دنیا کے کسی بھی معاشرے کو دیکھ لیجیے، بعض پیشے خاص احترام رکھتے ہیں۔ میرے نزدیک ان میں دو شعبے نمایاں ہیں: تعلیم و تدریس اور طب۔ اگرچہ ہر شعبے میں دیانت دار اور باصلاحیت انسان احترام کا مستحق ہے، لیکن استاد کا مقام منفرد ہے، کیونکہ وہ انسان بناتا ہے، نسلوں کی تربیت کرتا ہے اور معاشرے کے مستقبل کی تشکیل میں حصہ لیتا ہے۔اسی لئے میں تدریس کو محض ملازمت نہیں سمجھتا۔ والدین اپنے بچوں کو اسکول، کالج یا یونیورسٹی صرف ڈگری حاصل کرنے کے لیے نہیں بھیجتے، بلکہ اس امید کے ساتھ اساتذہ کے حوالے کرتے ہیں کہ وہاں ان کے علم کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت اور کردار کی بھی تعمیر ہوگی۔
ایک اچھا استاد بننے کیلئے چند بنیادی خصوصیات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلی ضرورت علم ہے۔ استاد کا اپنے مضمون پر عبور ہونا چاہیے، مگر صرف حاصل شدہ علم کافی نہیں۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، نئی تحقیق اور نئی ٹیکنالوجیز سامنے آ رہی ہیں، اس لیے استاد کو اپنے علم کو مسلسل تازہ رکھنا ہوتا ہے۔خصوصاً یونیورسٹی کے استاد کی ذمہ داری زیادہ ہے۔ یونیورسٹی صرف علم منتقل کرنے کی جگہ نہیں بلکہ علم تخلیق کرنے کا ادارہ بھی ہے۔ اسی لیے یونیورسٹی کے استاد کی دوہری ذمہ داری ہے: علم پیدا کرنا اور اسے مؤثر انداز میں منتقل کرنا۔دوسری اہم ضرورت علم کو منتقل کرنے کی صلاحیت ہے۔ ہر صاحبِ علم لازماً اچھا استاد نہیں ہوتا۔ اچھا استاد پیچیدہ بات کو آسان بناتا ہے، طالب علم کو سوچنا سکھاتا ہے اور علم کو ہنر میں بدلنے میں مدد دیتا ہے۔ آج یہ بھی ضروری ہے کہ طالب علم صرف یہ نہ جانے کہ کیا پڑھا ہے، بلکہ یہ بھی سیکھے کہ اپنے علم کو عملی زندگی میں کیسے استعمال کرنا ہے۔تیسری، اور شاید سب سے اہم ضرورت، کردار ہے۔ معاشرہ استاد سے ایک خاص طرزِ عمل کی توقع کرتا ہے۔ طالب علم اس کے علم کے ساتھ اس کے رویے، دیانت، انصاف، شفقت اور دوسروں سے برتاؤ کو بھی دیکھتا ہے۔ اسی لیے استاد اپنے طالب علم کے لیے ایک رول ماڈل بن جاتا ہے۔
ایک اچھے استاد کی شخصیت میں علم، ہنر اور کردار تینوں کا امتزاج ضروری ہے۔ میں ہمیشہ اساتذہ سے کہتا ہوں کہ طالب علم کے بارے میں ایسے سوچیں جیسے آپ اپنے بچے کے بارے میں سوچتے ہیں۔ والدین نے اپنے بچے آپ کے حوالے کیے ہیں۔ اگر استاد یہ احساس پیدا کر لے تو اس کی تدریس اور طالب علم کے ساتھ اس کا تعلق خود بخود بدل جاتا ہے۔ایک مخلص استاد کو اپنے طالب علم کی کامیابی سے جو خوشی ملتی ہے، وہ کسی مالی فائدے سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ میرے کئی سابق طالب علم آج اہم ذمہ داریوں پر کام کر رہے ہیں، لیکن جب ان سے ملاقات ہوتی ہے تو میرے ذہن میں ان کی وہی تصویر آتی ہے جب وہ میری کلاس میں بیٹھے ہوتے تھے۔میرے اپنے اساتذہ نے بھی میری زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔ طالب علمی کے زمانے میں ایک مرتبہ میں نے اپنے ایک استاد سے ایک ضروری کام کے لیے مدد مانگی۔ اگلی صبح جب میں متعلقہ جگہ پہنچا تو انہیں وہاں موجود پایاوہ میرے کام کے لیے خود آئے تھے۔ اسی طرح اسکول کے زمانے میں بورڈ کے امتحان کے دن میں بیمار ہو گیا تو میرے استاد نے یہ فکر کی کہ میرا سال ضائع نہ ہو۔ وہ متعلقہ حکام کے پاس گئے اور میرے لیے خصوصی امتحان کا انتظام کروایا۔ ایسے اساتذہ زندگی بھر یاد رہتے ہیں۔
استاد اور طالب علم کا تعلق صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہتا۔ مجھے چین کے ایک دورے کا واقعہ بھی یاد ہے۔ میری ایک سابق کولیگ مجھ سے ملنے آئیں اور کافی دیر تک گفتگو کرتی رہیں۔ جب وقت زیادہ ہو گیا تو میں نے ان سے کہا کہ بیٹا، اب آپ چلی جائیں، واپسی میں بھی وقت لگے گا۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہاں سب کچھ محفوظ ہے، کوئی مسئلہ نہیں۔ مگر جاتے ہوئے انہوں نے ایک ایسی بات کہی جو میرے لیے بہت حوصلہ افزا اور یادگار بن گئی۔ انہوں نے کہا: ’’سر، آج آپ سے جو باتیں کی ہیں، ان کے بعد میرا دل اسی طرح ہلکا ہوا ہے جیسے میں نے اپنی والدہ کے ساتھ بیٹھ کر بات کی ہو۔‘‘میرے لیے یہ الفاظ کسی عہدے یا اعزاز سے کم نہ تھے۔ اگر کوئی طالب علم یا کولیگ آپ کے اندر اتنا اعتماد، شفقت اور اپنائیت محسوس کرے کہ وہ آپ کو اپنے گھر کے کسی بزرگ کی طرح سمجھے، تو یہ ایک استاد کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے۔
میرے اساتذہ کا مجھ پر اعتماد بھی ہمیشہ میرے لیے سرمایہ رہا۔ جب میں پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنا تو میرے ایک استاد نے کہا: نیاز، آپ ایک دن چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن بھی بنیں گے۔بعد میں جب اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ ذمہ داری عطا کی تو انہوں نے فون کرکے کہا: ’’میں نے آپ سے کہا تھا، اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کر لی‘‘۔ میرے لیے اس عہدے سے بڑھ کر وہ خوشی اہم تھی جو میرے استاد کی آواز میں تھی۔میری اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بھی میں نے بہتر مالی مواقع چھوڑ کر تدریس کا شعبہ اختیار کیا، کیونکہ مجھے محسوس ہوا کہ اس پیشے کے ذریعے میں اپنے نوجوانوں اور اپنی قوم کی زیادہ مؤثر خدمت کر سکتا ہوں۔
آج مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے دور میں استاد کی ذمہ داری کم نہیں ہوئی بلکہ بڑھ گئی ہے۔ معلومات چند سیکنڈ میں دستیاب ہیں۔ اس لیے استاد کا کام صرف معلومات دینا نہیں، بلکہ طالب علم کو سوچنا، سوال کرنا، صحیح اور غلط میں فرق کرنا، علم کو استعمال کرنا اور ذمہ دار انسان بننا سکھانا ہے۔ٹیکنالوجی بہت کچھ کر سکتی ہے، لیکن ایک اچھے استاد کی شفقت، رہنمائی اور کردار سازی کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔ قومیں صرف عمارتوں، سڑکوں اور صنعتوں سے ترقی نہیں کرتیں قومیں انسانوں سے بنتی ہیں، اور انسان بنانے والوں میں استاد کا مقام سب سے نمایاں ہے۔استاد کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ اس نے خود کتنا بڑا مقام حاصل کیا۔ اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس کے طالب علم اس سے بھی آگے نکل جائیںاور برسوں بعد بھی اس کے پاس اسی اعتماد، احترام اور اپنائیت کے ساتھ واپس آئیں۔ یہی تدریس کے عظیم اور باوقار پیشے کا سب سے خوبصورت انعام ہے۔