• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پولیس افسران نے بھی آج قانون کے بجائے پریکٹس کی بات کی، جبران ناصر

 
ویڈیو گریب۔
ویڈیو گریب۔

میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ کل ڈی جی ہیلتھ کمیشن میں پیش ہوئے تھے، ڈی جی ہیلتھ کے مطابق پہلی بار ایسا ہوا کہ بنایا ہوا میڈیکل بورڈ تبدیل کیا گیا۔ 

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےجبران ناصر نے کہا ڈی جی ہیلتھ کے بیان کے دوران ہی انہیں ہٹا دیا گیا، پولیس افسر نے بھی آج قانون کے بجائے پریکٹس کی بات کی۔ 

انھوں نے کہا کہ آج تک کیس کے کسی دستاویز پر اے ایس پی ندا جنید کا نام نہیں، اے ایس پی ندا جنید ہر گواہ کے بیان میں موجود ہوتی تھیں۔ 

وکیل جبران ناصر کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے بھی قانون کے بجائے سینئر افسران کی ہدایت اور پریکٹس کی بات کی، اے ایس پی ندا جنید کے مطابق خاتون افسر ہونے کی بنیاد پر انہیں شامل رکھا گیا۔ 

جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم میں دوسری خواتین افسران بھی موجود ہیں، ڈاکٹر اسامہ کے دوسرے بیان کے بعد سپر میڈیکل بورڈ کا مطالبہ کیا گیا ہے، فیملی کی جانب سے پوچھے جانے کے باوجود تاحال جواب نہیں دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ اگر سپر میڈیکل بورڈ بنایا جارہا ہے تو کیا پہلے بورڈ کے ارکان کا بیان ریکارڈ کیا گیا؟ میڈیکل بورڈ کسی انتظامی حکم کے تحت نہیں عدالتی احکامات پر بنا تھا۔ 

جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی سے سوال ہے کیا آپ مجسٹریٹ کا آرڈر چیلنج کر رہے ہیں، جہاں سے لاش ملی ہے ان تین گلیوں کے کیمروں کی فوٹیج کیوں نہیں دکھائی گئی۔ 

انھوں نے کہا کہ جیو فینسنگ کے نمبر آج تک سامنے نہیں لائے گئے، آخری لوکیشن رضا کو جس نے بھیجی تھی اس کا کیوں نہیں بتایا گیا۔ 

جبران ناصر نے کہا سپر میڈیکل بورڈ کے بعد ایک گرینڈ میڈیکل بورڈ بنادیں، ہمیں مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں دکھائی گئی، کاشف بھٹو نے تین دن تک ہمیں بٹھائے رکھا مگر ڈی وی آر نہیں ملا۔

قومی خبریں سے مزید