• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام اور سماجی انصاف: معاشرتی ہم آہنگی کا ضامن

نائلہ شہناز

موجودہ دَورمیں جہاں دنیا مادّی ترقی کی منازل طےکر رہی ہے، وہیں اخلاقی و سماجی گراوٹ نے انسانی معاشروں کو شدید بحرانوں سےبھی دوچارکردیا ہے۔سماجی ناہم واری، طبقاتی تقسیم اور ناانصافی وہ ناسور ہیں، جو کسی بھی معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر دیتے ہیں۔

ان حالات میں اسلام کا تصورِ عدل اور سماجی انصاف ایک ایسے رہنما اصول کے طور پر سامنے آتا ہے، جو نہ صرف فرد کی اصلاح کرتا ہے بلکہ ایک مثالی اور متوازن معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔

اسلام میں سماجی انصاف کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تمام انسان تخلیقی طور پر برابر ہیں۔ قرآنِ کریم کا ارشاد ہے۔’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ تم میں سے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے، جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔‘‘(سورۃ الحجرات، 13) یہ آیت ہر قسم کے نسلی، لسانی اور طبقاتی غرور کا خاتمہ کرتی ہے اور معاشرتی ہم آہنگی کی راہ ہم وار کرتی ہے۔

خطبۂ حجۃ الوداع کے موقعے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی سنہری اصول کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، اور کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔ یہ تاریخِ انسانی کا پہلا باقاعدہ منشورِ حقوقِ انسانی تھا، جس نے معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کو برابری کا درجہ دیا۔

سماجی انصاف کا ایک اہم ستون معاشی انصاف ہے۔ اسلام، معیشت کے میدان میں چند ہاتھوں میں دولت کے ارتکاز کو ناپسند کرتا ہے۔ زکوٰۃ، عشر اور صدقات کا نظام اِسی مقصد کے لیے وضع کیا گیا تاکہ امیروں کی دولت کا ایک حصّہ غریبوں تک پہنچے اور معاشرے میں معاشی توازن برقرار رہے۔ مدینہ منورہ میں قائم ہونے والی پہلی اسلامی ریاست ’’مواخاتِ مدینہ‘‘ کی بنیاد پر کھڑی تھی، جو سماجی اور معاشی انصاف کی ایک لاجواب مثال ہے۔

آج پاکستان جیسے ترقی پذیر معاشرے کو درپیش چیلنجز کا حل اسلامی اصولِ انصاف کے نفاذ ہی میں ہے۔ جب تک معاشرے میں امیر اور غریب کے لیے قانون الگ رہے گا، پائےدار امن اور ترقی کا خواب بھی ادھورا ہی رہے گا۔ سو، اس ضمن میں ہماری یہ ذمّے داری ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کو عصرِحاضر کے تقاضوں کے مطابق پیش کریں تاکہ ایک عادلانہ معاشرے کا قیام ممکن ہو سکے۔

ناقابلِ اشاعت نگارشات اور اُن کے تخلیق کار برائے صفحہ ’’ڈائجسٹ‘‘

٭سو لفظی کہانی، بھولی، روزنامچہ، قربانی، ریل گاڑی (صبا احمد، کراچی) ٭مجھے اس طرح نواز دے (ماریہ حسّان) ٭خدمت یا قربت، ابو کی سائیکل (رانا محمّد شاہد، بورے والا ) ٭شفق کا گواہ، ایثار کی خوشبو (شگفتہ جہاں، کراچی) ٭فادرز ڈے (شہزادہ بشیر محمد نقش بندی، میرپور خاص) ٭کھوکھلی جڑ (جاوید جواد حسین، گلشنِ اقبال ٹاؤن، کراچی)٭خط (محمد شاکر لبانہ، بستی اللہ بخش،جندوپیر)٭کانچ کی عمارت (ایس ناز گل، کراچی) یادِ ماضی (طوبیٰ احسن، لاہور)۔

برائے صفحہ ’’متفرق‘‘

٭چڑیل، والد ،قول و فعل، چِٹھی، سوئی گیس، کتاب (شری مُرلی چند گوپی چند گھوگھلیہ، شکارپور) ٭ ساندل بار اسپورٹس میلہ (شیخ عبدالنعیم، سیدوالہ)٭بند آنکھوں کے پیچھے (رحمت عزیزخان چترالی) ٭علامہ ہشام الٰہی ظہیر (عمران سلفی) ٭وقت کی قدروقیمت (صبااحمد، کراچی) ٭ہراسمنٹ، لڑکوں کا لڑکیوں کودھوکا (اقراء الیاس علی خان، نارتھ کراچی، کراچی)٭روحانی ترقّی اور نمک (محمّد کاشف، کراچی) ٭مَیں شیطان ہوں (ڈاکٹر افشاں طاہر، گلشنِ اقبال، کراچی) ٭ بابائے ہومیوپیتھی(بابرسلیم خان، سلامت پورہ، لاہور) ٭ قانون، رِٹس، حُکم نامہ جات، خفقان، نفسیات(محمّد صفدر خان ساغز، راہوالی، گوجرانوالہ) ٭پاکستان کے لیے ویٹو پاور (صغیرعلی صدیقی، کراچی) ٭عالمی یومِ ہیپاٹائٹس (محمّد ریاض ایڈووکیٹ) ٭ مثنوی (ارسلان اللہ خان، حیدرآباد) ٭کراچی: روشنیوں سے مسائل کے شہر تک کا سفر (محمّد رمضان مغل، کراچی)٭ ہیپاٹائٹس کاعالمی یوم( ڈاکٹر شاہد ایم شاہد، واہ کینٹ)٭ شبیہ (زریں اختر) ٭ ماہِ صفر سے منسوب غلط تصورات، دوست (رانا اعجاز حسین چوہان)٭ قومی خزانے کو اربوں کا نقصان (زاہد رؤف کمبوہ، گوجرہ) ٭ امیرالعظیم کی وفات (حنا شاہ)۔