اقوامِ متحدہ کے ماہرین اور 20 بین الاقوامی انسانی حقوق کے گروپس نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور بے بنیاد فوجداری اور دہشت گردی کے الزامات کو ختم کیا جائے۔
ماہرین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے 17 ستمبر کو ان کی ضمانت منظور کیے جانے کے فوراً بعد وکلاء کو دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے دونوں کے ساتھ روا سلوک، عالمی انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے قوانین سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ماہرین کے بیان میں مزید کہا گیا کہ قانونی طریقہ کار اور منصفانہ ٹرائل کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور پاکستان کے سائبر کرائم اور انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے اطلاق کو آئین اور پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے مطابق بنایا جائے۔