آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
میرے بڑے بھائی یٰسین صاحب 1957ء میں گریجویشن کے بعد انگلینڈ کے شہر لندن چلے گئے اور وہیں پر مستقل سکونت اختیار کر لی۔ پاکستان بھر میں سیاستدانوں‘ تاجروں‘ صنعتکاروں‘ جرنیلوں‘ بیورو کریٹس کے ساتھ ان کے وسیع اور گہرے تعلقات تھے۔ سید مودودی‘ میاں طفیل محمد‘ پروفیسر غلام اعظم‘ ارباب سعید خان‘ مخدوم میراں شاہ‘ پیرا پگاڑا شریف‘ مخدوم حسن محمود‘ مخدوم سجاد حسین قریشی‘ چوہدری ظہور الٰہی‘ رانا خداداد خاں‘ جنرل شیر علی‘ بریگیڈیئر ضیاء الحق جو بعد میں جنرل ضیاء الحق اور پاکستان کے صدر بنے۔ اسی طرح چین اور مشرق وسطیٰ میں بھی ان کے وسیع تعلقات تھے۔ پھر ڈاکٹر بشارت الٰہی اور جنرل ضیاء الحق کے ساتھ دوستی کی وجہ سے نئی نسل کے سیاستدان بھی ان کے حلقہ احباب میں شامل ہو گئے( اب تو مذکورہ نئی نسل بھی پرانی ہو چکی)۔ جاوید ہاشمی ان کیلئے چھوٹے بھائی تھے‘ جوں ہم ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین‘ پرویز الٰہی‘ شاہ محمود قریشی بھی اپنے والدین کے تعلق کی وجہ سے ان کا احترام کرتے اور وہ بھی ان سے خصوصی تعلق خاطر رکھتے ہیں۔ نئی نسل کے ان دوستوں میں میاں نوا زشریف‘ چوہدری عبدالغفور‘ صدیق کانجو اور بہت سے اور بھی شامل ہیں۔ صدیق کانجو وزیر خارجہ بنے تو یٰسین بھائی کیلئے یہ کافی حیران کن تھا۔ دنیا بھر میں منجھے ہوئے‘ سنجیدہ‘

بردبار‘ باریک بین اور دور اندیش لوگوں کو اس منصب کیلئے چنا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی چوہدری ظفر اللہ خان‘ منظور قادر‘ شریف الدین پیرزادہ‘ ذوالفقار علی بھٹو‘ آغا شاہی‘ صاحبزادہ یعقوب علی خان جیسے مدبر اس عہدہ جلیلہ پر فائز رہے۔ کانجو صاحب کا اس منصب پر ہونا کچھ اچنبھے کی بات تھی‘ چنانچہ ایک دن بھائی نے کانجو صاحب سے پوچھا! آپ وزیر خارجہ کیسے بن گئے؟ یہ تو بہت مشکل اور سنجیدہ کام ہے؟ بولے! مجھے خود بھی اس کی خبر نہیں آپ وزیراعظم سے پوچھئے گا‘ وہی اس کا جواب دے سکتے ہیں۔ جب کبھی ان کی ملاقات میاں نواز شریف صاحب سے ہوئی تو انہوں نے صدیق کانجو کے وزیر خارجہ بنائے جانے کی وجہ دریافت کی تو میاں صاحب نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ یٰسین صاحب! کانجو انگریزی بڑی اچھی بولتا ہے۔ تب انہوں نے کہا‘ پھر آپ میرے بیٹے ظفر کو وزیرخارجہ بنا دیتے‘ وہ یہیں پیدا ہوا اور انگلینڈ کے بہترین سکول سے انگلش پڑھی۔ مختصر یہ کہ میاں صاحب کے نزدیک جو شخص ان سے اچھی انگریزی بول سکتا ہو‘ وہ وزیر خارجہ بننے کیلئے ’’میرٹ‘‘ پر پورا اترتا ہے۔ کسی ریاست میں قائم ہونے والی حکومت کی پہلی ضرورت ’’مالی وسائل‘‘ کی فراہمی ہے۔ حکومت کے اولین فرائض‘ جان و مال کے تحفظ‘ قومی دفاع‘ تعلیم‘ صحت‘ روزگار اور اداروں کی تشکیل ضروری مالی وسائل کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی اور مالی وسائل ایک بہترین معاشی پالیسی کے بغیر ممکن نہیں اور بہترین معاشی پالیسی زیرک‘ محنتی‘ باریک بین ‘ بلند نظر معیشت دان ہی بنا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی حکومت میں سربراہ حکومت کے بعد سب سے طاقت ور اور فعال عہدہ وزیرخزانہ کا ہوتا ہے۔ جس طرح ’’مائیکروسافٹ ‘‘اور ’’گوگل‘‘ کا اکائونٹ غلہ منڈی کی آڑھت کا منشی نہیں سنبھال سکتا کہ اس کیلئے چارٹرڈ اکائونٹینٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح چارٹرڈ اکائونٹینٹ حکومت اور ریاست کی معاشی پالیسی نہیں بنا سکتا‘ اس کیلئے زیادہ علم اور وسیع نظر کی ضرورت ہے جو معاشی تاریخ سے واقف ہو‘ ریاست کی ضرورتوں سے آگاہ رہے اور معاشی پیداوار کے ہر حد و امکان سے واقف ہو اور قومی پیداوار بڑھانے کی استعداد رکھتا ہو۔
وزیراعظم نے بدترین تجربات سے گزرنے کے باوجود دوسری مرتبہ اسحق ڈار کو وزیر خزانہ مقرر کیا۔ ان کا خیال ہے جس طرح انگریزی بول سکنے والے صدیق کانجو وزارت خارجہ کیلئے اہل ہو سکتے ہیں‘ اسی طرح جو شخص چارٹرڈ اکائونٹنٹ ہو اور ان کا دوست ساتھی اور ان کی برادری کا ہو وہ وزیر خزانہ بن سکتا ہے۔ یہ صرف میاں نواز شریف صاحب کا ہی المیہ نہیں ہے‘ بدقسمتی سے ساری جمہوری حکومتوں کا رویہ اسی طرح کا رہا ہے۔ ان کے دور حکومت میں ملک کی معاشی حالت اور پیداواری صلاحیت کو ناقابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا‘ جمہوریت سب کو چاہئے مگر جمہوریت پاکستان کیلئے ہمیشہ بدقسمتی بن کر نازل ہوئی ہے!!حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب کی طرح‘ پاکستان کے فرعون بارہ سال کی خوشحالی کے بعد جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں‘ جمہوریت کی قحط سالی اگلے برسوں میں اسے چٹ کر کے زمینوں کو بنجر بنا ڈالتی ہے۔ قیام پاکستان سے آج تک اگر اعدادو شمار پر نظر ڈالی جائے تو بقول آصف زرداری‘ جمہوریت بہترین انتقام قرار پائے گی ‘ وہ بھی اپنے عوام سے‘ اپنے زمیندار‘ اپنے صنعت کار سے اور اپنے ملک کے فعال اداروں سے۔ 1947ء میں ہمارے پاس اپنا سکہ نہیں تھا‘ قومی بینک نہیں تھا‘ صنعت ناپید تھی‘ سڑکیں بنی نہیں تھیں‘ زراعت کیلئے مشینوں کا رواج نہیں تھا‘ چھوٹی سی فوج کیلئے پوری بندوقیں اور گولہ بارود نہیں تھا‘ حتیٰ کہ دو کاغذ جوڑنے کیلئے ’’پن‘‘ نہیں تھی‘ کیکر کے کانٹے ’’پن‘‘ کی جگہ لگائے جاتے تھے‘ انڈیا نے ہمارے حصے کا روپیہ دیا نہ سازو سامان‘ اس پر مستزاد یہ کہ دنیا کی سب سے بڑی ہجرت کا سامنا ہوا‘ تقریباً ایک کروڑ لوگ‘ بے سرو سامان کے ملک پاکستان کی طرف ہجرت کر آئے‘ لوگوں کا حسن سلوک تھا کہ اس افراتفری میں ایک بچے کو بھی بھوک سے مرنے نہیں دیا گیا‘ سب کی ضرورتیں پوری ہوئیں اور جلد ہی انہیں معاش کے ذرائع اور سر چھپانے کو چھت مہیا کر دی گئی‘ ساتھ ہی سیلاب کی تباہ کاری اور ا سے پانچ گنا بڑے ملک کے ساتھ جنگ کے مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ تب ہنگامی طور پر قائم ہونے والی حکومت اور ان کی معاشی ماہرین کی ٹیم کی مہارت‘ دردمندی اور محنت کا ثمر دیکھئے کہ مصیبت کے ان دنوں میں جب اسٹیٹ بینک قائم کرنے کیلئے ملک کے چند خوشحال لوگوں نے بھاری عطیات فراہم کئے‘ ان نامساعد حالات میں پاکستان کے روپے کی قدر اتنی مستحکم تھی کہ ایک ڈالر کی قیمت پاکستان کے ایک روپے کے برابر تھی۔ 1947ء سے 1954ء تک جب قائداعظم کے ساتھی حکومت چلاتے اور ملک غلام محمد‘ چوہدری محمد علی ایسے لوگ وزارت خزانہ چلایا کرتے تھے‘یہ واحد زمانہ ہے جب نہ صرف روپیہ ڈالر کے برابر رہا بلکہ کسی بھی ملک سے ایک پیسہ قرض لئے بغیر پاکستان میں منافع کا بجٹ بنتا رہا۔ یہ زمانہ ہے جب ریاست کے اخراجات حکومت کے وسائل سے کم ہوتے تھے‘ حالانکہ اس وقت مشرقی پاکستان کی پٹ سن کیلئے کارخانے تھے نہ مغربی پاکستان کی کپاس کیلئے ’’ملیں‘‘ بنی تھیں۔ جو ملیں اور کارخانے تھے وہ انڈیا کے پاس رہ گئے تھے اور انڈیا نے پاکستان کا خام مال خریدنے سے انکار کر دیا تھا۔ ابتدائی دور کے ان سیاستدانوں نے مختصر عرصے میں کپاس کیلئے ملیںا ورپٹ سن کیلئے کارخانے بنا دیئے۔ اگلے تین چالیس برس تک انڈیا اس میدان میں پاکستان کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکا تھا۔ آمروں کے دور حکومت اور جمہوری ادوارکے پاکستان کی معاشی ترقی کا تقابل بہت دلچسپ ہو سکتا ہے لیکن اس کالم میں اس کا احاطہ ممکن نہیں‘ اسے آئندہ کی اشاعت تک اٹھا رکھتے ہیں لیکن یہ بات واقعی طے شدہ ہے کہ جمہوری حکومتوں نے پاکستان کی حقیقی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کبھی سنجیدگی سے کام نہیں لیا بلکہ وہ مجرمانہ غفلت اختیار کرتی رہی۔ جس حکومت سے جتنی زیادہ امیدیں ہو سکتی تھیں اس نے اتنا ہی مایوس کیا۔ بھٹو صاحب سے لوگوں کو امیدیں تھیںمگر انہوں نے ملکی صنعت و تجارت کو تباہ کر کے ملکی ترقی میں ایسی رکاوٹ پیدا کی کہ وہ دہائیوں میں بھی راہ نہ پکڑ سکیں۔ اس سے بدتر کارکردگی نواز حکومت کی رہی ہے۔ لوگوں نے ان کی کاروباری صلاحیت سے امیدیں وابستہ کیں مگر آج کی تازہ ترین خبر کے مطابق پاکستان دنیا بھر کے ممالک میں کاروباری سہولیات کے اعتبارسے 138 واں ملک قرار دیا گیا ہے یعنی بدترین میں سے ایک۔ واقعی جمہوریت بہترین انتقام ہے‘ اپنے ووٹر سے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں