• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا امریکا سے ایرانی تجاویز قبول کرنے پر اصرار

عباس عراقچی---فائل فوٹو
عباس عراقچی---فائل فوٹو 

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ اگر امریکا ایران کی نئی تجاویز کو قبول کر لے تو اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو جلد از جلد دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکا کی جانب سے نیا منصوبہ قبول کرنے کے وقت سے ہی 7 روزہ مدت شروع ہو جائے گی، ایران نے قطر کے ذریعے یہ 7 روزہ منصوبہ امریکا تک پہنچا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکا ضروری اقدامات کرے تو ایران 4 سے 5 روز میں اپنا عمل مکمل کر لے گا جس کے بعد چھٹے روز آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی اور 7 ویں روز امریکا حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات میں شامل ہو سکے گا۔

عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ضروری شرائط پوری ہونے پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر معمول کی بحری آمد و رفت بحال کی جا سکتی ہے، ایران محفوظ اور پرامن بحری آمد و رفت کے لیے پُرعزم ہے تاہم مزید فوجی کارروائی، دھمکیوں، ناکہ بندی یا معاشی دباؤ کے ذریعے بحری سیکیورٹی بحال نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے زور دیا کہ ایران کسی بھی قسم کا دباؤ، دھمکی یا خوف زدہ کرنے کی کوشش قبول نہیں کرے گا اور دباؤ میں آ کر اپنے خودمختار حقوق سے دستبردار نہیں ہو گا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید