• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک گھنٹہ ورزش رعشہ کی بیماری کو 5 سال تک سست کر سکتی ہے، تحقیق میں انکشاف

ایک تحقیق کے مطابق روزانہ صرف ایک گھنٹہ ورزش کرنے سے پارکنسنز (رعشہ) کی بیماری کی زندگی کو متاثر کرنے والی علامات کی شدت میں اضافے کی رفتار سست کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ 

سائنسدانوں کے مطابق ٹینس کھیلنا، جاگنگ کرنا اور یہاں تک کہ باغبانی جیسی سرگرمیاں بھی اس بیماری کی بڑھتی ہوئی شدت کو 5 سال تک مؤخر کر سکتی ہیں۔

دنیا بھر میں لاکھوں افراد اعصابی تنزلی کی اس بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ اس مرض میں دماغ کے اندر موجود اعصابی خلیے ڈوپامین نامی کیمیائی مادہ بنانا بند کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسم میں کپکپی اور اکڑاؤ جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ 

وقت گزرنے کے ساتھ مریض حرکت کرنے، بولنے اور نگلنے کی صلاحیت سے محروم ہو سکتے ہیں، جبکہ ان کی ذہنی و علمی صلاحیتوں میں بھی کمی آنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

امریکا کی یونیورسٹی آف سنسناٹی کے محققین نے پارکنسنز (رعشہ کی بیماری) کے 294 مریضوں کا سات سال تک جائزہ لیا۔ ان مریضوں کی اوسط عمر 66 سال تھی۔ محققین نے اس دوران ان کی جسمانی حرکت اور ذہنی و علمی صلاحیتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔

تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ جو افراد ہفتے میں آٹھ یا اس سے زیادہ گھنٹے جسمانی سرگرمیوں میں گزارتے تھے، ان کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں میں کمی کی رفتار سب سے سست تھی۔ ان سرگرمیوں میں جاگنگ اور ٹینس جیسے سخت جسمانی مشقت والے ورزش کے طریقوں سے لے کر نسبتاً ہلکی سرگرمیاں، مثلاً گھر میں صفائی، ویکیوم کلینر کا استعمال اور باغبانی شامل تھیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ورزش دماغ میں خون کی روانی بہتر بنا کر، اعصابی خلیوں کے درمیان رابطوں کو مضبوط کر کے اور سوزش کم کر کے اس کی حفاظت میں مدد دے سکتی ہے۔ یہ تمام عوامل جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر ڈونگ وو ریو کے مطابق پچھلی تحقیق میں جسمانی سرگرمی اور حرکت سے متعلق علامات کے درمیان تعلق سامنے آ چکا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جسمانی سرگرمی کے دہرے فوائد ہو سکتے ہیں، کیونکہ اس کا تعلق جسمانی حرکت اور ذہنی و علمی صلاحیتوں میں کمی کی رفتار سست ہونے سے بھی ہے۔

اس تحقیق میں مریضوں کی ذہنی و علمی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے 30 نمبروں پر مشتمل ایک معیاری ٹیسٹ استعمال کیا گیا۔ سب سے کم جسمانی سرگرمیاں کرنے والے افراد، جو ہفتے میں صرف چار گھنٹے تک ورزش کرتے تھے، کے ٹیسٹ اسکور میں ہر سال اوسطاً 0.48 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔

اس کے مقابلے میں ہفتے میں چار سے آٹھ گھنٹے ورزش کرنے والے افراد کے اسکور میں سالانہ 0.009 پوائنٹس کی کمی ہوئی، جبکہ ہفتے میں آٹھ گھنٹے سے زیادہ جسمانی سرگرمیاں کرنے والوں کی ذہنی و علمی صلاحیتوں میں تقریباً کوئی کمی نہیں دیکھی گئی۔

اگرچہ یہ فرق بظاہر معمولی دکھائی دیتا ہے، تاہم ڈاکٹر ریو کے مطابق روزمرہ زندگی میں اس کے اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور مریض زیادہ عرصے تک خود مختار زندگی گزار سکتے ہیں۔ طبی جریدے نیورولوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں جسمانی حرکت سے متعلق علامات کے حوالے سے بھی اسی طرح کے نتائج سامنے آئے۔

محققین نے پارکنسنز کی علامات جانچنے کے لیے ایک معیاری پیمانے کی مدد سے مریضوں کی چال، جسمانی انداز، اکڑاؤ اور مجموعی طور پر حرکت کرنے کی صلاحیت میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔ اس معاملے میں بھی سب سے زیادہ جسمانی سرگرمیاں کرنے والے افراد میں علامات کی شدت بڑھنے کی رفتار سب سے سست رہی۔

صحت سے مزید