• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی عالمی یونیورسٹی رینکنگ 2027 ءکے اجرا کے بعد پاکستانی جامعات کی کارکردگی کے بارے میں مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ اس پر اظہارِ تشویش بھی ہوا اور بڑھتی ہوئی نمائندگی کو سراہا بھی گیا۔ میری رائے میں اس معاملے کو تاریخی پس منظر، دستیاب وسائل اور عالمی مسابقت کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ٹائمز ہائر ایجوکیشن اور کیو ایس جیسے عالمی رینکنگ اداروں کے اپنے طریقۂ کار اور معیار ہیں، اسلئے ان کے نتائج میں فرق ہو سکتا ہے۔

2015-16ءمیں ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی رینکنگ میں پاکستان کی صرف دو جامعات شامل تھیں:قائداعظم یونیورسٹی، جو 501سے 600کے بینڈ میں تھی، اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، جو 601سے 800کے بینڈ میں تھی۔ تازہ درجہ بندی میں 108پاکستانی ادارے درج ہوئے، جن میں سے 56کو باقاعدہ رینکنگ ملی۔ گزشتہ سال یہ تعداد 48تھی۔ یوں ایک سال میں پاکستان کی رینک شدہ جامعات کی تعداد میں تقریباً 17فیصد اور بھارت میں تقریباً 12فیصد اضافہ ہوا۔ یہ حوصلہ افزا پیش رفت ہے، اگرچہ اسے ہر جامعہ کی انفرادی کارکردگی میں بہتری نہیں سمجھنا چاہیے، خصوصاً جب عالمی رینکنگ کا دائرہ بھی وسیع ہوا ہے۔اسکا تاریخی پس منظر بھی اہم ہے۔ 2002ءسے پہلے بہت سی پاکستانی جامعات کو تحقیقی سہولیات، اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ اور مالی وسائل کی کمی کا سامنا تھا۔ میں نے بطور فیکلٹی ممبر وہ وقت بھی دیکھا ہے جب بعض اداروں کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے قرض لینا پڑتا تھا۔ 2002ءمیں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کے بعد اسکالرشپس، فیکلٹی ڈیولپمنٹ اور تحقیقی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری بڑھی۔ نتیجتاً تحقیق کا کلچر مضبوط ہوا اور پاکستانی محققین کی بین الاقوامی اشاعتوں میں اضافہ ہوا۔بعد میں توجہ تحقیقی مقالوں کی تعداد کے ساتھ ان کے معیار اور علمی اثرات پر مرکوز ہوئی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تحقیق کے سماجی و معاشی اثرات کو بھی مرکزی اہمیت دی جائے۔ ہماری جامعات میں پیدا ہونے والا علم صنعت، زراعت، توانائی، صحت اور ٹیکنالوجی کے مسائل حل کرنے میں کردار ادا کرے۔ عالمی رینکنگ اہم ہے، مگر قومی ترقی میں جامعات کا حقیقی حصہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔

ٹائمز ہائر ایجوکیشن جامعات کو تدریس، تحقیقی ماحول، تحقیق کے معیار، بین الاقوامی روابط اور صنعت سے تعاون کی بنیاد پر جانچتا ہے۔ ان میں کئی شعبے ایسے ہیں جہاں پاکستانی اداروں کو مستقل رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ مالی استحکام ہے۔ گزشتہ برسوں میں وفاقی سطح پر جاری اخراجات کی گرانٹ بڑھتی ضروریات کے مقابلے میں محدود رہی، جبکہ تنخواہوں، پنشن، بجلی، گیس اور دیگر اخراجات مسلسل بڑھے۔ بعض جامعات کی آمدن کا بیشتر حصہ لازمی اخراجات میں صرف ہو جاتا ہے۔ جدید لیبارٹریوں، تحقیق اور بین الاقوامی منصوبوں کیلئے وسائل کم رہ جاتے ہیں۔ ایسے میں عالمی مسابقت آسان نہیں۔

دوسرا مسئلہ فیکلٹی کی استعداد ہے۔ پی ایچ ڈی اساتذہ کی تعداد میں اضافے کے باوجود مزید تربیت، تحقیقی سہولیات اور مناسب اسٹوڈنٹ ٹیچر ریشو کی ضرورت موجود ہے۔ صرف مقالوں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں؛ اعلیٰ معیار کی تحقیق، فی استاد تحقیقی پیداوار اور طلبہ کی مؤثر رہنمائی بھی ضروری ہیں۔ لہٰذا معیاری بھرتیوں اور فیکلٹی ڈیولپمنٹ کو ترجیح دینی ہوگی۔

تیسرا اہم شعبہ بین الاقوامی روابط ہے۔ مشترکہ تحقیق، غیر ملکی فیکلٹی اور بین الاقوامی طلبہ عالمی شناخت کو مضبوط بناتے ہیں۔ سفارتی نمائندوں سے ملاقاتوں میں مجھے بارہا اندازہ ہوا کہ مختلف ممالک کے طلبہ پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، لیکن ویزوں میں تاخیر، بینک اکاؤنٹس کھلوانے کی دشواریاں اور سکیورٹی سے متعلق خدشات عملی رکاوٹیں بنتے ہیں۔ ان مسائل کو متعلقہ اداروں کے تعاون سے حل کیا جائے تو پاکستان ایک زیادہ پُرکشش تعلیمی منزل بن سکتا ہے۔ تحقیقی سہولیات اور فنڈنگ بھی بین الاقوامی مشترکہ منصوبوں کو فروغ دیں گی۔

ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ عالمی درجہ بندی میں ہماری جامعات کی تعداد بڑھنے کے باوجود بہترین 500 اداروں میں جگہ بنانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ بعض جامعات کی رینکنگ میں تنزلی کی وجوہات بھی جانچنی چاہئیں۔ میری نظر میں اگلا قدم یہ ہے کہ بہترین کارکردگی دکھانے والی جامعات کے لیے قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں، تحقیق اور تدریس کے معیار کو بہتر بنایا جائے اور محدود وسائل کو قومی ترجیحات کے مطابق استعمال کیا جائے۔

پاکستانی جامعات کے اساتذہ، محققین، طلبہ اور انتظامیہ عالمی نمائندگی میں اضافے پر تحسین کے مستحق ہیں۔ لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ہماری جامعات نہ صرف زیادہ تعداد میں عالمی فہرستوں میں شامل ہوں، بلکہ علمی معیار، مؤثر تحقیق اور قومی سماجی و معاشی ترقی میں بھی نمایاں مقام حاصل کریں۔ یہی ہمارا اگلا ہدف اور مشترکہ ذمہ داری ہونی چاہئے۔

تازہ ترین