آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریک انصاف کو بت تراشنے، انکی آرائش کرنے اور پھر انہیں سربازار پاش پاش کرنے میں ملکہ حاصل ہے۔ اس ضمن میں کوئی ایک فرد، ادارہ یا گروہ ہی ز د میں نہیں آیا بلکہ مضروبین کی فہرست بہت طویل ہے۔ دو ہزار دس میںجیو جیسے ٹی وی چینل پر طویل ٹیلی تھون کرنے کے بعد، پارلیمنٹ کے فلور پر امن کی آشا کی تعریف کرنے کے بعد، اچانک ہی یہ چینل غدار قرار دے دیا گیا۔ چیف جسٹس بحالی تحریک میں بھرپور حصہ لینے کے بعد ، اس تحریک کی کامیابی کا سارا کریڈٹ لینے کے بعد ،سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ساتھ کنٹینر پر جو کچھ کیا گیا وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔فخر الدین ابراہیم پر مکمل اعتماد دکھانے کے بعد ، اس اعتماد کی مسلسل توثیق کے بعد ،اچانک ہی اس بزرگ نیک طینت شخص کو اس قوم کا سب سے بڑا ولن بنا دیا گیا۔مرد جمہوریت کو پارٹی کی صدارت سونپنے کے بعد،انکی شمولیت کو تحریک انصاف کے لئے اعزاز قرار دینے کے بعد، جاوید ہاشمی کو بھی باغی سے داغی بننے میں زیادہ دیر نہیں لگی ۔حامد خان بھی ابتدائی مزاحمت کے بعد کسی گوشہ گمنامی میں گم ہو گئے ۔جسٹس وجیہہ الدین کے علم اور تجربے کی جگہ جگہ تعریف کرنے کے بعد، پارٹی کے تمام قانونی معاملات انکے سپرد کرنے کے بعد ، صدارتی انتخاب میں انہیں اپنا امیدوار نامزد کر نے کے بعد ،اچانک ہی انہیں پارٹی کو سب سے

زیادہ نقصان پہنچانے والے شخص کا لقب دے دیا گیا۔یہ فہرست بہت طویل ہے لیکن اسکا تازہ ترین شکار نئے پاکستان کی خاتون اول محترمہ ریحام خان صاحبہ ہیں۔جب دھرنا اپنے پورے عروج پر تھا، وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ روز برو ززور پکڑتا جا رہا تھا، نئے پاکستان کا نعرہ کارکنوں کے دلوں میں دھڑک رہا تھا،حکومت لرزہ بر اندام تھی ، فوج صورت حال کا بغور جائزہ لے رہی تھی، بین الاقوامی میڈیا تبدیلی کے اشارے دے رہا تھا۔ پاکستانی چینلز پر ہر طرف اور ہر وقت دھرنا دھرنا ہو رہا تھا اس وقت ایک دن کنٹینر پر چڑھ کر عمران خان نے یہ انکشاف کیا کہ وہ نیا پاکستان اس لئے بنانا چاہتے ہیں کہ شادی کر سکیں۔ جذبات سے مغلوب ہجوم ایک لمحے کو سناٹے میں آگیا۔نعرے لگتے لگتے یکدم خاموشی سی چھا گئی۔ٹی وی سے چپکے نئے پاکستان کے منتظر عوام ششدر رہ گئے۔ لمحوںمیں وہ چینل جو پہلے وزیر اعظم کے استعفے کے مطالبے کی خبریں دے رہے تھے وہاں شادی کے گیت بجنے لگے۔ شہنائیوں کی آواز گونجنے لگی۔ سنجیدہ صفت کارکن اس لازوال انکشاف پر اس لئے کچھ بد مزہ سے ہو ئے کہ سیاسی مبصرین ملکی ترقی اور خوشحالی کے خواب کو چھوڑ کر نئے پاکستان کی خاتون اول کی تلاش میں لگ گئے۔ سنجیدہ بحث کے بجائے اب شادی کے لباس، اس مبارک موقع پر کھانے کا انتظام اورولیمے کے مقام موضوع بحث بننے لگے۔دھرنے کے اختتام پر ، نئے پاکستان کی تکمیل کے بغیر ہی شادی کا قرعہ فال ریحام خان کے نام نکلا جو ایک جانی پہچانی ٹی وی اینکر ہیں۔ ایک معتبر پاکستانی چینل پر کام کرنے کے علاوہ بی بی سی جیسے معروف ادارے میں بھی کام کر چکی ہیں۔ عمران خان نے اگرچہ وزیر اعظم کے استعفے تک دھرنا دینے کے وعدہ کو وفا تونہیں کیا مگر اپنے عروسی انکشاف کے بعد جلد ہی نہایت سادگی سے شادی کرنے کا وعدہ نبھایا اور میڈیا کی ایک معروف شخصیت کو تحریک انصاف کی بھابھی بنا دیا۔ یہاں سے بت تراشی کے عمل کا آغاز ہوا۔
دنوں میں تحریک انصاف کے جوشیلے کارکنوں نے ریحام خان کو قوم کی بھابھی قرار دے دیا۔ ایک معروف تجزیہ کارنے تو انہیں مادر ملت کا لقب بھی دے دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب بھابھی کی ہر بات اٹل ہوتی۔ ہر ٹوئٹ پر گھنٹوںسر دھنا جاتا۔ ہر انٹرویو پر دنوں تجزیئے ہوتے۔ لباس کی تراش خراش میںزمین آسمان کے قلابے ملا دیئے جاتے۔ گفتگو کے سلیقے کو سراہا جاتا۔ گھر گرہستی کی صلاحیتوں کی تعریف کی جاتی۔ ہر دورے کو بھرپور میڈیا کوریج ملتی۔ہر بیان کو سر آنکھوں پر رکھا جاتا اور ہر بات کو حکم کا درجہ ملتا۔ ریحام خان نے اس عرصے میں اپنا ٹی وی شو دوبارہ شروع کر دیا اور پہلا انٹرویو ہی خان صاحب کا کر ڈالا۔اس انٹرویو میں خان صاحب کی گھریلو زندگی کے بہت سے نئے اور دلچسپ پہلو لوگوں کو نظر آئے ۔ اس انٹرویو نے بہت داد سمیٹی اور اسکے ساتھ ہی بت تراشی کا مرحلہ آرائش و زیبائش کے مدارج میں داخل ہو گیا۔
ریحام خان نے شادی کے بعد اپنی سماجی مصروفیات میں اضافہ کر دیا۔ یتیم اور معذور بچوں کے لئے فلاحی کام ، عورتوں کے حقوق کے لئے میٹنگز ، مریضوں کی تیمارداری جیسے کاموں کی شہ سرخیاں بننے لگیں۔ان تمام کاموں میں سیاست کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ دنیابھر میں سربراہان مملکت اور اپوزیشن لیڈر کی بیگمات اسطرح کی سماجی سرگرمیوں میں حصہ لے کر اپنے اپنے خاوندوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اور انکی اسطرح کی سرگرمیاں قابل تعریف سمجھی جاتی ہیں۔ تحریک انصاف کے معتبر حلقوں میں ان سرگرمیوں کی بے پناہ تعریف ہوئی اور حتی کہ جب ریحام خان گیارہ دن بعد کراچی میں گرمی کی حدت سے بیمار ہوجانے والوں کی عیادت کو پہنچیں تو اگرچہ اسپتال میں اس بیماری میں مبتلا سب مریض ڈسچارج بھی ہوچکے تھے تب بھی تحریک انصاف کے اندرونی حلقے تعریف کے کلمات ہی کہتے رہے۔ بت شکنی کے مرحلے کا اصل آغاز ہری پور کے ضمنی الیکشن سے ہوا۔
دھرنے کی ناکامی کے بعد تحریک انصاف کی مقبولیت میں واضح کمی آئی۔ سنجیدہ طبقوں نے نئے پاکستان کے نعروں کو بہت سنجیدگی سے لینا چھوڑ دیا۔ اس کا ثبوت وہ پانچ ضمنی انتخابات بھی ہیں جن میں تحریک انصاف کو واضح شکست ہوئی۔ خان صاحب کے نزدیکی مصاحبین اور دھرنے کے منصوبہ ساز اب کسی ایسے شخص کی تلاش میں تھے جس پر اپنی بری منصوبہ بندی اور ابتر کارکردگی کا الزام ڈال سکیں۔
ہری پور چھٹا معرکہ تھا۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کا علاقہ ، رینجرز کی نگرانی اور بائیومیٹرک سسٹم موجود تھا۔ یہاں ریحام خان نے پہلی دفعہ کسی جلسے سے خطاب کیا اور خطاب میں بہت معصوم اور گھریلو سی باتیں کیں۔ دھیرے دھیرے انداز میں کچھ کہتے نہ کہتے سیاست میں آنے کا عندیہ بھی دیا۔ منصوبہ ساز اسی موقع کی تلاش میں تھے ۔ جیسے ہی ہری پور کا نتیجہ چینلوں کی اسکرین پر جگمگایا اس کے ساتھ ہی ریحام خان پرشدید تنقید کا آغاز ہو گیا۔ وہ بھابی کی سیڑھی سے اتر کر فورا ًپی ٹی آئی کو سب سے زیادہ نقصان
پہنچانے والی شخصیت بن گئیں۔ یہ بات اب کسی سے چھپی نہیں رہی کہ سوشل میڈیا پر ریحام خان پر ہونے والی تنقید میں پی ٹی آئی کے بہت سے آفیشل بھی شامل تھے۔ دنوں میں ریحام خان پر پارٹی پر قبضے کے الزامات لگنے لگے۔ سوشل میڈیا پر یہاں تک کہا گیا کہ جو کردار آصف زرداری نے بے نظیر کی زندگی میں ادا کیا ہے ریحام خان وہی کردار عمران خان کی زندگی میں ادا کرنے آئی ہیں۔ قصہ مختصر عمران خان نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے ریحام خان کو پارٹی معاملات میں ہر قسم کی سیاسی مداخلت سے منع فرما دیا۔ اپنی شریک زندگی سے سوشل میڈیا پر اسطرح مخاطب ہو نے کا انداز بہت سوں کو برا لگا۔ مگر درون خانہ اب بت پاش پاش کرنے کا مرحلہ شروع ہو چکا تھا جسے روکنا اب عمران خان کے بس میں بھی نہیں تھا۔
حقیقت تو یہ کہ ہری پور کی شکست میں ذرہ بھر قصور ریحام خان کا نہیںتھا ۔ قصور تحریک انصاف کے ان منصوبہ سازوں کا ہے جو مسلسل ناکامی کے اس دور میںہر و قت ایک ایسے شخص کی تلاش میں رہتے ہیں جس کو پارٹی کی ناکام کارکردگی کا مورد الزام ٹھہرایا جا سکے ۔ جسکے بت کو سربازار دھڑام سے گرایا جا سکے۔اب پھر بہت اہم ضمنی انتخابات کا چرچا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے اس دفعہ بت کون بنتا ہے، زیبائش کس کی ہوتی ہے اور پاش پاش کس کو کیا جاتا ہے۔ بظاہر تو یہ روز بروز کی توڑ پھوڑ اور درون خانہ شکست و ریخت کسی بڑے انہدام کا پتہ دیتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں