ویسے اس سے بہتر تھا کہ کرکٹر محمد رضوان پر بھینس چوری کا مقدمہ قائم کر لیتے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ جوئے کے پیسے ٹھکرانے والے رضوان کو تو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے جبکہ جوئے کی کھلے عام تشہیر کرنیوالے کو شکایات کے باوجود پوچھنا تو درکنار نوازا جا رہا ہے۔ یہ کیسا سسٹم ہے کہ جس کا چہرہ پسند نہیں اُسےتضحیک کا نشانہ بناو اور جو جوئے کی کمپنیوں کی تشہیر کرے اُسے ہیرو بنا کر پیش کرو۔ اگر کوئی نماز کیلئے مسجد جاتا ہے تو اُسے روکو اور اگر کوئی سینما جائے، شاپنگ کرے یا کلب جائے تو اُس پر کوئی اعتراض نہیں۔ پاکستان کرکٹ میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اگر کسی کھلاڑی، عہدیدار، کمپنی، فرنچائز یا تجارتی ادارے نے قانون یا ضابطے کی خلاف ورزی کی ہے تو اسے جواب دینا چاہیے اور قانون کی اصل روح کے مطابق اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو۔ محمد رضوان کے معاملے نے بنیادی سوال اٹھایا ہے۔ اگر تحقیقات پاکستان کرکٹ میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے کے پورے نظام سے متعلق ہیں تو سوال صرف رضوان سے کیوں؟ پورے نظام سے کیوں نہیں؟ رضوان سے پوچھ گچھ ہو، فون کی تلاشی ضروری ہو تو قانون کے مطابق کی جائے، مالی معاملات کی تحقیقات ہوں اور ضابطے کی خلاف ورزی ثابت ہو تو کارروائی کی جائے۔ لیکن پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ الزام کیا ہے۔ گزشتہ دنوں اس کے گرد ڈسپلن، ڈریسنگ روم کی معلومات باہر آنے، بیٹنگ، مالی معاملات اور میچ فکسنگ جیسے مختلف الزامات گردش کر رہے ہیں۔ این سی سی آئی اے کے نوٹس میں بھی پاکستان کرکٹ میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے کی انکوائری کا ذکر ہے۔ ایسے ماحول میں الزام، افواہ اور ثابت شدہ جرم کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جس رضوان سے آج بیٹنگ اور جوئے کے حوالے سے سوالات کیے جا رہے ہیں، اسی نے ماضی میں جوئے سے وابستہ اشتہارات سے فاصلہ اختیار کیا تھا۔ دستیاب معلومات کے مطابق 2023 میں اس نے تقریباً دس کروڑ روپے کی ایک اشتہاری پیشکش مسترد کی۔ اس کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ وہ مذہبی وجوہ کی بنا پر جوئے یا اس کے متبادل ناموں سے چلنے والے برانڈز کی تشہیر نہیں کرتا۔ رضوان کے بیرون ملک معاہدوں میں بھی ایسی شرائط شامل کرانے کی کوشش کی گئی کہ شراب، جوا، بیٹنگ، کیسینو یا ان سے وابستہ کمپنیوں کی تشہیر اس کی کٹ، لباس یا تشہیری مواد پر نہ ہو۔ حتیٰ کہ ایسے اسپانسرز کی رقم اسکے معاوضے کا حصہ نہ بننے کی شرط بھی رکھی گئی۔ یعنی مؤقف صرف یہ نہیں تھا کہ ’’میرا چہرہ استعمال نہ کرو‘‘ بلکہ یہ بھی تھا کہ ’’ایسا پیسہ میرے معاوضے میں شامل نہ ہو‘‘۔ یہ پس منظر موجودہ تحقیقات کو مزید اہم بناتا ہے، مگر ساتھ ہی وسیع تر سوال بھی اٹھاتا ہے۔ اگر کارروائی واقعی جامع ہے تو صرف ایک کھلاڑی کا موبائل فون، مالی معاملات یا ذاتی سرگرمیاں کیوں زیرِ بحث ہیں؟ ان کمپنیوں، فرنچائزز، اسپانسرز اور اداروں سے بھی پوچھا جانا چاہیے جنکے ذریعے ایسے برانڈز کرکٹ کے میدان، شرٹس، نشریات اور اشتہارات تک پہنچے۔ معاہدے کس نے کیے، منظوری کس نے دی اور جانچ کس نے کی؟ پاکستان سپر لیگ اور پاکستان کرکٹ میں بیٹنگ سے منسلک برانڈز اور بعض اسپانسرشپ معاملات پہلے بھی سوالات کا باعث بنتے رہے ہیں۔ کسی کمپنی کو محض تعلق کی بنیاد پر مجرم قرار دینا درست نہیں، لیکن اگر انکوائری کا موضوع ہی بیٹنگ اور جوا ہے تو اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ناگزیر ہے۔ اسی تناظر میں ایک سابق کرکٹر کا معاملہ بھی وضاحت طلب ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق ایک بیٹنگ پلیٹ فارم سے بطور برانڈ ایمبیسیڈر اُس کا نام منسلک ہوا، جسکے بعد 2025 میں لاہور میں این سی سی آئی اے سے شکایت کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ اس شکایت کا کیا نتیجہ نکلا؟ کیا اُس سے پوچھ گچھ ہوئی؟ اگر تحقیقات ہوئیں تو انکے نتائج کیا تھے؟ اور اگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو کیوں؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ بعد ازاں اُسی سابق کھلاڑی کو نوازا گیا۔ اداروں کو اس بظاہر تضاد کی وضاحت کرنی چاہیے۔ رضوان کے موبائل فون کا معاملہ بھی شفاف قانونی طریقۂ کار کا تقاضا کرتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق لارڈز ٹیسٹ کے بعد رات گئے اس سے بیٹنگ اور جوئے سے متعلق سوالات کیے گئے اور ذاتی فون طلب کیا گیا۔ رضوان نے الزام، اختیار اور فون لینے کی قانونی بنیاد کے بارے میں سوالات کیے، مگر تعاون کی یقین دہانی پر فون دے دیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ فون این سی سی آئی اے کے پاس پہنچ چکا ہے اور اس کا فرانزک معائنہ بھی کیا گیا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ رضوان کو تحقیقات میں تعاون کرنا چاہیے تھا یا نہیں؛ یقیناً کرنا چاہیے تھا۔ سوال یہ ہے کہ فون قبضے میں لینے کی تحریری بنیاد کیا تھی؟ طلبی کہاں تھی؟ وجہ کیا درج کی گئی؟ رسید کہاں ہے؟ قانونی عمل کی شفافیت کسی ملزم کو رعایت نہیں دیتی، بلکہ قانون کے وقار کو مضبوط کرتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق رضوان کا نام تین ستمبر کو سفری پابندی کی فہرست میں شامل ہونے، آٹھ ستمبر کو نوٹس جاری ہونے اور دس ستمبر کو پیشی مقرر ہونے کا ذکر بھی آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ باقاعدہ طلبی سے پہلے سفری پابندی کیوں لگائی گئی، جبکہ رضوان بیرون ملک سے واپس آیا اور بعد میں خود این سی سی آئی اے کے سامنے پیش بھی ہوا؟کرکٹ میں خراب کارکردگی الگ معاملہ ہے اور قانونی یا تادیبی کارروائی الگ۔ رضوان کی ٹیسٹ فارم خراب ہے تو سلیکٹرز کو اسے ٹیم میں رکھنے یا نہ رکھنے کا حق حاصل ہے۔ تاہم خراب فارم کو ڈسپلن، جوئے، مالی معاملات، موبائل فون اور فکسنگ جیسے معاملات کے ساتھ ملا کر ایسی فضا پیدا کرنا جس میں الزام اور ثابت شدہ جرم کا فرق مٹ جائے، انصاف نہیں۔ اگر رضوان نے جرم کیا ہے تو ثبوت سامنے لائے جائیں۔ بیٹنگ کا معاملہ ہے تو اُس کی مکمل اور ہر پہلو سے تحقیقات کی جائے۔مالی جرم ہے تو متعلقہ لین دین واضح کیا جائے، ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے تو بتایا جائے کہ کون سا حکم توڑا گیا۔تاہم اگر تحقیقات پورے نظام سے متعلق ہیں تو کمپنیوں، فرنچائزز، نشریاتی اداروں، اسپانسرشپ کے ذمہ داروں اور منظوری دینے والے افسران سے بھی یکساں سوال ہونا چاہئے۔ محمد رضوان سے بھی پوری سختی سے سوال کیا جائے، اس سے رعایت بھی نہ ہو لیکن کسی” بڑے“کی خواہش پر اس کی تضحیک بھی نہ کی جائے۔ جنہوں نے یہ سارا کھیل رضوان کو بدنام کرنے کیلئےرچایا، وہ شاید سمجھ نہ پائے کہ اصل امتحان رضوان کا نہیں، نظام کا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ احتساب کا پیمانہ جرم دیکھ کر طے ہوتا ہے یا چہرہ دیکھ کر۔ کرکٹ صرف رنز، وکٹوں اور ٹرافیوں کا نام نہیں؛ یہ اعتماد کا کھیل بھی ہے۔ اعتماد وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں قانون کسی چہرے کو نہیں، صرف ثبوت کو دیکھتا ہے۔