آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
وقت جیسے جیسے آگے بڑھ رہا ہے دھرنے پتلے ہوتے جارہے ہیں۔ سیلاب آنے سے پہلے میڈیا کا فوکس دھرنے تھےلیکن اب اس کے کیمروں کا رخ دھرنوں کے چہروں سے سیلاب کی بد صورتیوں پر مرکوزہوگیا ہے ۔ کیمروں سے اوجھل ہونے کے بعد دھرنوں کے شرکاءبھی یقینا اب تھک چکے ہوں گے۔ ہرروزبریکنگ نیوزدینے والے لیڈروں کے تھیلے بھی شاید اب خالی ہو گئے ہیں، کچھ نیا سامنے نہیں ارہا ۔بلی تھیلے سے باہر آنے کی اصطلاح جو کبھی اعلان تاشقند کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے سے استعمال ہوئی تھی اب یہ اصطلاح مستقل ہمارے سیاسی گنجلکوں کا حصہ بن گئی ۔ نہ تھیلے ختم ہوتے ہیں نہ بلیاں تھیلے سے باہر آتی ہیں۔ ہماری اشرافیہ امیر سے امیر ترہوتی جارہی ہے قرضوں کا مینار بھی بلند سے بلند تر ہوتا جارہا اورغربت کی لکیر سے نیچے عوام کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے ۔ ہرشاخ پہ الّو نہیں کارٹل بیٹھا ہے۔چینی کارٹل،سیمنٹ کارٹل،گھی کارٹل، سریا کارٹل ،بنک کارٹل یہ سارے کارٹل غریب کی دہاڑی کے خلاف ہیں جنھوں نے منڈی کی تجارت کو جو سرمایہ کاری نظام کی بنیاد تھی گرا کے رکھ دیا ہے ۔
بھٹو نے سوشلزم کا نعرہ لگایا اور پھر سوشلزم کے نام پر بد ترین حکمرانی کی ۔ ایک جاگیردار نے روٹی کپڑا، مکان اور جاگیرداری کے خاتمے کا نعرہ لگایا مگر اقتدار میں آکرجاگیرداری کو فروغ دیا

جس سے سوشلزم بدنام ہوا۔ بھٹو نے زیر حراست خود بیان دیا تھا نہ جانے انکل سام میرے پیچھے کیوں پڑا ہے میں نے تو وہ کام کر دکھایا جو سی آئی اے نہ کر سکی برما کی سر حدوں پر سوشلزم کے آگے بند باندھ دیا ۔ ضیاء الحق نے چند اسلامی سزائوں کا اطلاق کرکے اسلام کو محض سزائوں کانظام بنا دیا اور اس میں جزا کا لازمی عنصر ہے، بالکل مفقود ہوگیا دوسرے اسلام کے نام پر فرقہ پرستی پھیلی ۔ پھر سیاست کے تھیلے سے اقتدار کی ایسی بلیاں نمودار ہوئیں جنھوں نے قومی خزانے پر اپنے پنجے گاڑ دیئے۔ بھارت ہمیں چاروں اطراف سے گھیرچکا ہے اور ہماری اشرافیہ چاہے وہ پارلیمنٹ کے اندر ہے یا باہر اثاثوں کی لوٹ کھسوٹ اورغیر ممالک میں سرمائے کی منتقلی میں مشغول ہےاور بیچارے عوام کو ہرا ہرا دکھا رہی ہے ۔ شاید اس کو ملک کی عدمِ استقامت کا یقین ہے جو انتہائی غیرذمہ دارانہ حرکات کی مرتکب ہو رہی ہے۔ اس میں جاگیرداروں ،سرمایہ داروں اور بیوروکریٹس کسی کوکو ئی تخصیص نہیں ،سب اسی حمام میں ہیں۔
تین سو کنال پر مشتمل بنی گالہ کے محل کا مکین عمران خان کس برتے پررائے ونڈ پیلس کے مکینوں پر تنقید کر تا ہے کیا وہ عوام کا ہم حال ہے ۔ جب اقتدار سامنے ہو تو لگژری کنٹینرز میں آرام کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ کاش وہ بنی گالہ میں ایک عدد اسپتال میڈیکل کالج تحریک انصاف کا آفس اور ایک چھوٹا سا اپنے لئے آشیانہ بنا لیتا تواس کے مستقبل کے پلان قوم کو نظرآجاتے مگر جو قوم کا ہم حال بننے کو تیار نہیں وہ قوم کے حقوق کا امین کیوں بننا چاہتا۔ دھرنے اورپارلیمنٹ ایلیٹ کی مسابقت کا رَن ہے ، اقتدار کے کیک کے بڑے ٹکڑے کے حصول کا مقابلہ ہے ،عوام کے مفاد کا محافظ وہ ہو گا جو عوام کا ہم حال ہو گا ،ہم حال ہی ہم خیال ہو سکتا ہے جس نے بھوک سہی نہیں اسے کیسے معلوم ہو گابھوک کیا ہوتی ہے جس نے دھوپ دیکھی نہیں اسے کیسے معلوم ہو گا دھوپ کیسے جلاتی ہے ۔چک شہزاد کے 80کنال کے پیلس کا قیدی کراچی زمزمہ میں مقیم ہے ۔عدالت بھی لگ رہی ہے ، ملزم حاضری سے مستثنیٰ نہیں مگر حاضر بھی نہیں،مقدمہ پھر بھی چل رہا ہے۔عوام اور ایلیٹ کیلئے الگ الگ قوانین کا تماشہ ہم سب دیکھ رہےہیں ۔ خفیہ والوں کی سرگرمیوں کا تذکرہ ہمہ وقت زیر بحث رہتا ہے ،ظاہر ہے وہ بھی اقتدار کے اسٹیک ہولڈر بن چکے ہیں الگ رہنے سے تو رہے ۔ حسین حقانی یاہو پر اپنے شائع شدہ بلاگ میں بڑی دور کی کوڑی لائے ہیں کہ دھرنے دسمبر سے قبل پانچ ریٹائر ہونے والے جرنیلوں کا کارنامہ ہیں ۔یہ پانچوں بہت طاقتور ہیں یہ پانچوں جنرل کیانی کے تعینات شدہ ہیں ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل راحیل طاقتور ہوجائیں گے محض شیطانی شوشہ ہے۔ یقینا دھرنوں کے پیچھے خفیہ ہاتھ ہو گا مگرکٹا ہوا نہیں مکمل صحیح سالم ۔ ایک لیڈی اینکر اور ایک تجزیہ نگار نے ابتداء میں ہی کہہ دیا تھا حکومت اور فوج میں مفاہمت ہو گئی ہے ۔ وزیر اعظم بے پر کی اڑا رہے تھے انہیں احساس دلا دیا گیا ہے کہ ان کے پر اتنے مضبوط نہیں۔ دھرنے والوں کی جھولی میں کچھ نہیں پڑا۔عمران کا تازہ بیان امید نہیں،مایوسی کا غماز ہے۔ کاش وہ ہاتھوں کی صفائی کو سمجھ جاتے اور استعفے کے بغیر بہت کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ دھرنے کے شرکا ء کوسمجھا سکتے تھے استعفیٰ دیگر شرائط منوانے کیلئے ایک لیوریج تھا مگر وہ شیخ رشید کے فلسفے کی سیاست کا شکارہو گئے ۔ احتجاج ہوتے ہیں مگر اپنی ڈیمانڈ رجسٹر کرانے کیلئے ہیں۔ سیاست میں واپسی کا راستہ ہمیشہ کھلارہتا ہے۔ سیلاب کی آمد بھی واپسی کا ایک اچھا بہانہ بن سکتا تھا ۔ احتجاج کو دوماہ کے لئے موخر کرکے واپسی کی راہ نکالی جاسکتی تھی، دھرنوں کی طوالت ناکامی کا موجب بن سکتی ہے ۔اب بھی تسلیم شدہ پانچ پوائنٹ کوعدمِ یقین سے عبارت اورطاقتور کی ضمانت سے نتھی کرکے با عزت واپسی کا راستہ بنایا جا سکتا ہے۔ مجھے اب بھی یقین ہے خفیہ والے کسی طور اپنے مہرے ضائع نہیں ہونے دیں گے ماضی میں انکا ایسا کوئی ٹریک ریکارڈ نہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں