دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، ڈیٹا سائنس اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز نے تعلیم، معیشت اور روزگار کی نوعیت بدل دی ہے۔ ایسے ماحول میں کامیابی صرف ڈگری کا نام نہیں رہی بلکہ علم، مہارت، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ رکھنا ضروری ہو گیا ہے۔
اس بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اسکے نوجوان ہیں۔ مجھے جامعات، اساتذہ اور طلبہ کیساتھ طویل عرصے سے کام کرنے کا موقع ملا ہے، اور اس تجربے کی بنیاد پر میں پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے نوجوانوں میں سیکھنے، حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے اور قومی و عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
آج ہمارے طلبہ دنیا کی ممتاز جامعات، تحقیقی اداروں اور مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں اپنی صلاحیتیں ثابت کر رہے ہیں۔ پاکستان کے اندر بھی معلوماتی ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم، کاروبار، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل معیشت میں نوجوان نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ہائر ایجوکیشن کمیشن کی موجودہ ترجیحات بھی اسی سوچ کے گرد ترتیب دی جا رہی ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ طالب علم صرف ڈگری حاصل نہ کرے بلکہ عملی زندگی اور مستقبل کی ضروریات کے لیے بھی تیار ہو۔ اسی لیے نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے، جبکہ عملی تربیت، انٹرن شپ، صنعت سے رابطے اور مطلوبہ مہارتوں کو تعلیمی پروگراموں کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ طالب علم جب کسی پروگرام میں داخل ہو تو اسے معلوم ہو کہ چار سال بعد وہ کن علمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ یونیورسٹی سے فارغ ہوگا۔ مصنوعی ذہانت اور جدید معلوماتی ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں سے جوڑا جا رہا ہے تاکہ نوجوان اپنے بنیادی مضمون کے ساتھ نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے بھی واقف ہوں۔استاد کا کردار بھی بنیادی ہے۔ مستقبل کے لیے تیار طلبہ کے لیے ایسے اساتذہ درکار ہیں جو اپنے شعبوں میں آنے والی نئی تبدیلیوں سے باخبر ہوں۔ اسی لیے اساتذہ کی تربیت اور جامعات کی استعداد میں اضافہ بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔
نوجوانوں کے لیے قومی اور عالمی مواقع پیدا کرنا بھی اسی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن مختلف وظائف، بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم، عالمی شراکت داریوں اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے ایسے مواقع بڑھا رہا ہے۔ GRE، TOEFL اور بین الاقوامی جامعات میں داخلے کی تیاری کے لیے سہولتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ کوئی باصلاحیت نوجوان تیاری کی کمی کی وجہ سے کسی اچھے موقع سے محروم نہ رہے۔یہ مواقع صرف بیرونِ ملک ڈگری کے لیے نہیں بلکہ جدید تحقیق، نئی ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ روابط اور وسیع عالمی نقطۂ نظر حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔
مجھے بین الاقوامی جامعات اور مختلف اداروں کے ساتھ رابطے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ پاکستانی طلبہ اور پیشہ ور افراد کے بارے میں جس اعتماد اور مثبت تاثر کا اظہار کیا جاتا ہے، وہ حوصلہ افزا ہے۔
اسی لیے میں اس عمومی تاثر سے اتفاق نہیں کرتا کہ پاکستانی گریجویٹ عالمی تقاضوں سے پیچھے ہے۔ کمزوریاں ضرور موجود ہیں اور انہیں بہتر کرنا ہماری ذمہ داری ہے، لیکن مجموعی تصویر امید افزا ہے۔ ہمارے نوجوانوں میں وہ علم، محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیت موجود ہے جس کی بدلتی ہوئی دنیا کو ضرورت ہے۔
پاکستان کے اندر بھی مواقع کم نہیں۔ معلوماتی ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم، ای کامرس، کاروبار اور ڈیجیٹل معیشت نوجوانوں کے لیے نئے راستے کھول رہی ہے۔ آج روزگار صرف دفتر یا فیکٹری کی ملازمت تک محدود نہیں۔ نوجوان اپنا کاروبار شروع کر سکتے ہیں، دنیا کے لیے آن لائن خدمات فراہم کر سکتے ہیں اور نئے روزگار بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
آخر میں اپنے نوجوانوں سے میرا واضح پیغام ہے: ڈگری ضروری ہے، لیکن ڈگری ہی سب کچھ نہیں۔ اصل طاقت علم، مہارت، کردار، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور مسلسل سیکھنے کی خواہش ہے۔
دنیا میں مواقع موجود ہیں۔ صرف یہ سوال نہ کریں کہ ملازمت کہاں ہے، اپنے آپ سے یہ سوال کریں:کیا میں اس موقع کے لیے واقعی تیار ہوں؟
پاکستان کا نوجوان باصلاحیت ہے اور بدلتی ہوئی دنیا میں اپنی جگہ بنانے کی اہلیت رکھتا ہے۔ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ اس کے اعتماد کو مضبوط کریں، اسے صحیح سمت دیں اور اسے وہ مواقع فراہم کریں جن کے ذریعے اس کی صلاحیت پوری طرح سامنے آ سکے۔یہی نوجوان پاکستان کی امید ہیں، یہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں اور یہی بدلتی دنیا میں پاکستان کا روشن مستقبل ہے۔