آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ15؍ذوالحجہ 1440ھ 17؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
میرے گزشتہ کالم ’’رضاکارانہ ایمنسٹی اسکیم‘‘ پر بے شمار قارئین نے مجھے متضاد رائے بھیجیں جن میں سے زیادہ تر قارئین کا یہ کہنا تھا کہ اسکیم کے بعد حکومت کو کالے دھن روکنے اور انکم ٹیکس چوروں کے خلاف سخت اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ اسکیم سے معیشت کو دستاویزی بنانے کے مطلوبہ مقاصد حاصل کئے جاسکیں۔ میں نے بھی اپنے گزشتہ کالم میں حکومت کو یہی مشورہ دیا تھا۔ کالے دھن کا ایک ذریعہ حوالہ یا ہنڈی ہے اور آج کا میرا کالم اسی موضوع پر ہے۔
حوالہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی منتقل کرنے کے ہیں اور یہ نظام اعتبار و اعتماد کی بنیاد پر برصغیر پاک و ہند میں تقریباً ایک صدی سے رائج ہے۔ چین میں اسے Fei-chien، ہانگ کانگ میں Hui Kuan، پاکستان اور بھارت میں ’’ہنڈی‘‘، مشرق وسطیٰ میں ’’حوالہ‘‘، فلپائن میں Padala اور تھائی لینڈ میں Phei Kwan کہا جاتا ہے۔ حوالے کا نظام افغانستان جیسے ممالک اور شہروں میں زیادہ تر مقبول ہے جہاں موثر بینکنگ نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔ ماضی میں حوالہ اور بینکنگ چینل سے رقوم بھیجنے کے کم ایکسچینج ریٹ کی وجہ سے بیرون ملک مقیم ورکرز اپنے پیسے حوالے کے ذریعے بھیجنے کو ترجیح دیتے تھے لیکن اب ایکسچینج ریٹ کا یہ فرق اور ترسیلات زر کے چارجز نہایت کم ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان بینکوں کے ذریعے ترسیلات زر وصول کرنے

والے 10 سرفہرست ممالک میں شامل ہوگیا ہے جن میں بنگلہ دیش، چین، مصر، بھارت، لبنان، میکسیکو، نائیجریا، فلپائن اور ویت نام بھی شامل ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی کوششوں سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بینکنگ سہولتیں فراہم کرنے سے ان کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جو 18 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ چکی ہیں لیکن پاکستان ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشنز کے سیکرٹری کے مطابق اب بھی بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ہر سال تقریباً 15 ارب ڈالر بینکنگ چینل کے بجائے حوالہ یا ہنڈی کے ذریعے پاکستان بھیجے جارہے ہیں جو ہماری غیر دستاویزی معیشت کا حصہ بن رہے ہیں اور اس کی وجہ سے آج غیر دستاویزی معیشت ہماری دستاویزی معیشت کے برابر پہنچ چکی ہے۔
حوالہ اور ہنڈی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بینکنگ چینل کے بغیر رقوم بھیجنے کو نہیں بلکہ اس میں پاکستان سے غیر قانونی اربوں ڈالر سالانہ حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک بھیجنا بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ امپورٹرز ہر سال چین اور دیگر ممالک سے کسٹم ڈیوٹی بچانے کیلئے اربوں ڈالر کی 50% تک انڈرانوائسنگ کرکے اشیاء کی قیمتیں کم ظاہر کرتے ہیں اور قیمتوں کے فرق کو وہ ہنڈی یا حوالے کے ذریعے عموماً دبئی سے اپنے ایکسپورٹرز کو بھیج دیتے ہیں۔ میرے اندازے کے مطابق 2015ء میں پاکستان کی چین سے ظاہر شدہ امپورٹ تقریباً 7ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے جبکہ دراصل چین سے پاکستان امپورٹ 10 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ اسی طرح خلیجی ممالک بالخصوص متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے امپورٹ میں بھی انڈرانوائسنگ کی جاتی ہے۔ سونے کی غیر قانونی طریقے سے ملک میں امپورٹ کی ادائیگی بھی ہنڈی یا حوالے کے ذریعے کی جارہی ہے کیونکہ قانونی طریقے سے سونا امپورٹ کرنے کیلئے بینک LC کھولنے کیلئے تیار نہیں جس کی وجہ سے جیولرز ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے مارکیٹ سے ڈالر خرید کر اس کی ادائیگی کرتے ہیں اور سرکاری طور پر سونے کی امپورٹ نہایت کم ظاہر کی جاتی ہے۔ ان مسائل پر قابو پانے کیلئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے حال ہی میں کراچی میں ایک میٹنگ کے دوران یہ اعلان کیا کہ کسٹم سے اس وقت تک کوئی کنسائمنٹ کلیئر نہیں کیا جاسکے گا جب تک امپورٹر کسٹم میں کنسائمنٹ کی مکمل آفیشل پیمنٹ کا ثبوت پیش نہ کرے۔اسٹیٹ بینک نے حال ہی میں بینکوں کو اس طرح کی پیمنٹ اوپن اکائونٹ کے ذریعے کرنے والوں کے خلا ف سخت ایکشن لینے کی ہدایت کی ہے۔ اس سلسلے میں FPCCI کی بینکنگ اینڈ فنانس کمیٹی کے چیئرمین ہونے کے ناطے بے شمار امپورٹرز نے مجھ سے رابطہ کرکے بتایا کہ وہ اپنے ایکسپورٹرز کو فائنل ادائیگی کئی ماہ بعد کرتے ہیں، اس لئے کنسائمنٹ کلیئرنس کے وقت مکمل آفیشل پیمنٹ کا ثبوت پیش کرنا ان کیلئے ممکن نہیں۔
کرپشن، ٹیکس چوری اور دیگر غیر قانونی طریقے سے کمائے گئے کالے دھن کی بیرون ملک بینکوں کے اکائونٹس میں منتقلی ہنڈی یا حوالے کے ذریعے ہی عمل میں آتی ہے۔ دنیا میں دہشت گردی کیلئے مالی امداد کا بڑا ذریعہ ہنڈی یا حوالہ ہے جس کے سدباب کیلئے حال ہی میں پاکستان میں ایف آئی اے نے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (FMU) تشکیل دیا ہے جو کسی بھی مشکوک بینکنگ ٹرانزیکشن کی جانچ پڑتال کے بعد اسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ریفر کرتا ہے تاکہ منی لانڈرنگ کو روکا جاسکے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ بے شمار پاکستانیوں نے اپنی ناجائز دولت منی لانڈرنگ کے ذریعے غیر ملکی بینکوں میں منتقل کررکھی ہے جبکہ حکومت کو ملک چلانے کیلئے عالمی مالیاتی اداروں سے قرضوں پر قرضے لینے پڑرہے ہیں۔ ملک میں ایک طرف حکمراں اور سیاستدان اربوں ڈالر کے مالک ہیں جن کے صرف سوئس بینکوں میں 200 ارب ڈالر جمع ہیں تو دوسری طرف عوام غربت اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اگر یہ ناجائز دولت وطن واپس لائی جائے تو صرف ایک دن میں پاکستان اپنے تمام بیرونی قرضوں سے چھٹکارا حاصل کرسکتا ہے۔ ہانگ کانگ شنگھائی بینکنگ کارپوریشن (HSBC) سوئٹزرلینڈ نے اپنی خفیہ رپورٹ میں بینک میں موجود 100 ارب ڈالر سے زائد رقوم کے اکائونٹس کے بارے میں تفصیلات دی ہیں جس کے مطابق 1970ء سے 2006ء کے دوران 338 پاکستانیوں نے اپنے 648 اکائونٹس میں 100 ارب ڈالر سے زائد کالے دھن سوئٹزرلینڈ منتقل کئے جس میں صرف HSBC پرائیویٹ بینک سوئٹزرلینڈ میں 859.70 ملین ڈالر منتقل کئے گئے۔ سوئس بینکنگ ایسوسی ایشن کی ایک دوسری رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے لوگ اپنی غیر قانونی دولت سوئٹزرلینڈ اور دوسرے ٹیکس سے مستثنیٰ ممالک میں رکھتے ہیں جس کی مجموعی مالیت تقریباً 32 کھرب ڈالر ہے جس میں سے صرف سوئس بینکوں میں 7 کھرب ڈالر جمع ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سوئس بینکوں میں بھارت کے 1456 ارب ڈالر، روس کے 470 ارب ڈالر، انگلینڈ کے 390 ارب ڈالر اور پاکستان کے 200 ارب ڈالر کا کالا دھن موجود ہے۔ اس کے علاوہ چین، میکسیکو، ملائیشیا، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے باشندوں نے بھی اپنے کالے دھن سوئس بینکوں میں جمع کرارکھے ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سوئس بینکوں میں منتقل کی گئی رقوم پاکستان کے اقتصادی نظام میں کرپشن، بد دیانتی، لوٹ کھسوٹ، کاروباری اور تجارتی معاملات میں اعلیٰ پیمانے پر ہونے والی ’’ڈیل‘‘ کا شاخسانہ ہے جس نے ملکی اقتصادی نظام، انتظامی و ریاستی اداروں میں موثر چیک اینڈ بیلنس اور مالیاتی شفافیت کے تمام خواب بکھیر کر رکھ دیئے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات، بااثر خاندانوں اور کالے دھن کی انڈر گرائونڈ معیشت کے بڑے کھلاڑیوں کے سوئس بینکوں میں رکھے گئے 200 ارب ڈالر سے زائد رقوم کی واپسی کیلئے کسی مصلحت سے کام نہ لے۔ گزشتہ سال پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے مابین ٹیکس معاہدے پر نظرثانی کی منظوری کے بعد 11سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کے غیر قانونی طور پر رکھے گئے 200 ارب ڈالر کے اکائونٹس کی تفصیلات جاننے کیلئے ایک پاکستانی وفد نے 26 سے 28 اگست 2015ء کو جنیوا کا دورہ کیا تھا لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سلسلے میں حکومت کیا عملی اقدامات اٹھاتی ہے۔بہرحال اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ رضاکارانہ ایمنسٹی اسکیم کی مدت ختم ہونے کے بعد حکومت کو ان تمام غیر قانونی ذرائع پر قابو پانا ہوگا جو کالے دھن میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں اور ہنڈی یا حوالے پر کریک ڈائون اسی سلسلے میں اہم پیشرفت ثابت ہوگی تاکہ رضاکارانہ ایمنسٹی اسکیم کے مطلوبہ نتائج حاصل کئے جاسکیں۔