• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر وسیم قاضی چار سال کیلئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر مقرر

پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی(فائل فوٹو)۔
پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی(فائل فوٹو)۔

حکومت سندھ نے پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی کو چار سال کے لیے جامعہ کراچی کا وائس چانسلر مقرر کر دیا ہے۔ ڈاکٹر وسیم قاضی نے جامعہ کراچی کے شعبہ فلسفہ سے ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کیا تھا۔

محکمہ جامعات و بورڈز سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تقرری فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔ 

ڈاکٹر وسیم قاضی کی تقرری جامعہ کراچی ایکٹ 1972ء کی دفعہ 13(1) کے تحت سندھ یونیورسٹیز اینڈ انسٹی ٹیوشنز لاز (ترمیمی) ایکٹ 2025ء کے مطابق کی گئی ہے۔ وہ اس وقت کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر ہیں اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تین دہائیوں سے زائد تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ امریکا اور آسٹریلیا کی جامعات سے پوسٹ ڈاکٹریٹ بھی کرچکے ہیں۔

اس سے قبل وہ اقراء یونیورسٹی کراچی کے صدر اور وائس چانسلر بھی رہے، جہاں انہوں نے تعلیمی پروگراموں کے فروغ، تحقیق، فیکلٹی کی ترقی اور ادارہ جاتی نظم و نسق پر کام کیا۔ ان کے پیشہ ورانہ تجربے میں ہمدرد یونیورسٹی، یونیورسٹی آف لاہور اور یونیورسٹی آف فیصل آباد میں تدریسی و انتظامی ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔ وہ قومی سطح پر اعلیٰ تعلیم کے مختلف اقدامات اور نیشنل ایکریڈیٹیشن کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن سے بھی وابستہ رہے ہیں۔

ان کی تقرری پر چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی ڈاکٹر ضیاء الحق، کوآرڈینیٹر جنرل او آئی سی کامسٹیک پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری، چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع، سابق چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمٰن اور ڈاکٹر جاوید لغاری سمیت اعلیٰ تعلیمی شعبے کی نمایاں شخصیات نے انہیں مبارکباد دی ہے۔

مختلف ممالک کے سفارت کاروں، ملک بھر کی جامعات کے وائس چانسلرز اور سینئر ماہرین تعلیم نے بھی ڈاکٹر وسیم قاضی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ مبارکباد دینے والوں میں جامعہ سندھ، مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، پنجاب یونیورسٹی اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر وسیم قاضی ایسے وقت میں جامعہ کراچی کی قیادت سنبھال رہے ہیں جب جامعہ کے مستقل وائس چانسلر کا عہدہ 28 جولائی سے خالی تھا اور ادارہ قائم مقام انتظام کے تحت چل رہا تھا۔ ان کی مدتِ ملازمت کے دوران تعلیمی معیار، تحقیق و جدت، انتظامی نظم و نسق اور ملکی و بین الاقوامی جامعات سے تعاون کے فروغ پر توجہ متوقع ہے۔

قومی خبریں سے مزید