہ امریکہ ایران جنگ میں بھی اسرائیل نے حتیٰ الامکان خلیجی ممالک پر ایران کی جانب سے فالس فلیگ حملے کر کے، مسلمانوں کو آپس میں لڑوانے کی بھرپور کوشش کی لیکن ہر بار اسرائیل کی سازشوں،چالوں اور خفیہ وارداتوں کو پاکستانی قیادت نے انتہائی بردباری سے، معاملات کا بھرپور ادراک کرتے ہوئے، خطے کو آپس میں الجھنے سے بچایا۔
سعودی حوثی چپقلش کی بنیادی وجہ اپنی سرحدوں کے حوالے سے سعودی تحفظات، یمن کے اندر اقتدار کی جنگ اور حوثیوں کا ایرانی پراکسی کا کردار ہے۔حوثی "انصار اللّٰہ" یعنی اللّٰہ کی مددگار، زیدی شیعہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ امام زید ابن علی طالبؓ، حضرت علیؓ کے پڑ پوتے تھے جن کے کٹر، گہرے مذہبی عقائد اور اقدار کے حامل پیروکار حوثی کبھی مکہ پر حملہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ قوی گمان ہے کہ "شیطن یاہو" جس نے امریکہ کو جھوٹ بول کر،غلط تجزیہ دے کر، ایران سے لڑوایا اور دنیا بھر کی معیشت کا بیڑا غرق کر دیا، اب وہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کو بھی حوثیوں سے لڑوا کر کمزور کرنا چاہتا ہے۔ اسے بخوبی علم ہے کہ اگر یہ مضبوط اتحاد قائم رہا تو یقیناً پھیلے گا ، جو مستقبل میں اس کے مذموم عزائم کے خلاف آہنی دیوار بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے برعکس اگر اتحاد کمزور ہوا تو امریکہ مسئلہ فلسطین پسِ پشت ڈلوا کر، سب خلیجی ممالک بشمول پاکستان سے ابراہم اکارڈ پر دستخط کروا سکے گا۔ امریکہ، اسرائیل اور ہندوستان کا یہ ابلیسی گٹھ جوڑ ایسی کالی آندھی ہے کہ جس کے ظاہر ہونے سے پہلے گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا جاتا ہے۔ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا،ہوا کا دباؤ گھٹ جاتا ہے۔بلآخر جھکڑ چلتے ہیں اورکالی آندھی اپنی تمام تر تباہی اور بربادی کا سامان لئے ہر شے کو خس وخاشاک کی طرح اڑا لے جاتی ہے۔وقت آگیا ہے کہ اس کالی آندھی کے آثار جانچ کر ہم اتحاد بین المسلمین پر سختی سے کار بند ہو جائیں، اسرائیل اور اس کے اتحادیوں سے خبردار رہیں جو مسلمانوں میں پھوٹ ڈلوا کر انکو آپس میں لڑوانا چاہتے ہیں۔
؎اس سیلِ سُبک سَیر و زمیں گیر کے آگے
عقل و نظَر و علم و ہنر ہیں خس و خاشاک