آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 9؍صفر المظفّر 1440ھ 19؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
یہ معاملہ قطعاً مشتبہ نہیں ہے کہ بھارت اپنے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے اور داخلی سیاست میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لئے عشرے میں ایک آدھ بار کشیدگی کشیدگی ، جنگ جنگ کا ناٹک پیش کرتا ہے۔ اب جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم نواز شریف کی کشمیر کے موضوع پر مدلل تقریر عالمی برادری نے سماعت کی تو اس کے اثر کو زائل کرنے کےلئے اور کشمیر میں جاری سیاسی جدوجہد کو متشدد تحریک کے طور پردنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے سرحدوں پر موجودہ صورتحال کا ڈرامہ کیا گیا۔ وزیر اعظم نوازشریف کا ابتدائی کلام، اختتام کلام اور حاصل کلام ہمیشہ کشمیر ہی رہا کیونکہ جنوبی ایشیا کی بدحالی میں یہ مسئلہ ہی سر فہرست ہے ورنہ سب کچھ مناسب راہ پر چلایا جا سکتا ہے۔ بھارت کی اس خواہش کو کہ پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کردیا جائے۔ ماسوائے پسماندہ سوچ کے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان عالمی برادری کا ایک اہم رکن ہے۔ اپنے جغرافیہ ، افرادی طاقت اور فوجی و اقتصادی اہمیت کے باعث پاکستان کو تنہا کرنے کی خواہش ایک دیوانے کے خواب کے سوا کچھ نہیں۔ مگر ہمیں اس پر توجہ دینی چاہئے کہ ہمارا دفتر خارجہ کس حد تک متحرک ہے۔ متحرک ہونے کا سادہ پیمانہ یہ ہے کہ پاکستان کے سفارتخانے نے کیپٹل ہل کے کتنے دورے کئے۔ جبکہ بھارت کا سفارتخانہ کتنا

وہاں موجود رہا۔ جواب میں افسوس شامل ہو گا۔ پاکستان کے وزیر اعظم اپنی ایک علیحدہ شناخت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پاکستان روس تعلقات میں جمی برف کو پگھلانے کا فیصلہ کیا اور اس میں کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ روسی قیادت سے مل کر شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت حاصل کی جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ مگر محسوس یہ ہوتا ہے کہ دفتر خارجہ اتنا متحرک نہیں ہے جتنا ہونا چاہئے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے حوالے سے رکنیت کے بعد کچھ پروٹوکول پورے کرنا ہوتے ہیں۔ جو ہمارے دفتر خارجہ کی جانب سے ندارد ہیں۔ جبکہ بھارت یہ پروٹوکول پورے کررہا ہے۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے سے پہلے پاکستان اور سوویت یونین کے پاس ایک دوسرے کا تجارتی مال موجود تھا۔ اس حوالے سے ایک تنازع پیدا ہو گیا۔ روس کے قوانین کے تحت اگر کسی ملک سے مالی معاملات میں تنازع ہو تو وہاں سرمایہ کاری نہیں کی جا سکتی۔ مگر نوازشریف کے گزشتہ دورہ ماسکو کے دوران یہ معاملہ بھی طے پا گیا ۔ روس نے اس حوالے سے ایک ورکنگ پیپر پاکستان کے دفتر خارجہ کے حوالے کیا تا کہ پاکستان اس حوالے سے اپنی ترجیحات بیان کرے۔ ایک روسی وزیر کو رواں ماہ پاکستان کا دورہ بھی کرنا ہے تاکہ سرمایہ کاری پر پیش رفت ہو سکے۔ مگر دفتر خارجہ اس حوالے سے بھی کوئی سرگرمی نہیں دکھا رہا۔ روس نے جو ورکنگ پیپر تیار کر کے دیا تھا اس پر کوئی جواب دفتر خارجہ کی جانب سے نہیں دیا جا رہا۔ حالانکہ روس کی مستقبل کی حکمت عملی یہ ہے کہ اس مسئلے کے حل کے بعد روسی صدر پیوٹن پاکستان کا دورہ کریں جس میں وہ اسٹیل مل کی بحالی میں روس کے تعاون کا اعلان کریں۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم کے گزشتہ دورہ ماسکو کے دوران برس ہا برس سے لگی دفاعی پابندیاں روس اٹھا چکا ہے اور اس شعبے میں بہت گنجائش ہے مگر نا جانے کیوں دفتر خارجہ ان کامیابیوں پر اتنی توجہ نہیں دے رہا جتنی دینی چاہئے ۔ یہ کیفیت بار بار محسوس ہورہی ہے۔ جاپان سے پاکستان کے دیرینہ تعلقات ہیں اور جاپان کی حیثیت بھی مسلم ہے۔ گزشتہ برس اسحاق ڈار کے دورہ ٹوکیو کا مقصد بھی ان تعلقات کو مزید مستحکم کرنا تھا۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ دفتر خارجہ نے جاپانی سفیر کی درخواست کے باوجود گزشتہ 6 ماہ سے ان کی وزیر اعظم سے ملاقات کا انعقاد نہیں کروایا۔ سفارتی امور کو جاننے والے اس کے منفی نتائج کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ وزیر اعظم کے دورہ اوسلو کے بعد ناروے وہ دوسرا بڑا ملک ہے جو پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ لیکن مسائل کا ایک انبار ہے جن کی جانب ناروے کا سفارتخانہ پاکستان کے دفتر خارجہ کی توجہ مبذول کروانے کی جدوجہد میں مصروف ہے مگر ناکام ہے، مثال کے طور پر عرض کروں کہ سندھ میں لگائے گئے سولر پروجیکٹ کا ٹیرف ہی طے نہیں ہو رہا۔ لو کر لو گل۔ چین پاکستان کی دوستی صرف الفاظ کی حد تک نہیں ہے ۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ چینیوں کو پاکستان میں درپیش مشکلات کا ازالہ ترجیحی بنیادوں پر کرے۔ یہ دوستی کا تقاضا بھی ہے اور دونوں برادر ممالک کی ضرورت بھی ۔ مگر افسوس کے ساتھ بیان کرنا پڑ رہا ہے کہ ان کو مشکلات جب درپیش ہوتی ہیں تو دفتر خارجہ ہاتھ کھڑے کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پر OGDCL سے ایک چینی کمپنی نے معاہدہ کیا ۔ معاہدے میں بتایا گیا کہ اس میں سیلز ٹیکس شامل ہے۔ لہٰذا چینی کمپنی نے اپنا کام شروع کر دیا۔ جب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا تو ان کو بتایا گیا کہ سیلز ٹیکس OGDCL کی بجائے آپ کی جیب سے ادا ہو گا تو انہوں نے پروٹوکول کے مطابق دفتر خارجہ سے رابطہ کیا تاکہ شنوائی ہو سکے۔ دفتر خارجہ نے شنوائی کے بجائے چینی کمپنی کو یہ نادر نسخہ تجویز کیا کہ آپ OGDCL پر مقدمہ کردیں۔ وہ ہکا بکا رہ گئے ۔ کہ ہم یہاں سرمایہ کاری کرنے آئے ہیں یا قانونی معاملات بھگتانے؟ حاصل کلام یہ ہے کہ بھارت اپنی خواہش کے مطابق پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششوں میں سر کھپاتا رہے۔ مگر وزیر اعظم نوازشریف کی ذاتی مساعی کے سبب پاکستان کے لئے نئے دروا ہو رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیر اعظم ان مسائل پر بھی براہ راست توجہ دیں۔ تا کہ پاکستان اور ان کی حاصل کردہ کامیابیاں کسی زنگ کا شکار نہ ہو سکیں۔


.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں